جمہوری نظام کے لئے تمام اداروں کا آئینی حدود میں کام کرنا ضروری ہے: وزیراعظم

  • جمعرات 28 / جولائی / 2022

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام کو ہموار اور مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئین کے متعین دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کام کریں۔

ایک ٹوئٹر بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قومی اسمبلی میں میرے خطاب کا محور یہ خیال تھا کہ جمہوری نظام کو ہموار اور مؤثر انداز میں کام کرنے دیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کے تمام ادارے اپنی متعین کردہ آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ اس چیز کو سمجھے بغیر ہم محض ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے اور کہیں نہیں پہنچ سکیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، وہی مالک اور خالق ہے اس نے جو اختیار انسانوں کو دیا ہے اور 22 کروڑ عوام نے اس منتخب ایوان کو دیا ہے۔ یہ وہ اختیار ہے جسے مقدس امانت جان کر یہ ایوان اس کو استعمال کرتا ہے۔ مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ ہو، آئین نے ان کے اختیارات متعین کر دیے ہیں، آئین بتاتا ہے کہ اپنے دائرے میں رہ کر پاکستان کی خدمت کرنی ہے اور پاکستان کو آگے بڑھانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 75 سال گزرنے کے باوجود آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا، ملک میں ایک سے زائد بار مارشل لا آئے، جو کئی دہائیوں تک ملک پر مسلط رہے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا، اور جمہوریت کا پودا اتنا طاقتور نہ ہوسکا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ پارلیمان کی طاقت اس طرح ابھر کر سامنے نہ آسکی جس طرح اس کو آنا چاہیے تھا۔

قرب و جوار میں نظر دوڑائیں تو وہ ممالک جو بہت پیچھے تھے، آج ترقی کی دوڑ میں وہ آگے نکل چکے ہیں۔ اغیار نے آئی ایم ایف کو کبھی کا خیرباد کہہ دیا، غربت اور بیروزگاری کو انہوں نے دفن کردیا۔ شہباز شریف نے کہا  کہ میں ایوان کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آج ہم نے سچ کو سچ نہ کہا تو مملکت خداداد شدید مشکلات میں گھر جائے گا۔