بالائی کوہستان میں سیلاب کے باعث 50 مکانات بہہ گئے
بالائی کوہستان کی تحصیل کندیا میں شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 50 مکانات اور چھوٹے بجلی گھر بہہ گئے۔
ایک مقامی رضاکار کے اندازے کے مطابق سیلاب کے باعث اس سے کہیں زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ کندیا سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی کارکن نے بتایا کہ زبردست سیلاب نے تحصیل کندیا کے دو دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں ان کے اندازے کے مطابق تقریباً 100 گھر بہہ گئے اور سیکڑوں افراد بے گھر ہو گئے۔ البتہ سیلابی صورتحال سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تحصیلدار محمد ریاض نے کہا کہ ابتدائی طور پر ہم نے متاثرہ خاندانوں کے لیے 45 خیمے اور دیگر ضروری اشیا بھیجی تھیں جبکہ ریونیو افسران کی ایک ٹیم امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے ایک گھنٹے میں متاثرہ علاقوں میں پہنچ جائے گی۔ بالائی کوہستان کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے نتجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 افراد زخمی ہوئے۔
صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی بیان کے مطابق صوبے بھر میں 23 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 14 مکانات مکمل تباہ ہوگئے۔ چترال کے مختلف علاقوں میں برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث ٹریفک جام ہوگیا لہٰذا روڈ پر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
صوبے کی تمام ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کے علاوہ برساتی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو مانیٹر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بیان میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے کہا کہ متاثرین کو بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
بالائی چترال میں مون سون کی بارشوں نے تباہی مچا دی اور بونی میں سیلاب سے 5 مکانات بہہ گئے جبکہ 4 کو نقصان پہنچا۔ تحصیل چیئرمین چترال کے مطابق بونی کے علاقے قسماندہ میں تین گھروں کو نقصان پہنچا۔