یہ جاننا عوام کا حق ہے پی ٹی آئی کس سے پیسے لے کر سیاست کرتی رہی: شاہد خاقان
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ جاننا پاکستان کے عوام کا حق ہے کہ پی ٹی آئی کس کے ایجنٹوں سے پیسے لے کر ملک میں سیاست کرتی رہی ہے۔
اسلام آباد میں حکمران اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مشترکہ وفد نے چیف الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر اور چاروں صوبوں کے الیکشن کمشنر بھی تھے۔ ملاقات پی ٹی آئی کے ممنوعہ فنڈنگ کیس فیصلہ سنانے پر زقور دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی قوانین کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت فنڈنگ حاصل کرتی ہے تو اس کو ڈیکلیئر کیا جاتا ہے کہ کس نے کب، کتنا پیسہ دیا۔ کسی جماعت کو کسی فارن کمپنی سے فنڈنگ کی اجازت نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے خلاف کیس میں اس کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے واضح ثبوت مہیا کیے۔ پی ٹی آئی نے اس کیس کو روکنے کے لیے ہر طرح سے دباؤ ڈالا۔ اپنی حکومت کے دوران بھی کیس کو روکنے کے لیے سیاسی، حکومتی دباؤ ڈالا، الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا گیا لیکن حقائق کو بدلا نہیں جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ دستیاب حقائق کے مطابق پی ٹی آئی نے خود تسلیم کیا کہ باہر سے چلائے جانے والے اکاؤنٹس کا علم نہیں تھا، امریکا میں کم از کم 2 کمپنیاں موجود ہیں جن کے چیئرمین کا نام عمران خان ہے۔ جو پیسہ ان کمپنیوں کے پاس آتا ہے وہ ریکارڈ کا حصہ ہوتا ہے۔ ان اکاؤنٹس کے ریکارڈ میں کمپنیوں سے ملنے والے فنڈز کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ کیا کمپنیوں سے فنڈز حاصل کرنا پاکستان کے قانون کے مطابق ہے؟ قانون کے مطابق کمپنیوں سے فنڈز حاصل نہیں کیے جاسکتے کیونکہ ان سے فنڈز حاصل کرکے آپ ان کے ایجنٹ بن جاتے ہیں، اس لیے کسی بھی فارن کمپنی سے فنڈنگ کی اجازت نہیں ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ ریکارڈ بڑا واضح ہے، فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ ملک میں رات کے اندھیرے میں عدالتیں کھلتی ہیں جو اپنے ہی فیصلوں کی نفی کر دیتی ہیں۔ کیا یہ جاننا پاکستان کے عوام کا حق نہیں ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کن ذرائع سے فنڈنگ حاصل کرتی رہی اور اس فنڈنگ کا بڑا حصہ ملک میں نہیں آیا۔ وہ فنڈز آج بھی ذاتی اکاؤنٹس میں موجود ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گزشتہ روز عالمی جریدے 'فنانشل ٹائمز' نے رپورٹ کیا کہ عارف نقوی نے خیرات کے نام پر فلاحی کاموں کے لیے لندن میں کرکٹ میچ کروائے اور کروڑوں روپے کی رقم حاصل کی۔ عارف نقوی کی کمپنی نے 55 کروڑ روپے سے زائد رقم پاکستان میں پی ٹی آئی اور عمران خان کے اکاؤنٹ میں بھیجی جس کا کوئی ریکارڈ عمران خان نے نہیں دیا۔
اس بیرونی ممنوعہ فنڈنگ کا ریکارڈ اسٹیٹ بینک کا فراہم کردہ ہے جس کی کوئی نفی نہیں کرسکتا۔ کیا عمران خان اور پی ٹی آئی نے یہ ممنوعہ فنڈنگ حاصل کرکے الیکشن کمیشن کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی؟ کیا آپ نے اپنے فیصلے کسی کو بیچے نہیں، ان کمپنیوں کے پیچھے کون لوگ تھے یہ وقت بتائے گا لیکن چور جب چوری کرتا ہے تو وہ قانون کی گرفت سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر کا کہنا تھا کہ ممنوعہ فنڈنگ سے پیسہ حاصل کرکے پاکستان میں سیاست کے لیے استعمال کیا گیا۔ جب سیاست میں آپ کسی کا پیسہ استعمال کریں گے تو کل آپ کو اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی اور وہ قیمت پاکستان کے عوام ادا کرتے ہیں۔
اگر عمران خان کے ہاتھ صاف ہوتے تو وہ پہلے دن ریکارڈ پیش کرتے اور کہتے کہ فیصلہ کیا جائے اور کیس کا 6 ماہ میں فیصلہ ہوجاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ممنوعہ فنڈنگ کیس کے حقائق جانتے ہیں اس لیے وہ الیکشن کمیشن پر حملہ کرتے ہیں۔ اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں کچھ حقائق سامنے آئے تھے، جب فیصلہ آئے گا تو مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ اس لیے عمران خان کی کوشش ہے کہ گالیاں بک کر، ذاتی حملے کرکے الیکشن کمیشن پر فیصلہ روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔