حمزہ شہباز کا انتخاب کالعدم، پرویز الہیٰ وزیر اعلیٰ ہوں گے

  • منگل 26 / جولائی / 2022

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کی رولنگ اور حمزہ شہباز کے حلف کو کالعدم قرار دیتے ہوئے چوہدری پرویز الہیٰ کو رات ساڑھے گیارہ بجے تک وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی رولنگ کیس کی سماعت کی اور دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا تاہم رات گئے گیارہ صفحات پر مشتمل مختصر حکم نامہ جاری کیا۔ تفصیلی تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے فیصلہ تاخیر کا شکار ہونے معذرت کی اور حکم نامہ سنانا شروع کیا۔ پرویز الہیٰ کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا گیا۔ اس طرح  ق لیگ کے مسترد شدہ ووٹوں کو درست قرار دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سپریم کورٹ کے حکم کو غلط سمجھا اور رولنگ دیتے ہوئے ق لیگ کے درست ووٹوں کو مسترد کیا۔

عدالت نے حکم کی کاپی فریقین کو فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی اور حمزہ شہباز سمیت پوری کابینہ کو فوری دفاتر خالی کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں حمزہ نے 179 ووٹ جبکہ پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کیے، اس اعتبار سے وہ ہی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کی بطور وزیراعلیٰ حلف برداری اور کابینہ کی تشکیل نو کو بھی کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر گورنر پنجاب دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی پرویز الہیٰ سے حلف لیں۔

عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ حمزہ شہباز اور کابینہ کے آئین و قانون کے مطابق کئے گئے فیصلے برقرار رہیں گے اور انہیں تحفظ حاصل ہوگا۔

اس سے پہلے صبح جب عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کے وکیل عرفان قادر عدالت میں پیش ہوئے اور کارورائی کا بائیکاٹ کرنے کے بارے میں مطلع کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی کارروائی کا مزید حصہ نہیں بنیں گے۔ ہم فل کورٹ  قائم کرنے کی درخواست مسترد کرنے کے حکم کے خلاف نظر ثانی دائر کریں گے۔

یہ کہہ کر عرفان قادر سپریم کورٹ سے واپس چلے گئے۔ فاروق ایچ نائیک نے بھی  کہا کہ پی پی پی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کیس لٹکانے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ ستمبر کے دوسرے ہفتے سے پہلے ججز دستیاب نہیں، گورننس اور بحران کے حل کیلئے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں۔ آرٹیکل 63 اے کے مقدمہ میں پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کا کوئی ایشو نہیں تھا۔

as sy qbl سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ تمام فریقین معاونت کریں تو بہتر طریقے سے فیصلہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ بائیکاٹ کرنے والے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں تو سب کے لیے بہتر ہوگا۔ گزشتہ روز فل کورٹ بنچ کے لیے اتحادی حکومت کی درخواست مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں آج حال ہی میں ہونے والے وزیراعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب سے متعلق درخواستوں کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری کے فیصلے پر دلائل سنے جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں فاتح قرار دیا گیا تھا۔

پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کی کارروائی میں مزید حصہ نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کی جانب سے مکمل بنچ تشکیل نہ دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کریں گے۔ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بھی عدالتی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔

سماعت ساڑھے 11 بجے کے بعد شروع ہوئی۔ حکمران اتحاد نے کہا کہ وہ احتجاجاً کارروائی کا بائیکاٹ کرے گا۔ چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فل کورٹ بنانے پر پر ایک بھی قانونی نقطہ نہیں بتایا گیا۔ آپ نے وقت مانگا تھا اس لیے سماعت ملتوی کی، عدالت میں موجود رہیں اور کاروائی دیکھیں۔ ابھی تک قانونی سوال کا جواب نہیں دیا گیا کہ کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کو ہدایات جاری کرسکتا ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سوال کے لیے فل کورٹ نہیں بنایا جاسکتا، ہم نے تمام فریقین کو قانونی نقطے پر دلائل کے لیے وقت دیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 1998 میں نگران کابینہ کو سپریم کورٹ نے معطل کردیا تھا۔ چیف ایگزیکٹو ہی کابینہ کا سربراہ ہوتا ہے، ہم پنجاب میں وزیر اعلیٰ کا معاملہ جلد از جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔ دلائل میں فل کورٹ کا کہا گیا، فل کورٹ کی تشکیل ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ممکن نہیں۔ ہم اس معاملے کو یوں طول نہیں دے سکتے، یہ محض تاخیری حربے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب اس کیس کے میرٹس پر دلائل سنیں گے، اس کیس کا فیصلہ نہ ہونے کے باعث ایک صوبے میں بحران ہے۔ اس کیس میں مزید تاخیری حربے برداشت نہیں کریں گے۔21ویں ترمیم کا حوالہ پیش کیا گیا، جسٹس عظمت سعید نے 18ویں ترمیم میں آبزرویشن دی کہ ووٹ پارٹی سربراہ کی ہدایات پر دیا جاتا ہے، 18ویں ترمیم اس کیس سے مختلف ہے۔ ہمیں اس معاملے پر معاونت درکار ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی نے کچھ غلط سمجھا تو اسے درست کیا جا سکتا ہے، غلط طور پر آئین کو سمجھنے کا مقصد ہے کہ آئین کو درست انداز میں نہیں سمجھا گیا۔ دلائل کے دوران 21ویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا، 21ویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا 17 میں سے 8 ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بنچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا، عدالت کے سامنے 8 جج کے فیصلہ کا حوالہ دیا گیا۔ آرٹیکل 63 اے سے متعلق 8 ججز کا فیصلہ اکثریتی نہیں ہے۔ آرٹیکل 63 سے پر فیصلہ 9 رکنی ہوتا تو اکثریتی کہلاتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی بائیکاٹ کرنے والوں نے اتنی گریس دکھائی ہے کہ بیٹھ کر کارروائی سن رہے ہیں۔ میں اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتا ہوں، عدالت کا بائیکاٹ کرنے والے تھوڑا دل بڑا کریں اور کارروائی سنیں۔ چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو ہدایت کی کہ قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں اور دوسرا راستہ ہے کہ ہم بنچ سے الگ ہو جائیں۔

اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ روز تفصیلی دلائل سنے، یہاں معاملہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا نہیں ہے۔ سپریم کورٹ پہلے ہی اس معاملے کی تشریح کر چکی ہے۔ یہاں معاملہ صرف پارٹی سربراہ کی ڈائریکشن کا ہے۔ 18ویں ترمیم میں پارٹی ہیڈ کو منحرف ارکان کے خلاف کاروائی کا اختیار دیا گیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جج کا بار بار اپنی رائے تبدیل کرنا اچھی مثال نہیں ہوتی۔ جج کی رائے میں یکسانیت ہونی چاہیے۔ اس مرحلے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ عدالت کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا وفاقی حکومت حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہوگئی ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 27 اے کے تحت عدالت کی معاونت کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لیے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی سربراہ کی ہدایات بر وقت آنی چاہئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چوہدری شجاعت کے وکیل نے کہا کہ تمام پارٹی ممبران کو خط بھیجا گیا تھا، انہیں پارٹی سربراہ کی واضح ہدایات تھیں۔

امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ پنجاب اسمبلی کی کارروائی آپ کے سامنے ہے۔ عدالت کو علم ہے کہ ووٹنگ کیسے ہوئی، وفاقی حکومت تمام ذرائع بروئے کار لائی، پارٹیوں کے سربراہ کیسے لاہور میں جمع ہوئے یہ سب کے سامنے ہے۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ کیا ووٹنگ سے پہلے خط پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پڑھا گیا؟ انہوں نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نائیک صاحب اگر کچھ بہتری آ سکتی ہے تو عدالت سننے کیلئے تیار ہے۔ اس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ان مقدمات میں ہم پارٹی پالیسی کے پابند ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مخالف فریقین کیس سن رہے ہیں لیکن دلائل نہیں دے رہے۔ اس وقت ان کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے اقوام متحدہ میں مبصر ممالک کی ہوتی ہے۔ تمام فریقین معاونت کریں تو بہتر طریقے سے فیصلہ پر پہنچ سکتے ہیں، بائیکاٹ کرنے والے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں تو سب کیلئے بہتر ہوگا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں ڈھائی بجے تک وقفہ کردیا۔

دریں اثنا ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے میرے موکل نے ہدایت دی ہے کہ میں اس کیس کی سماعت کا مزید حصہ نہ بنوں، ہمارا فل کورٹ کا مطالبہ مسترد کیے جانے پر ہمیں نظرثانی کی اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم یہ آئینی حق استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اگر نظرثانی کی اپیل مسترد ہوئی تو پھر ہم دیکھیں گے۔ ہم تو یہی چاہیں گے کہ نظرثانی کی اپیل یہ بنچ نہ سنے، بنچ پر عدم اعتماد آگیا تو امید یہی ہے کہ وہ اپیل بھی فل کورٹ کے سامنے لگے گی اور اگر وہ فل کورٹ کے سامنے لگی تو مجھے یقین ہے کہ اپیل کامیاب ہوگی اور یہ کیس پھر سے سنا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب عدالت میں یہ کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ 17 مئی کی شق 3 کے برعکس ہے تو میں نے فوراً بتایا کہ شق ایک اور دو پڑھ لیں اور جسٹس منیب اختر نے میری بات مانی اور اس کے بعد یہ میٹر سیٹل ہوگیا۔ عرفان قادر نے کہا کہ ہمارا مؤقف آئینی ہے اور آئینی رہے گا۔ عدالت یا میڈیا کے جو بھی سوالات ہوں گے ہم انہیں مطمئن کریں گے، ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ ہم ہر کسی کے بھی سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو پارلیمانی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ کو پارلیمان کو مضوبط اور مستحکم ضرور کرنا چاہیے۔ لیکن ایسا فیصلہ جس کے نتیجے میں پارلیمان میں اقلیت کے ہاتھوں اکثریت کو گرا دیا جائے ایسی مداخلت کو ہم ہر گز قبول کرنے کا تیار نہیں، سپریم کورٹ پارلیمان میں اکثیرت کو اقلیت کا ہاتھوں یرغمال نہیں بنا سکتی۔