بیلجیم ائر لائن میں پہلا کشمیری پائلٹ
- تحریر قیوم راجہ
- منگل 26 / جولائی / 2022
بیلجیم یورپی یونین کا ایک چھوٹا مگر ترقی یافتہ ملک ہے جہاں یورپی یونین کے مرکزی دفاتر قائم ہیں۔ یورپی ممالک کی خونریز جنگوں کے دوران بیلجیم عسکری کارروائیوں کا مرکز بھی رہا ہے۔
بیلجیم میں ولندیزی اور فرانسیسی زبانیں بولی جاتی ہیں مگر وہاں پر کسی قسم کی فرقہ بندی نہیں ہے۔ ایک چھوٹا ملک ہونے کی حیثیت سے بیلجیم نے کسی بڑے پڑوسی ملک کی حاکمیت قبول کرنے کے بجائے ہالینڈ اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ منڈی کا تصور پیش کیا۔ ابتدائی طور پر برطانیہ نے مخالفت کی کیونکہ برطانیہ کا رحجان امریکہ کی قیادت میں ایک نئے ورلڈ آرڈر اور ساتھ ہی اپنی ملکہ کی قیادت میں کامن ویلتھ قائم رکھنا تھا۔ مشترکہ یورپی منڈی کا نظریہ ترقی کرتے ہوئے جدید یورپی یونین کی شکل اختیار کر گیا جس میں آج 28 ممالک شامل ہیں۔
بیلجیم نے مساوی مواقع پر مشتمل ایک بہترین تعلیمی نظام قائم کیا جس کی بدولت 1997 میں میرے گھر کھجورلہ اور ضلعی ہیڈ کوارٹر کوٹلی کے درمیان چھوٹے سے پس ماندہ گاؤں منیل سے تعلق رکھنے والے معلم چوہدری محمد جمیل ملازمت سے فارغ ہو کر بیلجیم میں آباد ہو گئے۔ اس غیر متعصبانہ تعلیمی نظام نے ہمارے اس ہم وطن چوہدری جمیل کے ہونہار بیٹے حبیب جمیل کو تعلیمی میدان میں ترقی کرتے ہوئے بیلجیم کی قومی ائر لائن کا پائلٹ بنا دیا۔ گو کہ ذاتی قابلیت و صلاحیت مقابلوں کے امتحانات میں بنیادی شرط ہے لیکن ذہانت اور ماحول ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ جبیب جمیل کو جو صحت مندانہ تعلیمی نظام ملا اس سے اس نے بخوبی استفادہ کرکے اپنے والدین اور ملک و قوم کا نام روشن کیا ۔
حبیب نے اپنی پیشہ وارانہ تربیت کے آخری دو سال امریکی ریاست کیلیفورنیا میں گزارے۔ اب اس کے پاس دو ممالک کے لائسنس ہیں۔ چوہدری جمیل نے بتایا کہ کل تعلیمی اخراجات ایک لاکھ دس ہزار یورو آیا۔ ان کے پاس صرف دس ہزار یورو تھے۔ ایک لاکھ بیلجیم کی حکومت نے اس شرط پر امداد دی کہ ان کا بیٹا پائلٹ بن کر اپنی تنخواہ میں سے ہر ماہ کچھ رقم بطور قسط حکومت کو واپس کرے گا۔ یورپ میں حکومتیں زہین بچوں کو اعلی تعلیم کے لیے قرض دے دیتی ہیں۔
مجھے یہاں اپنا ایک عزیز یاد آ رہا ہے جو اپنی ہی ریاست میں میجر سے کرنل اس لیے نہیں بن سکتا کہ وہ ایک کشمیری ہے۔ پاکستانی فوجی قوانین کے مطابق جو کشمیری خونی لکیر سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر رہتا ہے وہ کرنل نہیں بن سکتا۔ اس لیے اسے میجر کی پوسٹ کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی چالیس سال عمر سے پہلے ہی بطور میجر ریٹائر ہونا پڑتا ہے۔ جبکہ یورپی ممالک میں کسی بھی جگہ کسی کشمیری پر یہ پابندی عائد نہیں ہے۔ ہمیں اپنی ریاست کے اندر اس تعصب کے خاتمے کے لیے بھرپور جد و جہد کرنی چاہئے بلکہ صورت حال کا تقاضا ہے کہ آزاد کشمیر کو بچانے کے لیے ہر سرکاری و غیر سرکاری ریاستی باشندہ اپنا کردار ادا کرے۔
ریاست کو بچانا صرف آزادی پسندوں کا فرض نہیں بلکہ ہر ریاستی شہری کی ذمہ داری ہے۔ سب سے زیادہ متاثر تو وہی ہوں گے جو 75 سالوں سے مزے لیتے آ رہے ہیں۔ ہم آزادی پسندوں نے تو صرف قربانیاں دی ہیں اور آگے چل کر بھی ہمارے حصے میں قربانیاں ہی آئیں گی۔