حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ پر عدم اعتماد

  • سوموار 25 / جولائی / 2022

وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس ملک کی جمہوری جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں فل کورٹ بنچ چاہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ 3 شخص اس ملک کی قسمت کا فیصلہ کریں۔

اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ صرف 3 شخص یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ ملک جمہوری نظام کے تحت چلے گا، الیکٹڈ نظام کے مطابق چلے گا یا سلیکٹڈ نظام کے مطابق چلے گا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ 3 شخص 1973 کے آئین پاکستان کو یک جنبش قلم تبدیل کردیں اور ہمیں اس کے لیے 30 سال جدجہد کرنی پڑے۔ پھر قربانیاں دینی پڑتی ہیں، قوم کو لاشیں اٹھانا پڑتی ہیں، ہمارے کارکنوں کو تختہ دار پر چڑھنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا آئین پاکستان میں کیا لکھا ہے، اس بات کا فیصلہ یہ 3 افراد کریں گے یا ملک کے عوام کی نمائندہ سیاسی جماعتیں کریں گی۔ ہم ملک کے چاروں صوبوں کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس ملک کو جمہوری طریقے سے چلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں نظر آرہا ہے کہ کچھ قوتوں کو، کچھ لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ پاکستان جمہوریت کی سمت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ عمران خان نے 4  سال کے دوران اتنا قرض لیا جتنا اس سے قبل پورے 70 سال میں لیا گیا تھا، ملکی معیشت کو تباہ کردیا۔ ہم نے جو آئینی حقوق صوبوں کو دیے تھے، ان کو سلب کرنے کی کوشش کی۔ وہ آمر بن کر تمام اداروں کو اپنی ٹائیگر فورس بنا کر ملک پر راج کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں نے جمہوری جد وجہد کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے ایک دن کے لیے بھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ مریم نواز، فریال تالپور کو جیل میں ڈالا گیا، صدر زرداری کو جیل میں ادویات سے محروم رکھا گیا تو اس وقت یہ ہی عدالتیں ہمارے کیسز نہیں سن رہی تھیں۔ پھر جب ہماری جد وجہد کے باعث ادارے اپنے آئینی کردار پر مجبور ہوئے تو صرف 3 ماہ میں کچھ لوگ، کچھ قوتیں، کچھ سیاسی جماعتیں اور سازشی افراد عمران خان کو سامنے رکھ کر ملک میں ایک مہم چلا رہے ہیں۔

یہ مہم اس ملک کی معاشی ترقی اور جمہوی سفر کے خلاف سازش ہے۔ ہم نے ماضی میں کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی اور ہم آج بھی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ادارے غیر متنازع رہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اداروں کے جمہوری اور آئینی طریقہ کار ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے جمہوریت، اپنے اداروں، خاص طور پر عدلیہ کو متنازع ہونے سے بچانا ہے، اس کی عزت و وقار کو بچانا ہے تو پھر ہمارے معزز جج صاحبان کو چاہیے کہ وہ فل کورٹ تشکیل دینے کی تمام سیاسی جماعتوں کی درخواست کو منظور کریں اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے کیس کا فیصلہ فل کورٹ سنائے۔

ان کا کہنا تھا ہمیں امید ہے کہ عدلیہ اپنے ادارے کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے فل کورٹ تشکیل دے گی۔ سپریم کورٹ کے تمام ججز جب فیصلہ کریں گے تو ان کا فیصلہ ہر پاکستانی کو قبول کرنا ہوگا۔ اگر صرف یہ 3ججز بیٹھ کر فیصلہ سنائیں گے تو پھر جو سیاسی صورتحال اس ملک میں بنے گی اس کو سنبھالنا ہمارے بس کی بات نہیں ہوگی۔

اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کی اہم پریس کانفرنس کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ چرچل نے جنگ عظیم دوم کے دوران کہا تھا اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں تو ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ خلفائے راشدین کا قول ہے کہ کفر کی بنیاد پر ریاست کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کی بنیاد پر کوئی نظام نہیں چل سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ حقائق قوم کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں۔ کسی سے بھی غلط فیصلہ ہوسکتا ہے لیکن تسلسل کے ساتھ غلط فیصلے ہونا۔ فیصلے بانجھ نہیں ہوتے۔ ان کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، کچھ فیصلوں کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوتے بلکہ آنے والی دہائیوں میں ان کے اثرات مزید گہرے ہوتے جاتے ہیں۔

کسی بھی ادارے کی توہین کبھی بھی اس کے باہر سے نہیں ہوتی، ادارے کی توہین ادارے کے اندر سے ہوتی ہے۔ عدلیہ کی توہین کوئی شخص نہیں، اس کے متنازع فیصلوں سے ہوتی ہے۔ میں یہاں عدلیہ کی تعریف و توصیف میں لمبا چوڑا مضمون لکھ سکتی ہوں لیکن صرف ایک غلط فیصلہ اس پورے مقدمے کو اڑا کر رکھ دے گا۔ اسی طرح اگر فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہو تو اس پر کتنی بھی تنقید کی جائے، وہ تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی۔

مریم نواز نے کہا کہ گزشتہ دنوں جب حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تو پی ٹی آئی اس انتخاب کے خلاف سپریم کورٹ گئی۔ قوم نے دیکھا کہ چھٹی کے دن رات کے اوقات میں عدالت عظمیٰ کی رجسٹری کھولی گئی، رجسٹرار گھر سے بھاگا بھاگا آیا اور درخواست طلب کی تو پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ پٹیشن ابھی تیار نہیں ہے جس پر رجسٹرار نے کہا کہ ہم بیٹھیں ہیں آپ پٹیشن تیار کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا اس طرح کبھی اس سے قبل کسی مقدمے میں ہوا؟ انصاف کے حصول کے لیے لوگوں کی پٹیشنز جاتی ہیں تو انتطار میں ہی ہفتے اور مہینے گزر جاتے ہیں اور وہ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کی جاتیں۔ یہاں جب کوئی پٹیشن آتی ہے تو لوگوں کو پہلے سے پتا ہوتا ہے کہ کونسا بنچ بنے گا اور جب بنچ بنتا ہے تو لوگوں کو پہلے سے پتا ہوتا ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا، یہ ہے اس وقت ہمارے ملک میں انصاف کی حقیقت۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے الیکشن میں 6 ووٹ مسترد ہوئے تھے، جب سپریم کورٹ گئے تو کہا گیا کہ اسپیکر کی رولنگ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے رولنگ دی کہ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی مرضی کے خلاف جن اراکین نے ووٹ دیے ہیں وہ شمار نہیں کیے جائیں گے تو سپریم کورٹ نے بلاکر ان کو کٹہرے میں کھڑا کیا جب کہ وہ بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی۔

اسی طرح کے فیصلوں کی ایک وہ بھی ہے کہ جب عدالت نے کہا کہ آئین کو توڑا گیا ہے لیکن پھر بھی قاسم سوری کو نہیں بلایا گیا۔ قاسم سوری کا اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، ان کے جعلی ووٹ ثابت ہوچکے ہیں لیکن ڈھائی سال سے ان کو اسٹے آرڈر ملا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین شکنی کیس میں صدر مملکت اور قاسم سوری ملوث ہیں لیکن انہیں عدالت میں طلب نہیں کیا جاتا جب کہ وزیراعظم شہباز شریف اکثر عدالتوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے پر 25 اراکین کو ڈی سیٹ کیا گیا اور کہا گیا کہ ان کے ووٹ بھی شمار نہیں کیے جائیں گے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر 95 فیصد قانونی ماہرین نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین پاکستان کو ری رائٹ کرنے کے مترارف ہے۔ عدالت نے اپنے اس فیصلے سے مسلم لیگ (ن) کے 25 ارکان عمران خان کی جھولی میں پھینک دئے اور مسلم لیگ (ق) کے 10 ارکان بھی پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈال دیا۔

مریم نواز نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کو بڑھانا اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو کم کرنا یہ کہاں کا انصاف ہے۔ پارٹی کو دیکھ کر، پارٹی کے سربراہ کو دیکھ کر آئین کی تشریح بدل جاتی ہے، پارٹی ہیڈ کی تشریح بدل جاتی ہے۔ چند روز قبل کیے گئے اپنے فیصلے ہی بدل جاتے ہیں۔

پارٹی ہیڈ نواز شریف ہو تو پاناما پیپرز فیصلے میں ان سے پارٹی کی صدارت یہ کہہ کر لے لی گئی کہ پارٹی سربراہ کا اس پر اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ یہ کہہ کر ان سے پارٹی کی صدارت لے لی گئی، جب چوہدری شجاعت بطور صدر کوئی حکم دیتے ہیں تو اس پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں جب کہ عمران خان جب کوئی ہدایات دیتے ہیں تو وہ حکم معتبر مانا جاتا ہے۔ چوہدری شجاعت جب حکم دیتے ہیں تو پارلیمانی پارٹی اہم ہوجاتی ہے اور جب عمران خان حکم دیتے ہیں تو پارٹی سربراہ کی تعریف بھی بدل جاتی ہے، آئین کی تشریح اور آئین کا حلیہ بھی بدل جاتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ انصاف کے ترازو کو ٹھیک کرلیں، جب انصاف کا ترازو ٹھیک ہوگا تو پاکستان بھی خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ٹرسٹی چیف منسٹرز، بلیک لا ڈکشنری جیسے منفرد خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ کبھی سنا کہ کوئی ٹرسٹی چیف منسٹر ہو۔ جب سے حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب بنے ہیں اس وقت سے انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا، انہیں کابینہ نہیں بنانے دی گئی، کبھی وہ پارلیمنٹ جاتے ہیں اور کبھی عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معیشت کی حالت ٹھیک نہیں۔ جب 4 سال کے دوران عمران خان ملکی معیشت کو تباہ کر رہا تھا، کیا اس دوران کسی نے کوئی بیان معشیت کی تباہی سے متعلق سنا۔ اگر معیشت کا موازنہ کرنا ہے تو پھر اس وقت سے ہوگا جب آپ نے نواز شریف کو نکالا تھا اورعمران خان حکومت چھوڑ کر گیا اس وقت معیشت کی کیا حالت تھی۔

جب عمران خان ملک کی معشیت کو تباہ کر رہا تھا تو اس وقت کسی کو اس کا خیال نہیں آیا، اس کو وقت بھی کھلی آزادی تھی اور آج بھی اس کو کھلی چھوٹ ہے۔ عمران خان کی کابینہ نے برطانیہ سے ملنے والے 50 ارب روپے خاموشی سے ملک ریاض کو دے دیے، وہ پاکستانی قوم کا پیسا تھا، کہاں ہے اس کی منی ٹریل، اس پر کسی نے سوموٹو نوٹس لیا؟

مریم نواز کا کہنا تھا کہ معیشت کی تباہی کے سارے تانے بانے بھی عدالت کے فیصلوں سے ملتے ہیں۔ 2017 میں معشیت کے تمام اشارے مثبت تھے اس کو آپ نے غیر مستحکم کیا، جب سے آپ نے نواز شریف کو اقامہ جیسے مذاق پر نکالا، اس وقت سے یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہے، ملک ایسا ہلا کہ اب تک سنبھلنے میں نہیں آرہا۔ وٹس ایپ کالز پر جے آئی ٹیز بنائی گئیں، نگران جج لگایا گیا۔ اس وقت جو مانیٹرنگ جج لگایا گیا تھا وہ جج آج بھی ہم پر نگران جج لگا ہوا ہے۔ وہ جج صرف ایک مقدمے کے لیے لگایا گیا تھا لیکن لگتا ہے کہ وہ ہمارے اوپر تاحیات نگران جج لگ گیا ہے۔ ہمارے خلاف بنائے گئے ہر مقدمے میں وہ جج شامل ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ میں اور دیگر اچھی شہرت والے ججز بھی ہیں، ان کو کیوں مقدمات میں شامل نہیں کیا جاتا۔ ایک یا 2 ججز جو ہمیشہ سے انیٹی مسلم لیگ (ن) رہے ہیں ان کو ہی کیوں ہمارے خلاف کیسز کے بنچ میں بٹھایا جاتا ہے۔

جس طرح میچ فکسنگ ایک جرم ہے اسی طرح بینچ فکسنگ بھی ایک جرم ہے اس پربھی از خود نوٹس ہونا چاہیے۔ ہمارے خلاف کیسے کیسے الزامات ڈھونڈ ڈھونڈ کر لگائے گئے، دنیا جہاں میں تحقیقات کرائی گئیں لیکن ہمارے خلاف کچھ نہیں ملا تو آخر میں اقامہ پر چلتا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاناما کیس سنے والے سپریم کورٹ کے بنچ کے ایک رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عمران خان کو کہا کہ سڑکوں پر کیا مارے مارے پھر رہے ہو، میرے پاس پٹیشن لے کر آؤ، میں سنتا ہوِں۔ نواز کو نکالنا چاہتے ہوں، آؤ میں تمہارے مدد کرتا ہوں اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اسی عدالت نے نواز کو نکالا۔

ان کا کہنا تھا ہمارے رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات بنائے گئے، انہوں نے کوئی توہین عدالت نہیں تھی لیکن وہ آج تک نا اہل ہیں۔ توہین عدالت وہ ہوتی ہے جو یوکے میں آئین شکنی سے متعلق فیصلہ سامنے آنے کے بعد کی گئی۔ ان میں سے کسی کے خلاف توہین عدالت کا کیس نہیں بنایا گیا بلکہ ان کے ہی حق میں فیصلے آرہے ہیں۔ اگر اسی طرح سے فیصلے ہونے ہیں کہ جو سب سے زیادہ بد معاشی کرے گا، گالی دے گا تو فیصلہ اسی کے حق میں آئے گا، اگر تنقید سے اتنا ڈرتے ہیں تو سوچیں کہ یہ ملک کدھر جا رہا ہے۔