فسطائیت کا مقابلہ کریں گے لیکن جھکیں گے نہیں: شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کو عظیم تر بنائیں گے۔ ہم عمران خان کی فسطائیت کا مقابلہ کریں گے لیکن جھکیں گے نہیں۔ جو ذمہ داری مجھے ملی ہے، جب تک پارٹی قائد اور اتحادی جماعتوں کا اعتماد ہے، میں اپنی کوششیں کرتا رہوں گا۔
اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان دنوں طوفانی بارشوں نے ہر جگہ تباہی پھیلائی۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، چترال، کراچی اور سندھ کے دوسرے علاقوں میں بے پناہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور بے پناہ نقصانات ہوئے۔ اللہ سے دعا ہے کہ جانے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد سے جلد صحت عطا فرمائے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کسانوں کو جو نقصان ہوا ہے، اس حوالے سے بھی بھرپور کردار ادا کریں گے۔ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جو کچھ کرسکتی ہے وہ کریں گے۔ پورے پاکستان میں جہاں پر بھی نقصانات ہیں ان کا مداوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
انسانی فطرت ہے کہ جب بچے کو تکلیف ہوتی ہے تو ماں بچے کی طرف دوڑتی ہے اور بچہ ماں کی طرف آتا ہے۔ یہ معزز ایوان پاکستان کے آئین کی ماں ہے، 1973 کا متفقہ آئین ہے۔ جس میں پورے پاکستان کی منتخب لیڈرشپ شامل تھی، اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی لیڈرشپ میں پاکستان بھر سے منتخب اراکین نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ یہ آئین کی تشکیل دیا۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ آئین پاکستانی وحدت کی بہت بڑی نشانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بدترین وقتوں میں بھی اسی آئین نے پاکستان کو پوری دنیا کے سامنے مضبوط و متحد ملک کے طور پر پیش کیا۔ یہی آئین صدیوں تک پاکستان کی رہنمائی کرتا رہے گا، پاکستان کو مضبوط کرتا رہے گا۔ وزیر اعظم نے کہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، وہی مالک اور خالق ہے۔ اس نے جو اختیار انسانوں کو دیا ہے اور 22 کروڑ عوام نے اس منتخب ایوان کو دیا ہے، یہ وہ اختیار ہے جسے مقدس امانت جان کر یہ ایوان اس کو استعمال کرتا ہے۔ مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ ہو، آئین نے ان کے اختیارات متعین کر دیے ہیں۔ آئین بتاتا ہے کہ اپنے دائرے میں رہ کر پاکستان کی خدمت کرنی ہے اور پاکستان کو آگے بڑھانا ہے۔
75 سال گزرنے کے باوجود آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا، ملک میں ایک سے زائد بار مارشل لا آئے، جو کئی دہائیوں تک ملک پر مسلط رہے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا، اور جمہوریت کا پودا اتنا طاقتور نہ ہوسکا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ پارلیمان کی طاقت اس طرح ابھر کر سامنے نہ آسکی جس طرح اس کو آنا چاہیے تھا۔ قرب و جوار میں نظر دوڑائیں تو وہ ممالک جو بہت پیچھے تھے، آج ترقی کی دوڑ میں آگے نکل چکے ہیں۔ اغیار نے آئی ایم ایف کو کبھی کا خیرباد کہہ دیا، غربت اور بیروزگاری کو انہوں نے دفن کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ میں بدترین جھرلو الیکشن تھے۔ ایک ایسی حکومت مسلط ہو گئی جو صریحاً دھاندلی کی پیداوار تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کس طرح رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس سسٹم بند ہوگیا اور کس طرح نتائج وہ دیہاتوں میں پہلے آگئے اور شہروں میں کئی کئی دن نتائج نہیں آئے۔ امیدواروں کا جو حق تھا اس کو سابق چیف جسٹس کے حکم پر گنتی کو رکوایا گیا، وقت پر گنتی نہ ہوئی۔
2018 کی حکومت تاریخ کی بدترین دھاندلی کی پیداوار تھی۔ ساڑھے تین، پونے چار سالوں میں ان کی کارکردگی قوم کے سامنے ہے۔ انہوں نے 20 ہزار ارب روپے سے زائد کے قرضے لیے، 2018 میں جی ڈی پی 5.8 فیصد تھی، 2019 اور 2020 میں منفی ہوگئی۔ لاکھوں لوگوں کو روزگار دینا تو دور کی بات تھی، لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔ لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا جنازہ نکل رہا تھا۔ اس وقت متحدہ اپوزیشن سیاست کو مقدم رکھتی تو ریاست کا خدا حافظ تھا۔ ہم سب نے مل کر مشاورت کی، فیصلہ کیا کہ ریاست کو بچانا ہے۔ ریاست کو نہ بچایا تو سیاست صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔ ہم جانتے تھے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، جانتے تھے کہ معیشت کو بحال کرانا آسان کام نہیں۔ ہم جانتے تھے کہ مہنگائی، بیروزگاری عروج پر ہے۔ کیا ہم چور دروازے سے آئے؟ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس پر کسی نے چڑھائی نہیں کی بلکہ ایوان اور ووٹ کی طاقت سے آئین اور قانون کے مطابق بدترین کرپٹ حکومت کو بدلا اور چیلنج قبول کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈنکے کی چوٹ پر کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے پتا تھا کہ حکمراں اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے کمال مہربانی سے، سب نے مل کر بڑی محبت سے اور میرے قائد نواز شریف نے مجھے منتخب کیا۔ میں جانتا تھا کہ یہ پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ کانٹوں کا ایک بہت خاردار سفر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ان کی معاونت قبول کی۔ وزیر اعظم بننا ہوتا تو ماضی میں 1992 میں ایک صدر نے کہا تھا کہ تم وزیراعظم بن جاؤ، بعد ازاں جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وزیراعظم بن جاؤ، اس کے علاوہ بھی ایسے راز ہیں جو میرے دل میں دفن ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب پاناما کے بدلے اقامہ میں ناجائز سزا دی گئی تو ایک قانونی اور آئینی مجبوری تھی کہ کسی کو وزیر اعظم منتخب کرنا تھا، انہوں نے مجھے چنا۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے پنجاب کے عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے، میں پنجاب کے منصوبوں کو مکمل کرلوں۔ اگر عدالت بلائے تو ہمیں جانا چاہیے اس میں کوئی دو رائے نہیں لیکن فیصلہ انصاف اور حق کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ میرے ساتھ کوئی اور برتاؤ کریں اور کسی کے ساتھ کوئی اور برتاؤ کریں۔
سابقہ حکومت سے ہم نے جان چھڑوائی۔ کرپشن کے حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کرپشن کی سب سے زیادہ سطح پی ٹی آئی کی حکومت میں تھی۔ ہم نے دوست ممالک ترکی، سعودی عرب، چین کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور پھر یہ کہتے ہیں کہ امپورٹڈ حکومت ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ جب عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر آئے تھے تو کہا تھا کہ میں ایک اور ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں۔
میں نے کہا کہ اگر روس سے سستی گندم ملتی ہے تو بہت اچھی بات ہے۔ میں نے ان ممالک کو بھی بتا دیا کہ ہم نے پاکستان کا مفاد دیکھنا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بچانا ہیں، پرسوں ان کی جانب سے پیشکش آئی ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ ہم مؤخر ادائیگی پر گندم خریدیں گے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ایجنٹ یہ ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کرتے، اس کیس کو 8 سال ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ عمران خان نے منگوائی، 8 سال سے یہ کیس موجود ہے کسی نے ازخود نوٹس لیا۔ پونے چار سالوں میں ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جس کا مقصد تھا کہ پوری اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر ان کا نام و نشان مٹا دے۔
بی آر ٹی پشاور میں اربوں کے غبن ہوئے، ہیلی کاپٹر کیس، مالم جبہ کیس اور اس کے علاوہ مونس الہٰی کا کیس نیب کرتا ہے۔ کسی نے اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا، بیٹیاں، بہنیں گرفتار کی گئیں، کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ سابق وزیراعظم کی سگی بہن کے غیر ظاہر شدہ اثاثوں کو خاموشی سے ایف بی آر سے این آر اور دلوایا جاتا ہے، کوئی نوٹس نہیں لیتا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’کفر کا نظام رہ سکتا ہے لیکن بے انصافی کا نظام نہیں چل سکتا‘۔ میں ایوان کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آج ہم نے سچ کو سچ نہ کہا تو مملکت خداداد شدید مشکلات میں گھر جائے گی۔ میرے منہ میں خاک، پھر جب مؤرخ اس ملک کی تاریخ لکھے گا تو پھر آئندہ آنے والی نسلیں اس پر فیصلے دیں گی۔ ایک لاڈلے کو 15 سال دودھ پلایا گیا اور اس کو لاکر بٹھایا گیا، ادارے دن رات اس کے لیے وہ کام کرتے تھے کہ آج ہم سوچتے ہیں تو عقل حیران ہوتی ہے۔ 75 سال میں کسی کو ایسی سپورٹ نہیں ملی اور نہ کبھی کسی کو ملے گی۔
تیل و گیس کی قیمتیں میرے اختیار میں نہیں، مہنگائی میں ضرور اضافہ ہوا ہے۔ 3 ڈالر میں گیس مل رہی تھی سابق حکومت نے نہیں خریدی، آج ڈھونڈنے سے بھی گیس نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ایک پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ ہنڈی سے پیسہ لاؤ، بجلی کے بل جلا دو، ٹیکس نہ دو، یہ آئین اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ کسی نے اس پر نوٹس نہیں لیا، ستمبر 2014 میں چینی صدر آرہے تھے تو منتیں کیں کہ تین دن کے لیے یہاں سے ہٹ جاؤ۔ حتیٰ کہ مقتدر ادارے نے بھی کردار ادا کرنے کی کوشش کی، انہوں نے دھرنا ختم نہیں کیا۔ تو کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مارچ میں ڈپٹی اسپیکر، صدر پاکستان اور عمران نیازی نے مل کر دھوکے سے اسمبلی تحلیل کرنے کی کوشش کی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آئین شکنی کی لیکن انہیں کسی نے نہیں بلایا۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کارروائی کرتے ہیں، ان کو بلایا جاتا ہے۔ اگر اس طرح معاملات چلتے رہے تو قائد کی روح ہمیشہ کے لیے تڑپتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر تقدس، مساوات، قانون، آئین اور انصاف کو آگے نہ بڑھایا تو ہمیں تاریخ میں کوئی یاد نہیں رکھے گا۔ خدانخواستہ تاریخ کے اوراق سے ہمارا نام مٹ جائے گا۔ ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے انٹرویو میں کہا کہ مجھے عمران نیازی نے بلا کر کہا تھا کہ شہباز شریف، خواجہ آصف، آصف زرداری، مریم نواز سمیت فلاں فلاں کے خلاف کیس کرو۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود کسی نے بھی ان کو بلا کر نہیں پوچھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں دہرے معیار کی بات کر رہا ہوں، میں ایوان کو گواہ بنا کر کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، ہم پاکستان کو عظیم تر بنائیں گے۔ ہم اس کی فسطائیت کا مقابلہ کریں گے لیکن جھکیں گے نہیں۔ جو ذمہ داری مجھے ملی ہے، جب تک پارٹی قائد اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کا اعتماد ہے، میں اپنی کوشش کرتا رہوں گا۔ نتائج اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اگر ہم میں اتحاد اور یکسوئی رہی تو اللہ تعالیٰ کشتی کو پار لگائے گا اور اگر ہم میں یہ جذبہ رہا کہ لڑیں گے لیکن شکست نہیں مانیں گے۔