ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے پر غیر واضح صورتحال کی وجہ سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ ہے: ماہرین قانون

  • منگل 26 / جولائی / 2022

سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف کیس کی سماعت کے لیے فل کورٹ بنچ کی درخواست مسترد ہونے پر قانونی ماہرین  اس بات پر منقسم  ہیں کہ اس معاملے کو مزید جانچنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

 متعدد قانونی ماہرین نے رائے دی ہے کہ ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام کو خطرات سے دوچار کرنے والے بحران سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر کردہ صدارتی ریفرنس میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے جس میں اس نے کہا تھا کہ منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں کیے جائیں گے۔

نجی چینل 'سما ٹی وی' سے گفتگو کرتے ہوئے معروف قانون دان سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے قانون سازوں کے ووٹوں کو شمار نہ کرنے کا حکم نہ دیتی تو موجودہ بحران پیدا ہی نہ ہوتا۔ فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی کی درخواستوں کا حوالہ دیتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی کر تو سکتی ہے لیکن نظرثانی کے امکانات بہت کم ہیں۔ کیونکہ جن ججوں نے پہلے فیصلہ کیا تھا وہی نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کریں گے۔

اسی طرح کے خیالات اور رائے کا اظہار جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو چاہئے کہ وہ زیر بحث آرٹیکل کی اپنی تشریح پر نظرثانی کرے اور فیصلے سے پیدا ہونے والی پچیدہ اور گنجلک صورتحال کو دور کرے۔ نجی چینل 'اے آر وائی نیوز' سے بات کرتے ہوئے انہوں نے عدالت کو مشورہ دیا کہ وہ نظرثانی کی درخواستوں اور پی ٹی آئی کے 20 ڈی سیٹ ایم پی ایز کی جانب سے دائر درخواستوں کو یکجا کرے اور درخواستوں کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور معروف قانون دان سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے کردار کو آرٹیکل 63 اے میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ صدارتی ریفرنس میں عدالت عظمیٰ کے 2-3 کے فیصلے کو آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف قرار دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر دوست محد مزاری نے فیصلے کی تشریح میں غلطی کی جبکہ انہوں نے رن آف الیکشن کے دوران ان ووٹوں کو مسترد کیا۔

ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے قانونی ماہر اسد رحیم نے کہا کہ زیر بحت کیس فل کورٹ بنچ کے قابل نہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس میں کوئی متنازع یا عدالتی نظیر کا تضاد نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی پیچیدہ آئینی سوال اور قانونی بحران ہے۔ زیر بحث کیس میں جس نکتے کا فیصلہ ہونا ہے وہ یہ ہے کہ کیا پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کا مسلم لیگ (ق) کے ارکان کے ڈالے گئے ووٹوں کو مسترد کرنے کا حکم قانونی تھا یا نہیں۔

سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ بیرسٹر عابد زبیری نے ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہر فریق کو فل کورٹ بنچ کی تشکیل کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے لیکن بنچوں کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کو حاصل ہے۔ عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے معاملے بیرسٹر عابد زبیری نے کہا کہ بائیکاٹ کے فیصلے سے عدالت کو کسی قسم کی کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوگی اور وہ کیس کی سماعت کرے گی۔

پی ٹی آئی کے سابق رہنما اور قانونی ماہر حامد خان نے 'اے آر وائی نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اتحاد کے ارکان نے عدلیہ کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ نامناسب اور ججوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے عدالت کو مشورہ دیا کہ وہ دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے میرٹ پر کیس کا فیصلہ کرے۔