سندھ اور بلوچستان میں بارشوں سے تباہی، آٹھ افراد جاں بحق
سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں مسلسل موسلا دھار بارشوں نے تباہی مچادی اور مختلف حادثات میں مزید 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔ پل اور سڑکیں بہہ جانے کے باعث متعدد پھنسے ہوئے افراد امداد کے منتظر ہیں۔
سندھ کے ضلع خیرپور میں ایک خاندان پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب پیر کی رات رانی پور کے قریب گمبٹ کے علاقے میں موسلادھار بارش کے دوران مکان کی چھت گئی۔ اس کے نتیجے میں ایک شخص 2 کم عمر بیٹوں سمیت جاں بحق ہوگیا، حادثے میں مرحوم کی بیوی اور 2 بیٹیاں شدید زخمی ہو گئیں۔
کراچی میں مسلسل تیسرے روز وقفے وقفے سے جاری رہنے والی ہلکی اور تیز بارش کے دوران کرنٹ لگنے اور ڈوبنے کے واقعات میں مزید 5 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ شہر کے کئی علاقوں میں بارش کا پانی جمع رہا۔
سندھ کے دیگر علاقوں میرپورخاص، لاڑکانہ، دادو، قمبر شہدادکوٹ اور ان سے ملحقہ قصبوں، دیہاتوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال رہی۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق معمولات زندگی کی جانب لوٹنے کے خواہش مند شہریوں کو موسلا دھار بارشوں میں وقفے کے لیے مزید ایک دن اور انتظار کرنا پڑے گا۔ بارش کا موجودہ سلسلہ 27 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے۔ جمعرات سے اس کی شدت میں کمی ہونا شروع ہو جائے گی۔
محکمہ موسمیات نے جاری کردہ مختصر بیان میں بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، حیدرآباد، مٹیاری، سانگھڑ، شہید بینظیر آباد، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، جامشورو، شکارپور، قمبر-شہداد کوٹ، گھوٹکی اور کندھ کوٹ، کشمور میں 27 جولائی تک کہیں کہیں تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
ادھر بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے اوراکی میں خواتین اور بچے سمیت کم از کم 300 افراد امداد کے منتظر ہیں جہاں شید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے متعدد دیہات زیر آب آ گئے، کچے مکانات بہہ گئے اور لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ مقامی انتظامیہ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ بے گھر افراد کے پاس خوراک اور پینے کے پانی کی کمی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ایک بیان میں بتایا کہ 2 ہیلی کاپٹر اوراکی کے علاقے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے لسبیلہ پہنچیں گے۔ سیکیورٹی فورسز نے بیلہ اور اتھل کے علاقوں میں کم از کم 100 لوگوں کو بچایا اور محفوظ مقامات پر منتقل کرکے خوراک اور دیگر ضروری اشیا فراہم کیں۔
شدید بارشوں سے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان 3 پلوں سمیت ہائی وے کے کچھ حصے بہہ جانے کے باعث معطل ہونے والی ٹریفک 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی بحال نہ ہو سکی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ مون سون بارشوں کے دوران بلوچستان میں خواتین اور بچوں سمیت 104 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔