عدلیہ پر بڑھتا دباؤ
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعرات 28 / جولائی / 2022
وزیراعلی پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف عدلیہ کی آزادی و غیر جانب داری پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں، وہیں حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں اور وکلاتنظیموں کی جانب سے سپریم کورٹ کے اختیارات کم کرنے یا ان کے امور کی نگرانی کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پہلے پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی قیادت کو اعلی عدالتوں میں ججز کی تقرریوں اور ترقیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کی تجویز دی تھی اور بعد ازاں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، تمام صوبوں کی ہائی کورٹ بارز، پاکستان بار کونسل، صوبائی بار کونسلزاور جوڈیشل کمیشن کے رکن ونامزد ارکان نے اپنی ایک مشترکہ قرارداد میں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔وکلاء تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ آئین کی شق175اور191میں ترمیم کرکے بینچزکی تشکیل، مقدمات کی تاریخ معین کرنے اور سو موٹو لینے میں چیف جسٹس کو حاصل مکمل اختیار ختم کرکے عدالت کے پانچ سینیئر ترین ججز کو دیا جائے۔وکلاتنظیموں نے ججز کی تقرری اور برطرفی کا فورم ایک کرنے اور اس میں ججز، بار، انتظامیہ اور پارلیمان سب کی مساوی نمائندگی کرنے کامطالبہ بھی کیا۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق بینچز کی تشکیل کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس نہیں ہونا چاہیے بل کہ سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز کی رائے کو شامل کرکے بینچ کی تشکیل ہونی چاہیے۔اس حوالے سے آئینی ماہر حامد خان کا کہنا تھا کہ آئینی معاملات سے متعلق درخواست میں سپریم کورٹ کے سینیئر ججز کو بینچ میں شامل ہونا چاہیے نا کہ ایسے ججز کو شامل کیا جائے جس کے بارے میں اس تاثر کو تقویت ملے کہ یہ"ہم خیال" ججز کا بینچ ہے۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے منظور ہونے والی قرار داد میں کہا گیا کہ ریاست کا کوئی ایک ستون دوسرے کے اختیارات پر قبضہ نہیں کر سکتا۔قرار داد میں زور دیا گیا کہ قانون سازی اور آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کا استحقاق ہے اور آئین پارلیمنٹ کو ججوں کے تقرر کی توثیق کاکی تقرری کا اختیاربھی دیتا ہے۔ قرار داد کی منظوری کے موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دبنگ اظہار خیال بھی کیا جس کی جمہوری حلقوں میں بڑی ستائش ہو رہی ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے لیے ایک آئین ہو اور لاڈلے کے لیے دوسرا آئین، اسٹبلشمنٹ اور عدلیہ کا کردار متنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ یہاں دو پاکستان ہیں، پہلے میں کہا گیا کہ پارٹی سربراہ کی رضامندی کے بغیر رکن کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا لیکن دوسرے میں کہا گیا کہ رکن کا ووٹ شمار ہوگا۔بلاول نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے کردار کا دفاع کریں، عدالت کاکام نہیں کہ وہ آئین میں ترمیم لے کر آئیں۔بلاول کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ صرف چیف جسٹس کانام نہیں، ہم فیصلہ کریں گے کہ بینچ میں کتنے جج بیٹھیں گے۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس بھی ہواجس میں دیگر اہم فیصلوں سمیت عدالتی اختیارات سے تجاوز پر بحث کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کابینہ کو بریف بھی کیا گیا کہ سوموٹو لینے اور بینچ بنانے کااختیار صرف چیف جسٹس کا نہیں۔وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج قاضی فائز عیسی کے خلاف نظر ثانی پٹیشن واپس لینے اور ریفرنس بنانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ بھی کیا۔جسٹس قاضی فائز عیسی کا تذکرہ آہی گیا ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ چند روز قبل انہوں نے تفصیلی خط لکھ کر سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی تقرری کا فیصلہ کرنے کی غرض سے چیف جسٹس کی جانب سے 28جولائی کو طلب کیا جانے والا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔جسٹس فائز عیسی کے مطابق جب عدالت عظمی میں آسامیاں خالی ہوئیں تو چیف جسٹس صاحب نے کوئی اجلاس طلب نہیں کیا لیکن اب اچانک ہی عجلت میں تھوک کے حساب سے تقرری کرنا چاہتے ہیں۔جسٹس فائز عیسی کا مطالبہ اس وجہ سے اہمیت کا حامل ہے کہ موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جدید جمہوری ریاست کے تین ستونوں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ میں عدلیہ کو اس لئے غیر معمولی حیثیت حاصل ہے کہ یہ ریاست کے دیگر ستونوں پر نگران ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں دیگر ستونوں پر نگران سمجھی جانے والی عدلیہ بذات خود الزامات کی زد میں رہی ہے۔تلخ حقائق یہ ہیں کہ اہم نوعیت کے مقدموں میں بار اور حکومت سمیت طاقت ور حلقے عدلیہ کی آزادی پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔بدقسمتی سے ہماری عدالتی تاریخ متنازعہ فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔مارشل لاء کی طویل تاریخ رکھنے والے ہمارے ملک میں فوجی حکومتوں کے دباؤ میں آکر عدلیہ نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دیتی آئی ہے۔اس کے علاو ہ ماضی میں عدالتوں اور ججز پر سیاسی حکومتوں کا دباؤ بھی رہا ہے تاہم 2009ء میں عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کے بعد عدلیہ پر اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایگزیکٹو کے اختیارات سنبھالنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
عدلیہ بحالی کا کریڈیٹ لینے والی ن لیگ اور اس کے مرکزی رہنماء پیپلزپارٹی کے منتخب وزیراعظم کو نااہل کرانے سمیت میمو گیٹ اسکینڈل میں پیش پیش رہے۔اس کے علاوہ عدلیہ کوجلد بحال نہ کرنے کی مخاصمت کی وجہ سے چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کی عدلیہ پیپلزپارٹی حکومت کے خلاف ضرورت سے کچھ زیادہ ہی سرگرم رہی۔ نواز شریف کی عدالتی نااہلی کے پیچھے بھی مقتدر حلقوں کا دباؤ واضح دکھائی دیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے دور میں ایک نئے طرز کے جوڈیشل ایکٹیوازم کی بنیاد رکھی تاہم ان کے بعد آنے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جوڈیشل ایکٹیوازم کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے کام سے کام رکھنے یعنی انتظامی و سیاسی معاملات میں مداخلت کی بجائے زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور انصاف کی فوری فراہمی کے حصول کے لئے کوشاں و پرعزم رہے۔
تلخ حقائق یہ ہیں کہ ماضی میں کبھی کبھار عدالتیں نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دیتی تھیں لیکن اب تو یکے بعد دیگرے اعلی عدالتیں اسٹبلشمنٹ کے دباؤ اور سیاسی جماعتوں کی حمایت یا مخالفت میں فیصلے کرتی دکھائی دیتی ہیں۔برطانوی تاریخ دان اور مفکر لارڈ جیمز برائس کے مطابق کسی حکومت کی کارکردگی جاننے کیلئے عدالتی نظام کی کارکردگی کا مطالعہ کرلینا کافی ہے۔اگر عدلیہ کمزور ہو، کسی دباؤ یا سیاسی مخاصمت کی وجہ سے غیر جانبدار نہ رہ سکے اوربلا امتیاز انصاف مہیا کرنے کے فرض اولین میں کامیاب نہ ہو سکے تو ملکی اقدار اور معاشرے کا نظم و ضبط تباہ ہو نے سے کوئی نہیں روک سکتا۔