عدالتی فیصلہ پارلیمانی اختیار پر حملہ ہے

سپریم کورٹ نے حسب توقع حمزہ شہباز کا انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ  چوہدری پرویز الہیٰ پنجاب کے منتخب وزیر اعلیٰ  ہیں۔  اس فیصلہ پر   ملک میں سیاسی تقسیم کے تناظر میں  ہی  رائے زنی کی جائے گی ۔ تاہم   سیاسی ہمدردیوں  اور نفع و  نقصان سے قطع نظر اس فیصلہ نے ملک میں  منتخب اسمبلیوں کے اختیار اور ان کے کسٹوڈینز  اسپیکر و ڈپٹی اسپیکرز  کے  اختیارات  و استحقاق کو مسترد کرنے  کی افسوسناک روایت قائم کی ہے۔

ملکی  سپریم کورٹ نے    اگر جلد  ہی آئین کی بالادستی کے نام پر آئین میں خرد برد اور منتخب ایوانوں کے بارے میں اپنے دائرہ اختیار  کی حدود مقرر نہ کیں تو  جمہوریت محض تماشہ بن کر رہ جائے گی۔ کسی ملک کی عدالت کو آئین کی توجیہہ کا ایسا اختیار نہیں دیا جاسکتا  جو پاکستان کی سپریم کورٹ نے خود ہی اپنے آپ کو عطا کرلیا ہے۔   اس نے آئین  میں ایسے نکات  شامل کرنے پر  اصرار کیا جو آئینی دستاویز  کے اصل حروف کا حصہ نہیں   تھے ۔ تاہم   جب  عدالت ہی کے فیصلہ کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر  نے منحرف ارکان کے بارے میں ایک رولنگ دی اور  مسلم لیگ (ق) کے ووٹوں کو مسترد کردیا تو سپریم کورٹ ایک نیا قضیہ کھڑا کرکے بیٹھ گئی کہ اس کے فیصلہ اور آئین میں  پارلیمانی پارٹی کو اختیار  دیا گیا ہے  کوئی پارٹی لیڈر  ارکان کو حکم نہیں دے سکتا۔

پنجاب میں انتخاب کے بعد  چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جس عجلت میں رات گئے چوہدری پرویز الہیٰ کی  پٹیشن قبول کرنے کے لئے رجسٹرار کا دفتر کھولنے کا حکم دیا اور ہفتہ کے روز سماعت کے دوران جو ریمارکس دیے گئے یا اسی روز جاری ہونے والے مختصر حکم نامہ میں    جو رائے دی گئی ، اس کے بعد کسی پاکستانی شہری کو  شبہ نہیں رہا تھا کہ تین ججوں پر مشتمل یہ بنچ کیا فیصلہ دینے والا ہے۔ اس کے باوجود سوموار کو فل کورٹ بنانے کے لئے دلائل کے نام پر سارا دن عدالت لگائی گئی اور آج  ایک فریق کے بائیکاٹ کے باوجود عدالتی کارروائی مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔   چند گھنٹے کے وقفے کے بعد  یہ فیصلہ سنایا گیا۔ حیرت  کی بات ہے کہ جو فیصلہ جمعہ کی رات ہی کو کرلیا گیا تھا اس کے لئے منگل تک انتظار کی زحمت کیوں کی گئی۔ اگر عدالت عظمیٰ کے فاضل ججوں کو پنجاب کی انتظامی صورت حال کی اتنی ہی فکر تھی جس کا اظہار متعدد بار چیف جسٹس کے ریمارکس کی صورت میں سامنے آیا کہ  اس بے یقینی کو جاری رہنے کی اجازت نہیں دے سکتے، تو اصولی اور اخلاقی طور سے چیف جسٹس جمعہ کی رات ہی   مختصر حکم جاری  کرکے معاملہ ختم کرسکتے تھے۔   جمعہ کی رات سے  منگل  کی  رات تک  ہونے والی ساری بھاگ دوڑ بے مقصد تھی کیوں کہ بنچ میں شامل تین جج اپنا ذہن بنا چکے تھے۔  اور ان تین روز کے دوران وکیلوں سے زیادہ  خود ججوں نے   ریمارکس کے نام پر  اپنے پہلے فیصلہ کے نقائص کو چھپانے اور نئے فیصلہ کا عذر تراشنے کے لئے ’دلائل ‘ کا انبار لگایا۔

قومی اسمبلی کے  سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر سوموٹو سے لے  کر، آئینی شق 63 اے  کے بارے  میں صدارتی ریفرنس پر فیصلہ اور آج پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر  دوست محمد نیازی کی رولنگ کو غلط قرار دینے  کا حکم،   بلاشبہ ملکی سیاست کو متاثر کریں گے۔  لیکن اس سے بھی بڑھ کر ملک میں پارلیمانی  جمہوریت کے امکانات، منتخب اسمبلیوں کے اختیارات اور  آئین کی بالادستی    داؤ پر لگی  ہے۔   ان چند ہفتوں میں سپریم کورٹ کے ججوں کے ایک اقلیتی گروہ کی جانب سے  تواتر سے متنازعہ  فیصلے  کئے گئے ہیں ۔ ان سے بلاشبہ  سیاسی معاملات میں  مداخلت  کے ایک نئے دور کا آغاز ہؤا ہے۔   پرویز الہیٰ کی پٹیشن ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بارے میں تھی لیکن عدالت  نے حکم جاری کرتے ہوئے نہ صرف رولنگ مسترد کی بلکہ حکم دیا کہ  پرویز الہیٰ رات گیارہ بجے تک  وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھالیں۔ اور اگر گورنر پنجاب میسر نہ ہوں تو صدر مملکت ان سے حلف لیں۔  چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کو بتانا چاہئے کہ وہ کون سی وجوہات تھیں کہ عدالت معاملہ کے صرف  قانونی پہلو تک  محدود نہیں رہ سکی بلکہ اس نے سیاسی انتظامی  معاملہ میں واضح ہدایات جاری کرنا بھی ضروری سمجھا۔ اس کی نہ تو درخواست کی  گئی تھی اور نہ ہی عدالت کو  ملک کا آئین ایسے فیصلے صادر کرنے کا حق عطا کرتا ہے۔ تاآنکہ فاضل چیف جسٹس عمر عطا بندیا ل اس  پہلو سے بھی آئین کا حلیہ بگاڑنے  کا تہیہ نہ کئے ہوئے ہوں۔

یہاں یہ بات اصرار کے ساتھ کہنے کی ضرورت ہے کہ ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد  اتحادی  پارٹیوں کو سیاسی جوڑ توڑ اور تکنیکی  نکات کی مدد سے پرویز الہیٰ اور تحریک انصاف کی اکثریت کو مسترد کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے تھی۔  ملکی سیاست میں یہ اچھی روایت ہوتی کہ حمزہ شہباز خود اپنی شکست قبول کرتے اور پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھانے کی دعوت دیتے۔ خاص طور سے اگر موجودہ سیاسی حالات کے پس منطر پر نگاہ دوڑائی جائے اور دیکھا جائے کہ اتحادی پارٹیاں خود  پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی تھیں اور عمران خان کے خلاف عدم اعتماد سے پہلے اس  پر اتفاق رائے بھی ہوگیا تھا لیکن پرویز الہیٰ اس معاہدے سے منحرف ہوگئے۔ یہی انحراف درحقیقت ان کے اور چوہدری شجاعت حسین کے درمیان سیاسی اختلاف کی بنیاد بھی بنا ہے۔  خبروں کے مطابق ضمنی انتخاب  میں اکثریت سے محروم ہونے کے بعد آصف زرداری اور اتحادی جن آپشنز پر کام کرتے رہے تھے، ان میں پرویز الہیٰ کو دی جانے والی یہ پیشکش بھی شامل تھی کہ  وہ تحریک انصاف کی بجائے اتحادی جماعتوں کی طرف سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوجائیں۔

 اگر  پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنانے پر  ہی کوئی اعتراض نہیں تھا توسیاسی لحاظ سے تو یہ بہتر حکمت عملی ہوتی کہ ان کو حاصل اکثریت کا احترام کیا جاتا اور آنے والے دنوں میں ان کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کے لئے کام کیا جاتا تاکہ مرکز میں شہباز شریف کی حکومت کے لئے متوقع خطرات کو ٹالا جاسکتا۔ چوہدری پرویز الہیٰ اب سپریم کورٹ کے حکم سے وزیر اعلیٰ بنیں گے اور اس دوران  پیدا ہونے والے فاصلے سیاسی دوریوں میں اضافہ کریں  گے۔ جب تک اس ملک کے سیاست دان خود جمہوری اصولوں کو ماننے اور اسمبلیوں کو بااختیار بنانے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق نہیں ہوں گے تو  کبھی فوج اور کبھی عدالت ان کے حق کو مسلوب کرتی رہے گی۔ سپریم کورٹ کے ہاتھوں قومی اسمبلی کے بعد اب پنجاب اسمبلی کی جو درگت بنائی گئی ہے،  وہ مستقبل کے  لئے   سبق آموز ہونی چاہئے لیکن کیا  ملکی سیاست دان  یہ سبق سیکھ کر مستقبل قریب میں کوئی بہتر پارلیمانی روایت قائم کرسکتے ہیں؟ یہ خواہش تو کی جاسکتی ہے لیکن تصادم اور سیاست کو ذاتی دشمنی بنانے کے موجودہ ماحول میں  اس کا امکان موجود نہیں ہے۔

اپریل میں جب سپریم کورٹ نے قاسم سوری کی رولنگ پر سو موٹو لیا تھا تو اتحادی جماعتوں نے اطمینان کا سانس  لیا تھا حالانکہ آئینی تقاضوں کے برعکس  رولنگ پر معاملات کسی نہ کسی صورت قومی اسمبلی میں ہی طے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔ اس کے لئے سپریم کورٹ کے  حکم کا انتظار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ کیوں کہ   اس  طرح  بہر حال  پارلیمنٹ کی خود مختاری کا اصول تو پامال ہؤا تھا۔ اب پنجاب اسمبلی کی کارروائی کو عدالت میں تماشہ بناکر دوسری طرح کا حکم دیا گیا ہے۔ اور بڑے فخر سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہی ججوں نے پہلے  ایک وزیر اعظم (عمران خان)  کے خلاف راہ ہموار کی اور اب  انہوں نے ایک وزیر اعلیٰ کا انتخاب کالعدم قرار  دیا۔  ایسے فیصلوں   کو سپریم کورٹ کے  ججوں کا اعزاز  کہنے کی بجائے،   انہیں   ملک کی اعلیٰ ترین عدالت  کی ذمہ داری کے پہلو سے دیکھنا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کو ایسے مشکل فیصلے کرتے ہوئے  فیصلے کی زبان اور ججوں کے ریمارکس کی شکل میں انکسار  کا اظہار کرنا چاہئے۔  سپریم کورٹ کے پلیٹ فارم سے یہ تاثر آنا غلط اور ملکی آئین کی روح کے منافی ہے کہ   عدالت عظمی کے جج جو چاہیں حکم جاری کرسکتے ہیں کیوں کہ  ان کے خلاف کسی ادارے میں اپیل نہیں ہوسکتی۔    ججوں کو البتہ  یاد رکھنا چاہئے کہ  تاریخ ان فیصلوں کو کھنگالے گی اور آنے والی نسلیں ان فاضل ججوں کی غلطیوں سے ملک میں آئین و جمہوریت کو پہنچنے والے نقصان  کا جائزہ لیں گی۔  جیسے  سپریم کورٹ نے ماضی  میں دیے گئے فیصلوں سے رجوع تو نہیں کیا اور نہ ہی ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل پر معافی مانگی ہے لیکن  عوام  آمروں کے خوف  سے   نظریہ ضرورت کی آڑ میں اپنے ضمیر  گروی رکھنے والے ججوں کو بھولے نہیں ہیں۔

یہ بات البتہ طے ہے کہ  اگر منتخب سیاست دان ہی فوج یا عدالت کی حدود مقرر کرنے اور  مل کر آئینی  خلاف ورزیوں کو مسترد کرنے کی  کوشش نہیں کریں گے بلکہ ایسے معاملات پر گروہ بندی کرکے ایک دوسرے کو ہی مطعون کرنے  کا شعار  اپنائیں گے تو  صورت حال تبدیل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ 

سپریم کورٹ کا تازہ ترین حکم اگرچہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب اور  بظاہر اکثریتی ارکان کے حق انتخاب کو تسلیم کرنے کے بارے میں ہے لیکن اس فیصلہ کو ملک  میں جاری سنگین اور پیچیدہ صورت حال سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ فیصلہ ملک میں جلد انتخابات کے انعقاد کے لئے  دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال ہو گا۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ موجودہ اتحادی حکومت مشکل  معاشی فیصلے کرنے اور اس کی سیاسی قیمت ادا کرنے کے بعد فوری طور سے انتخابات میں عوام کا سامنا کرنا نہیں چاہتی ۔حکومت یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ آئیندہ برس سے پہلے انتخاب نہیں چاہتی تاکہ ایک سال کے دوران عوام کو کچھ سہولت دے کر ، موجودہ حکومت میں شامل پارٹیاں اپنی سیاسی پوزیشن بہتر بنا سکیں۔  اس کے ساتھ  ہی یہ حقیقت بھی چھپی نہیں ہے کہ تحریک انصاف کے علاوہ عسکری حلقے بھی اس سال کے آخر تک انتخابات کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔   سپریم کورٹ  کا سہ رکنی بنچ دانستہ یا نادانستہ طور سے اپنے تازہ حکم کے ذریعے اس افسوسناک چپقلش کا براہ راست حصہ بنا ہے۔ اس کے نتیجہ میں عدالت عظمی کی شہرت اور متعلقہ ججوں کی نیک نامی پر سوالات اٹھائے جائیں گے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ  کے جن  دو   ججوں نے  زیر بحث معاملہ پر حکم جاری کیا  ہے،   مخالف  فریق ان پرعدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں۔   مسلم لیگ (ن) بنچ میں شامل ایک جج  کو متعصب اور  اپنی پارٹی کا دشمن قرار دے چکی ہے۔  یہ پہلو نہایت افسوسناک ہے کہ ان تینوں ججوں  میں سے کسی   ایک میں  بھی اتنی اخلاقی جرات نہیں تھی کہ وہ    عدم اعتماد اور شکوک کے اظہار کے بعد خود ہی بنچ سے علیحدہ ہوجاتا۔ عدالتی تاریخ میں  ججوں کا یہ رویہ بھی مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔