حمزہ شہباز پیر تک ٹرسٹی وزیراعلیٰ کے طور پر کام کریں: سپریم کورٹ

  • ہفتہ 23 / جولائی / 2022

سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کو مشکوک قرار دیتے ہوئے انہیں سوموار تک ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

 پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر مختصر حکم میں عدالت نے فریقین کو سوموار کو تمام ریکارڈ پیش کرنے اور اپنے دلائل دینے کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الہٰی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی تھی۔ اگلی سماعت پیر کو اسلام آباد میں ہوگی۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد جاری حکم نامے میں کہا کہ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق کام کریں گے اور بطور وزیراعلیٰ وہ اختیارات استعمال نہیں کریں گے، جس سے انہیں سیاسی فائدہ ہو۔ ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر نے عدالت عظمیٰ سے مزید وقت کی استدعا کی اور کہا تھا کہ وہ تحریری جواب عدالت میں جمع کروانا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی اہم ہے اور ہم چاہتے ہیں جتنی جلدی ہو سکے اس کا فیصلہ کردیں۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے تاہم عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

چوہدری پرویز الہٰی کے وکیل علی ظفر نے عدالت سے استدعا کی کہ حمزہ شہباز کو کابینہ بنانے سے روک دیا جائے، جس پر عدالت کی جانب سے کہا گیا وہ مختصر ترین کابینہ رکھ سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے سماعت پیر تک ملتوی کردی جبکہ چوہدری پرویز الہٰی کے وکیل نے استدعا کی تھی کہ اتوار کو بھی سماعت کی جائے تاہم بنچ نے کہا کہ اگر اتوار کو سماعت کی جاتی ہے اور مکمل نہیں ہوتی ہے تو معاملہ پھر پیر کو جائے گا۔

عدالت نے کہا کہ درخواست سماعت پیر کو اسلام آباد میں ہوگی اور جب تک حمزہ شہباز بطور ٹرسٹی وزیراعلیٰ کام کریں گے۔