پنجاب کی 37 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

  • سوموار 25 / جولائی / 2022

پنجاب کے ٹرسٹی وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی کابینہ کے 37 اراکین نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا جس پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

 سپریم کورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے متنازع رن آف پول سے متعلق کیس کی سماعت سے صرف 16 گھنٹے قبل تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس میں منعقد ہوئی۔ فوری طور پر صوبائی کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہوئے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے کابینہ اراکین سے حلف لیا۔ وزرا میں سابق اسپیکر رانا محمد اقبال، مہر اقبال اچھلانا، سابق وزیر خوراک ملک ندیم کامران، بلال یٰسین، سابق وزیر تعلیم رانا مشہود، سابق وزیر صحت خواجہ عمران نذیر، یاور زمان، منشا اللہ بٹ، سابق وزیر زراعت احمد علی اولکھ، صبا صادق، ملک اسد کھوکھر، سیف الملوک کھوکھر، رانا لیاقت، بلال اصغر وڑائچ، سید حسن مرتضیٰ اور حیدر علی گیلانی شامل ہیں۔

کابینہ کے دیگر ارکان میں ریٹائرڈ کرنل ایوب غادی، کاظم علی پیرزادہ، چوہدری شفیق، اقبال گجر، فدا حسین وٹو، رانا اعجاز نون، عظمیٰ زاہد بخاری، خلیل طاہر سندھو، ثانیہ عاشق، سبطین بخاری، جہانگیر خانزادہ، ریٹائرڈ کرنل رانا طارق، قاسم ہنجرا، ظہیر اقبال چنڑ، ذیشان رفیق، قاسم عباس لانگا، اشرف انصاری، چوہدری شفیق، تنویر اسلم ملک، صدیق خان بلوچ، اور عمران خالد بٹ شامل ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کابینہ کا حلف اٹھانا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے کیونکہ حمزہ شہباز منتخب وزیر اعلیٰ نہیں ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑا رہے ہیں اور سسلین مافیا کی طرح کام کر رہے ہیں، جو کہ تشویشناک ہے۔

یاد رہے کہ 22 جولائی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے حمزہ شہباز کے مقابلے میں حصہ لینے والے پرویز الہٰی نے پنجاب کابینہ کی تشکیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا پنجاب کابینہ کا حلف مذاق سے کم نہیں۔ ٹرسٹی وزیر اعلیٰ وزارتیں دے کر سپریم کورٹ کے حکم کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ پنجاب کی بڑی کابینہ کی حلف برداری حکمرانوں کو نہیں بچا سکے گی۔