معیشت درست سمت میں ہے، منفی تجزیے درست نہیں: قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

  • اتوار 24 / جولائی / 2022

قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ پاکستان اتنا خطرے میں نہیں جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں، معیشت درست سمت میں ہے۔ منفی تجزیے درست نہیں ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے آفیشل یوٹیوب چینل پر پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آئندہ 12 مہینے عالمی معیشت کے لیے بہت مشکل ہوں گے۔ کورونا وبا سے باہر نکلتے ہوئے ہم محسوس کررہے ہیں کہ اجناس کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہورہا ہے، ذخائر میں کمی آرہی ہے اور عالمی سیاسی تناؤ بھی موجود ہے۔ ان وجوہات کے سبب تمام ممالک پریشان ہیں، وہاں مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور جن ممالک پر قرضوں کی شرح زیادہ ہے ان پر اس صورتحال کا دباؤ بھی زیادہ پڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ تاہم میرے خیال میں اس وقت پاکستان اتنا خطرے میں نہیں ہے جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں۔ اس کی 3 وجوہات ہیں، سب سے پہلے ہمارے قرضوں کی شرح جو ہمارے جی ڈی پی کا 70 فیصد بنتا ہے، گھانا، مصر اور سری لنکا کی طرح جن دیگر ممالک سے ہمارا موازنہ کیا جارہا ہے ان کے قرضوں کی یہ شرح ان کے جی ڈی پی کا 80 فیصد یا اس سے زائد ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری چیز بیرونی قرضوں کی شرح ہے، ہمارے بیرونی قرضوں کی شرح جی ڈی پی کا 40 فیصد ہے جبکہ ایسے دیگر ممالک میں یہ شرح زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اندرونی قرضوں کی شرح زیادہ ہے اور اس کو سنبھالنا آسان ہوتا ہے کیونکہ یہ آپ کی اپنی کرنسی میں ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ تیسری چیز مختصر مدت کے قرض دیکھے جاتے ہیں۔ پاکستان کے کُل بیرونی قرضوں کا صرف 7 فیصد مختصر مدت کے قرضوں پر مبنی ہے، دیگر ملکوں کی یہ شرح کافی بلند ہے۔ ترکی میں یہ شرح 30 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک اور چیز یہ دیکھی جاتی ہے کہ کن شرائط پر آپ نے یہ بیرونی قرضہ حاصل کیا ہے۔ ہمارے معاملے میں قرضوں کا صرف 20 فیصد کمرشل بنیادوں پر حاصل کیا گیا ہے جبکہ باقی قرضہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دوست ممالک سے لیا گیا ہے اس لیے ان کو لوٹانا ہمارے لیے بہ نسبت ان ممالک کے بہت آسان ہے جنہوں نے کمرشل بنیادوں پر بہت زیادہ قرضہ حاصل کیا ہوا ہے۔

یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پالیسیوں پر کس طرح عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ کورونا سے نکلنے کے بعد ہماری معیشت بہت اچھے انداز میں بڑھ رہی تھی، گزشتہ سال ہمارا گروتھ ریٹ 6 فیصد تھا جو اس سال بھی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیے یہ بات خوش آئند ہے کہ اس وقت ہم معیشت کو سلو کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ اس پر ہم نے کام بھی شروع کردیا ہے۔ شرح سود بڑھادی ہے، اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو اسٹیٹ بینک نے بہت مؤثر انداز میں شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آئندہ 12 ماہ میں جس ملک کے پاس آئی ایم ایف پروگرام ہوگا وہ محفوظ رہیں گے اور جن کے پاس نہیں ہوگا وہ بہت دباؤ میں ہوں گے۔ بڑی مشکل سے بالآخر ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوگیا ہے، اس لیے ہم اتنے خطرے میں نہیں ہیں جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں۔

اسٹاف لیول معاہدے کو معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے، یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئی ایم ایف کا اسٹاف مطمئن ہے کہ ہم نے اس جائزے کو مکمل کرنے کے لیے تمام شرائط پوری کرلی ہیں، اسٹاف لیول معاہدہ ہوجانے کے بعد بورڈ سے منظوری بہت آسان ہوتی ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید کا کہنا تھا کہ انشا اللہ اگست کے مہینے میں یہ بورڈ میٹنگ بھی ہوجائے گی جس کے بعد ساری دنیا دیکھ لے گی کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور لوگوں کے تحفظات بھی دور ہوجائیں گے۔

انہوں نے اپنے قائم مقام گورنر کے عہدے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر کے پاس وہ تمام اختیارات ہوتے ہیں جو ایک مستقل گورنر کے پاس ہوتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ آپ کے کرنسی نوٹ پر دستخط نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں تقریباً ڈھائی ماہ سے قائم مقام گورنر کے عہدے پر فائز ہوں، اس دوران ہم نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 2 اجلاس کیے ہیں۔ ہماری 2 بورڈ میٹنگز ہو چکی ہیں اور میں نے متعلقہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر جاکر پاکستان کی نمائندگی بھی کی ہے۔ اس دوران ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات بھی کیے اور ایک اسٹاف لیول معاہدہ بھی منظور کروالیا جس پر میرے دستخط ہوں گے۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ جز وقتی یا کل وقتی گورنر ہوں۔ گورنر، گورنر ہوتا ہے اور اس کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کی معیشت کے حوالے سے منفی اور بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس پوڈ کاسٹ کا مقصد ان افواہوں کو دور کرنا تھا، اسٹیٹ بینک ایک ذمہ دار ادارہ ہے، میں عوام سے بھی یہی کہوں گے کہ ان افواہوں پر کان نہ دھریں۔