ڈالر 4 روپے اضافے کے بعد 237 کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید 4 روپےکمی کے بعد 237 روپے کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آگیا ہے۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق کل 232 روپے 93 پیسے پر بند ہونے والی مقامی کرنسی آج دن گیارہ بج کر 30 منٹ تک 3 روپے 77 پیسے کی مزید کمی کے ساتھ 236 روپے 70 پیسے کی سطح تک گر گئی ہے۔ ملک بوستان نے روپے کی قدر میں تیزی سے ہونے والی کمی اور ڈالر کے ریٹ کو قابو کرنے کے لیے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ڈالر کی قیمت میں استحکام لانے کے لیے بیرون ملک سے ڈالر کی آمد کو بڑھانا ہوگا۔
ایسے ایکسپورٹرز جو مقررہ وقت پر صرف اس لالچ کے باعث اپنا برآمدی زرمبادلہ ملک میں نہیں لارہے ہیں کہ ڈالر کا ریٹ ابھی مزید بڑھےگا، ان برآمد کنندگان کے خلاف مرکزی بینک کو سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ فاریکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تجارت ڈالر کے بجائے روپے میں کرنا ہوگی جس سے ہمارا ماہانہ 2 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچے گا۔
اس وقت افغانستان کا سارا بوجھ پاکستان برداشت کررہا ہے۔ ملک میں ڈالر کا بہاؤ اور انفلو پہلے ہی بہت کم ہے۔ ان حالات میں ماہانہ 2 ارب ڈالر کی افغانستان منتقلی ہماری مشکلات بڑھا رہی ہے۔ ملک بوستان نے کہا اس مشکل صورتحال پر قابو پانے کے لیے واضح پالیسی بنانا ہوگی۔
ٹریس مارک کی ہیڈ آف اسٹریٹیجی کومل منصور نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ جب تک مارکیٹ میں ڈالر کی کمی رہے گی اس وقت تک روپے پر دباؤ برقرار رہے گا۔ یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ ڈالر ریٹ کہاں جا کر رکے گا، اس کا انحصار مارکیٹ میں ڈالر کے انفلو سے ہے۔
دوسری جانب میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ اور دوست ممالک کی جانب سے فنڈز کی آمد کے ساتھ آنے والے سیشنز میں روپے پر دباؤ کم ہوگا۔ جولائی کے دوران درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی مانگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ کے مطابق جولائی کے دوران اب تک کی مجموعی درآمدات (25 جولائی تک) صرف 3.7 ارب ڈالر رہیں، ان اعداد شمار کے مطابق ڈیمانڈ سائیڈ دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی اور جولائی کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس رہ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روز روپے کی قدر1.31 فیصد یا 3 روپے 5 پیسے کی کمی کے بعد 232 روپے 95 پیسے پر بند ہؤا تھا۔