سیاسی عدم استحکام اور جنونی ذہنیت؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 23 / جولائی / 2022
انگلینڈ میں زیر تعلیم دوست نے درویش سے سوال کیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کیوں مضبوط نہیں ہو سکی؟ پی ٹی آئی چیئرمین ہٹائے جانے کے باوجود پاپولر کیوں ہے ؟ اس کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہونے کے باوجود کیوں بک رہا ہے؟ جبکہ نواز شریف کا بیانیہ حقیقت پسندی اور سچائی کے باوجود کیوں فیل ہے ؟
ہمارے’’ لبرل ہیومن فورم ‘‘ میں بھی بہت سے دوست اس نوع کے سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آج پون صدی گزرنے کے باوجود پاکستان میں جمہوریت کیوں مضبوط نہیں، معاشی کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام کیوں ہے؟ اس کا پاپولر و روایتی جواب تو مطالعہ پاکستان والا ہی ہے لیکن روایتی جواب ناقابل ہضم ہے بہرحال درویش بچتے بچاتے یہ عرض گزار ہے کہ اس المیے کی جڑیں خود قیام پاکستان اور تحریک پاکستان میں پیوست ہیں۔ 1906میں جب بمقام ڈھاکہ مسلم لیگ قائم کی گئی تو اس کے بانیان سرسید کی علی گڑھ تحریک کے لوگ تھے جن کا مطمع نظر انگریز سرکار سے وفاداری استوار رکھتے ہوئے مسلمانوں کیلئے زیادہ سے زیادہ مفادات کا حصول تھا۔ جسے شک ہے وہ اس دور کی کتابیں، اخبارات اور مسلم لیگ کے دستوری مطالبات سمیت تمامتر روداد کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ یعنی ہمارا اولین قیام اسٹیبلشمنٹ کی مطابقت میں تھا بعد ازاں اس میں ہندو کی منافرت بھی شامل ہو گئی جو لیگی قیادت اپنے سیاسی مفادات کی خاطر پیہم بڑھاتی چلی گئی ۔
آگے بڑھ کر جناح صاحب کی مسلم لیگ کو بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کبھی بھی کانگرس کی طرح کوئی عوامی پارٹی نہیں رہی بلکہ ا س کا کردار پیہم کبھی کم کبھی زیادہ اسٹیبلشمنٹ کی ہمنوائی و مطابقت میں ہی رہا یا پھر جاگیرداروں اور ایلیٹ کلاس کی جماعت گردانی گئی۔ جسے شک ہے وہ آج بھی اقبال کے جناح کے نام خطوط ملاحظہ فرمالے جن میں موصوف کا یہ تقاضا چھایا ہوا ہے کہ لیگ کو کس طرح عوامی پارٹی بنایا جا سکتا ہے اور شاید ہی کبھی صدر لیگ نے ان خطوط کو درخور اعتنا سمجھا ہو یا ان کا جواب دینا بھی پسند فرمایا ہو ۔ درویش معذرت خواہ ہے کہ اگر وہ اس سوال پر رہا تو موجودہ حالات کے حوالے سے جو اہم سوالات ہیں ان پر سرے سے بات نہ ہوسکے گی۔ ویسے بھی پہلے سوال پر بہت کچھ لکھا بولا جا چکا ہے لہٰذا آج کے سوال پر آتے ہیں کہ سابق کرکٹر بڑے منصب سے ہٹائے جانے کے باوجود ہنوز پاپولر کیوں ہے ؟
اس کا فوری جواب تو خود لیگی قیادت کی اپنی غلطیاں و کوتاہیاں ہیں مگر انہیں سائیڈ پررکھتے ہوئے جائزہ لیں تو ایک وجہ ہمارے سابق کرکٹر کا پروپیگنڈہ ہے۔ جس نے ہمیں 92کا ورلڈ کپ جتوایا تھا، اس ٹیم کے ذریعے جس کا ذکر کرنا بھی وہ بھول گیا تھا۔ ہمارے میڈیا نے اس پس منظر میں دہائیوں سے اسے قومی ہیرو کے روپ میں پیش فرمایا ہے اور اسے طریقے سلیقے سے جناح ثانی خیال کیا ہے کیونکہ اس میں اور جناح صاحب میں بہت سے اوصاف حمیدہ ایک جیسی ہیں۔ اتنی زیادہ مماثلت ہے کہ وہ لا یعنی بھی ہانکتا ہے تو جسے اس کی زبان یا بات سمجھ نہیں بھی آتی تھی اور سمجھ نہیں بھی آتی ہے وہ بھی زندہ باد، واہ واہ اور تحسین کے ڈنکے یا ڈھول پیٹنے لگ جاتا ہے ۔
ہم نے پچھلی پون صدی کے مطالعہ پاکستان کی برکت سے نسل در نسل جو ذہنیت تیار کی ہے، وہ عوام کالانعام میں ہی نہیں ہمارے طاقتور عسکری و قانونی اداروں میں بھی بکثرت پائی جاتی ہے۔ یہ بیانیہ جنونیت و جذباتیت سے ہی مالا مال نہیں ہے بلکہ بڑھک باز اور لمبی لمبی چھوڑنے والوں کو ہی اپنا ملجیٰ و ماویٰ یا نجات دہندہ ہیرو خیال کرتا ہے۔ خداوند تعالیٰ کے فضل وکرم سے جب تک یہ ذہنیت قائم و دائم ہے، نہ جہالت و جنونیت میں کمی آئے گی، نہ سابق کھلاڑی جیسے کرداروں یا ڈرامے بازوں کی مقبولیت ختم ہو گی۔ یہ شخص بالآخر ابدی رتبہ عظمت پر فائز ہوتے ہوئے رخصت ہو بھی جائے گا تو اس سے ملتا جلتا کوئی نیا چہرہ یہی کردار ادا کرتے منافرت پر مبنی نعرے بازی میں جلوہ افروز ہو جائے گا۔ جسے شک ہے وہ قائد عوام کی تاابد رہتی پاپولیریٹی اور اس کی نفسیاتی بنیادوں کو ملاحظہ فرمالے۔
ہم ہندوستان سے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، ہم گھاس کھالیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے، ہم تمام انڈسٹری قومیا لیں گے، ہم تمام جاگیریں ہتھیا لیں گے اور پھر مذہب کارڈ اللہ اللہ ۔ اگرچہ اتنے زیادہ دھوکے اور دھکے کھانے کے بعد بہت سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ چور ڈکیت، مودی کا یار نواز شریف جیسا بھی تھا، وہ امن اور خوشحالی کے تقاضے سمجھتا تھا۔ وہ تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات بنانے کیلئے صدق دل سے گامزن تھا تاکہ اپنے عوام کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کر سکے۔ وہ خود بھی انڈسٹریلسٹ اور بزنس مین تھا اس لئے ملک میں انڈسٹری اور کاروباری سرگرمیوں کےطور طریقے جانتا اور لاگو کرتا تھا۔ جبکہ کرکٹر کا سوائے بھاشن اور تقریروں کے نہ اپنا کوئی کاروبار ہے اور نہ ہی اس نے پورے ملک میں کسی کا کاروبار رہنے دیا ہے۔ بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی ٹھگی ہی سکھائی ہے۔
اب مصیبت یہ ہے کہ عوام میں اگرچہ بہت سے لوگ نواز شریف کے بیانیے یا اس سوچ کے حاملین موجود ہیں مگر وہ سب اپنی اپنی مفاداتی تنگناؤں میں بٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انتخابی معرکے ایک دوسرے کے بالمقابل ہی لڑنے ہیں، ان کی آواز بالعموم صدابہ صحرا ثابت ہوتی ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ طاقتور محکموں یا اداروں میں چاہے وہ مذہبی ہوں ،عسکری، عدالتی یا صحافتی، وہاں وہ منافرت بھری ذہنیت جس کا اوپر تذکرہ ہوا ہے غالب و بالادست ہے۔ حالت یہ ہے کہ آج پرلے درجے کی حماقت سے کرکٹر نے عسکری قیادت کا اعتماد کھویا ہے۔ اگر کوئی شریف آدمی جیسا ہوتا تو بیرون ملک چلے جانے پر مجبور ہو جاتا یا پھر قیدوبند میں وقت گزارتا۔ مگر مخصوص ذہنیت اس ملک میں اتنی موثر ہے کہ خود عسکری قیادت اس کے د باؤ کا شکار ہو کر طرح طرح کی تاویلیں پیش کرنے پر مجبور ہے۔ اس کی مضبوط لابی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ اس ذہنیت کا بابا رحمتا اپنے محکمے میں مختلف النوع حیلوں سے اثرانداز ہو رہا ہے اور کرسی انصاف پر بیٹھا شخص بغیر کسی وکیل یا شنوائی کے ازخود اس کی حمایت میں توجیہات پیش کرتا پایا جاتا ہے۔
یہ کہ اس کو ہمارا فیصلہ صحیح طرح پہنچا نہیں ہوگا، یہ کہ درختوں کو آگ ٹیئر گیس کا اثر کم کرنے کیلئے لگائی گئی ہوگی، یہ کہ بائیس جولائی تک پنچایتی مک مکا کر لو، یہ کہ ہم انتظامیہ اور مقننہ کے معاملات میں بھی ٹانگ اڑائیں گے ۔ یہ بھی واضح رہے کہ اس نوع کے نجات دہندہ بالعموم چرب زبان ہوتے ہیں۔ جس طرح پنجابی میں کہتے ہیں کہ گلاں دا کھٹیا کھانا، کہہ مکرنیاں یا یوٹرن ان کیلئے بائیں ہاتھ کے کھیل ہیں جبکہ عوامی حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ پھر جذباتی قومی یا مذہبی نعرے بازی چاہے عوامی یا قومی یکجہتی کا جنازہ نکل جائے، ایسے لوگ کسی بھی اعلیٰ انسانی اصول کو یا ان گنت انسانوں کو اپنے پائوں میں مسلتے ہوئے لاشوں پر چڑھ کر بھی اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے کو اپنی عظمت کی معراج خیال کرتے ہیں:
ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں رہ گیا
نواز شریف کا بیانیہ جس کی ہنڈیا بیچ سیاسی چوراہے کے کسی اور نے نہیں خود ان کے اپنے بھائی بھتیجے اور شہزادی نے جلا ڈالی ہے اس پر بحث آئندہ۔