ہر محکمے کو اس کی حدود میں بٹھانا ہو گا
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 27 / جولائی / 2022
پاکستان کا سیاسی عدم استحکام اس وقت طوائف الملوکی، انارکی، افراتفری اور بے یقینی کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ عدم برداشت اور عدم رواداری کا یہ عالم ہے کہ ہر ایک دوسرے کو چور، ڈکیت، آئین شکن اور ملک دشمن خیال کر رہا ہے۔
گویا اپنی حکمرانی کیلئے سیاسی اختلاف یا مسابقت، حق و باطل، دین ایمان یا زندگی موت کی جنگ بن چکی ہے۔ بالخصوص سابق کرکٹر تو اپنے سیاسی مفادات کو اٹھتے بیٹھتے جہاد کا نام دیتا ہے ۔ پاکستان کی طاقتور مقتدرہ سے نواز شریف کی لڑائی یہ رہتی تھی کہ تم لوگ اپنی آئینی حدود میں کیوں نہیں رہتے ہو، تم لوگ اپنے مذموم مقاصد کیلئے پولیٹکل انجینئرنگ کیوں کرتے ہو۔ جبکہ لاڈلے کا تنازع یہ ہے کہ تم لوگ نیوٹرل کیوں بن رہے ہو، میں حق پر ہوں جبکہ میرے مخالفین باطل ہیں۔ اس معرکے میں اگر تم لوگ میرا ساتھ نہیں دیتے ہو تو تم جانور ہو کیوں کہ خدا نے یہ حکم دے رکھا ہے کہ تم باطل کے بالمقابل حق کا ساتھ دو۔ قبر میں بھی تم سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں نے اس لاڈلے کا ساتھ کیوں نہ دیا ۔
مسئلہ کسی کھلاڑی یا اناڑی کا نہیں ہے، بائیس کروڑ عوام کے دکھوں کا ہے جو اس وقت کم آمدنی اور کم وسائل کے ساتھ مہنگائی و بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ن لیگ سے عوام بالخصوص پنجاب کے عوام کو بڑی امیدیں تھیں جو اس کی قیادت نے اپنی حماقتوں سے خود مایوسیوں میں بدل ڈالی ہیں۔ نتیجتاً سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ گیا ہے۔ وفاق میں ایک ٹانگ پر ان کی جو حکومت کھڑی ہے، وہ کسی ایک اتحادی کے معمولی دھکے کی مار ہے ۔ آئی ایم ایف کے قرضوں سے جو خواب دکھائے جا رہے ہیں، وہ سب فضول سراب ہیں ۔ بھلے مانسو اگر تمہیں آئی ایم ایف یا کچھ دوستوں سے قرضے مل بھی جائیں گے تو کون سے وارے نیارے ہو جائیں گے اور کتنی دیر تک؟ عوام پر ٹیکسز کی جو بھرمار کر رہے ہو ان عوام کو نچوڑ لو جب ان میں کوئی سکت ہی نہیں رہے گی تو معاشی خوشحالی کہاں سے آن ٹپکے گی؟
کیا اس کے بعد ملک میں اندرونی سرمایہ کاری ہو سکے گی ؟ رہ گئی بیرونی سرمایہ کاری، جب ملک میں سیاسی انتشار مزید بڑھنے جا رہا ہے تو بھول جاؤ کہ باہر سے کوئی سر پھرا یہاں اس مقصد کیلئے آئے گا ۔ تو پھر اس ملک کی اصل خرابی کیا ہے اور اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ؟ یہ خطہ ارضی جس پر یہ ملک قائم ہوا ہے قدرتی وسائل کے لحاظ سے یہاں کس چیز کی کمی ہے ؟ کیا یہاں کی زمینیں بنجر ہیں یا لوگ لولے لنگڑے ہیں ؟ سچائی یہ ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ یہی لوگ بیرون ملک جاتے ہیں تو دنیا ان کی صلاحیتوں کا لوہا مانتی ہے۔ اندرون ملک شاید شیعہ سنی بھی اکٹھے نہیں رہ سکتے مگر بیرون ملک ہندو مسلم اکٹھے بخوشی ایک کمرے میں بھائیوں کی طرح رہ رہے ہوتے ہیں۔ یہاں کی زرخیز زمینیں سونا اگلتی ہیں۔ ندی نالے، دریا، پہاڑ ،میدان چاروں موسم، کیا کچھ نہیں کمی ہے تو ذہنی پستی کی جگہ فکری بلندی و وسعت کی، شتر بے مہار کی بجائے اصول و ضوابط کی۔
مخصوص مفادات کے پجاریوں نے مطالعہ پاکستان کے ذریعے معصوم اذہان میں منافرتوں کا جو بارود بھر رکھا ہے جب تک اس جنونی شکنجے کو توڑا نہیں جائے گا، یہاں شاہ دولے کے چوہے پیدا ہوتے رہیں گے جو اس امر کا پرچار کریں گے کہ ہمارے سوا ساری دنیا بری ہے۔ دوسرے سارے مذاہب اور تہذیبیں بری ہیں بالخصوص یہودوہنود اورانڈیا تو ہمارا ازلی دشمن ہے۔ خدا کیلئے ہمارا میڈیا اس جنونی سلیبس اور زہریلے نظریہ کے خلاف انسان نواز ذہن سازی کیلئے فضا ہموار کرے ۔ اس منافرت بھری ذہنیت کی وجہ سے یہاں دھوکے باز بہروپیے، مداری اپنا مذہبی و جنونی منافرت بھرا چورن بیچ کر ڈگڈگی بجاتے ہیں۔ یوں ہر دو تین دہائیوں بعد قوم کو برباد کرجاتے ہیں۔ تعمیرواصلاح جان جوکھوں کا کام ہے جبکہ تخریب و بربادی کیلئے ایک دھماکہ کافی ہوتا ہے۔
آج ہم رو رہے ہیں کہ ہمارے ادارے اپنی حدود میں نہیں۔ ہماری عدالتوں میں انصاف نہیں، ایک ثاقب نثار سے جان چھوٹتی ہے تو دوسرا چہرہ اسی ذہنیت کےساتھ آن بیٹھتا ہے۔ عدل کے نام پر اپنا الو سیدھا کرتا ہے، بنچ کو دیکھ کر فیصلہ آنے سے پہلے فیصلہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ۔ڈھٹائی کی حد ہے کہ ایک نوعیت کے معاملے میں متضاد فیصلے صادر کرتے ہوئے ذرا شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی ۔ عین حالت جنگ میں بولا گیا چرچل کا ایک فقرہ ضرب المثل بن چکا ہے کہ اگر ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو اس ملک و قوم کو کوئی خطرہ نہیں۔ درویش کا دادا کہتا تھا پتر انصاف انگریزوں پر ختم تھا۔ ہو سکتا ہے کوتاہی بھی ہوئی ہو مگر پارٹیشن کے بعد ہم نے جوڈیشل ایکٹیوازم کے نام پر جو گھناؤنا کردار ادا کیا ہے حوالہ جات کے ساتھ اس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔ آج ہماری ماتحت عدالتوں سے لے کر سپریم جوڈیشری تک کس کس کا رونا روئیں۔ کہا تو یہ گیا تھا کہ وہ شخص امامت نہ کرے جسے نمازی پسند نہ فرمائیں یہاں جس بنچ پر عدم اعتماد کیا جاتا ہے اس کی ڈھٹائی یا سینہ زوری سب کےسامنے ہے۔ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا یا انصاف کا خون ہونا آخر کس کو کہتے ہیں ؟
مزید کمی ہے تو جسٹس قاضی فائر عیسیٰ صاحب کا حالیہ خط ملاحظہ فرمالیا جائے ۔ سو باتوں کی ایک بات کسی بھی پارلیمانی جمہوریت میں منتخب وزیر اعظم قومی قائد ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم کا ایک طرح سے باپ ہوتا ہے، اپنے تمام شہریوں کو بلاامتیاز رنگ ونسل، مذہب وعقیدہ یا جنس وزبان ایک نظر سے دیکھتا ہے اس ملک کے دیگر تمام ادارے محکمے یا افسران وغیرہ منتخب پارلیمینٹ کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہو کر آئین کی مطابقت میں قائد ایوان کی اتھارٹی کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس جمہوری عظمت و اتھارٹی کا تقاضا ہے کہ عسکری و عدالتی چیفس سے لے کر تمام بڑی بڑی تقرریاں منتخب قومی قائد کرے اور اس میں کسی بھی نام نہاد طاقتور محکمے یا اس کے چیف کو چوں وچرا کا حق نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اداروں کا ڈھول پیٹنا بھی ختم ہونا چاہئے۔ ادارے صرف عوامی ہوتے ہیں چاہے منتخب ہوں یا نجی طور پر۔ عوام کے اپنے، سرکاری تو محکمے ہوتے ہیں جیسے جوڈیشری کا محکمہ ہے یا محکمہ دفاع ہے۔
درویش کی نظر میں سپریم ادارہ صرف پارلیمینٹ ہے جو بائیس کروڑ عوام کی امنگوں کا ترجمان ہے۔ بہتر ہوگا کہ سپریم جوڈیشری کو فیڈرل جوڈیشری یا فیڈرل کورٹ کا نام دیا جائے اور ججز کی اپوائنٹمنٹ کا طریق کار ترقی یافتہ مہذب جمہوری ممالک کی طرح منتخب پارلیمینٹ کے حوالے ہو۔ اگر ہم بھانت بھانت کی بولیوں، فکری انتشار اور سیاسی عدم استحکام کی جگہ مضبوط و مستحکم قوم بن کر اٹھنا چاہتے ہیں تو پھر پارلیمینٹ کی عظمت اور اس کے منتخب قائد کی اتھارٹی کو بالفعل منوانا ہوگا۔ منافرت و حقارت کی جگہ بشمول بھارت پوری دنیا سے محبت و بھائی چارے کو پروان چڑھانا ہو گا۔ ہر محکمے کو اس کی آئینی حدود میں بٹھانا ہو گا۔