چوہدری پرویز الہٰی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھا لیا

  • بدھ 27 / جولائی / 2022

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی نے گزشتہ شب وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔

 گزشتہ روز چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپکیر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔ چیف سیکریٹری پرویز الہٰی کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

فیصلے میں ہدایت کی گئی کہ عدالتی فیصلے کی کاپی گورنر پنجاب کو ارسال کی جائے، گورنر اگر حلف لینے سے انکار کرے تو صدر مملکت حلف لیں۔ تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے حلف لینے سے معذرت کے بعد چوہدری پرویز الہٰی، چودھری وجاہت حسین، موسیٰ الٰہی، میاں محمودالرشید، زین قریشی اور مراد راس کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے جہاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان صدر میں نامزد وزیراعلیٰ پرویز الٰہی سے حلف لیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ حمزہ شہباز کے لگائے گئے تمام مشیران، معاونین کو بھی فارغ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ کیس کی سماعت گزشتہ روز صبح 11:30 بجے شروع ہوئی تھی اور 2 وقفوں کے ساتھ رات 9:15 بجے تک جاری رہی۔

فیصلے سنائے جانے کے فوراً بعد سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کے جھنڈے تھامے پرجوش ہجوم سمیت احاطے میں موجود متعدد حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور نعرے لگائے۔ پولیس کی بھاری نفری کی جانب سے عدالت عظمیٰ کی عمارت کی جانب جانے والی سڑکوں کو بند کرنے کے باوجود حامیوں کی بڑی تعداد پنڈال تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی اور جو نہ پہنچ سکے انہوں نے راستے میں مختلف مقامات پر جشن منانا شروع کر دیا۔

واضح رہے کہ کیس کی سماعت میں پرویز الٰہی کی نمائندگی بیرسٹر سید علی ظفر، امتیاز رشید صدیقی اور فیصل فرید نے کی جبکہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے عرفان قادر، حمزہ شہباز کی جانب سے منصور عثمان اعوان پیش ہوئے، فاروق ایچ نائیک پیپلزپارٹی کی جانب سے اور صلاح الدین احمد چوہدری شجاعت کی جانب سے پیش ہوئے۔