تحریک انصاف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرے گی
پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے حکومتی وفد سے ملاقات کی ہے جس کے بعد انہیں نااہل ہونا چاہئے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے حوالے سے حکومتی وفد سے ملاقات کرکے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ ملاقات ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فٹ کیس ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ بحران سے ایک سبق ملا ہے کہ جو لوگ پیسوں کے لیے سیاسی وفاداریاں بدلیں گے اور اپنے ووٹر کو دھوکا دیں گے، ان کا کوئی مستقبل نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں پاکستان میں پہلی بار سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت آئے گی اور سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت پارلیمانی پارٹی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے بند کمرے میں جو فیصلے ہوتے تھے وہ اب نہیں ہوسکیں گے۔ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کو ریگیولیٹ کرنا پڑے گا اور پارلیمانی پارٹی ہی فیصلے کرے گی کہ ان کے قائد ایوان کیسے چلیں گے اور کیسے ہٹائے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کل حکمران اتحاد کے لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کا فنڈنگ کیس پر تبادلہ خیال کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین اور چیئرمین باالترتیب ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کے برابر تنخواہ لیتے ہیں اور مراعات بھی پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے مطابق ہیں۔
ان کا کوڈ آف کنڈکٹ بھی اعلیٰ عدالتوں کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی بھی کوئی اعلیٰ عدالت کا جج اپنے زیرالتوا کیس پر مخالف فریق سے ملاقات نہیں کرتا اور اس پر تبادلہ خیال نہیں کرتا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ یہ ملاقات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کوڈ آف کنڈکٹ اور پاکستان کی عدلیہ کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ کس طرح الیکشن کمیشن اور ان کے اراکین ایک کیس کا جس کا انہوں نے قانونی طور پر فیصلہ کرنا ہے، اس کی ایک مخالف پارٹی سے ملاقات اور بات کرسکتے ہیں۔
اس وفد سے ملاقات کرکے الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین کوڈ آف کنڈکٹ کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اراکین نے زیرالتوا کیس میں ایک فریق سے ملاقات کرکے یقین دلایا ہے کہ ہم فیصلہ کریں گے، بعد میں پریس کانفرنس بھی کی ہے اور پریس ریلیز بھی جاری کی ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ اس خلاف ورزی پر ہم اپنی قانونی ٹیم سے بات کر رہے ہیں اور الیکشن کمشنر اور ان کے اراکین کے خلاف یہ ایک فٹ کیس ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں ان کے خلاف ریفرنس بھیجا جائے اور ان کو برخاست کیا جائے۔ آج ملک کے بحران کی سب سے بڑی وجہ انتخابات کا نہ ہونا ہے۔
جب اسپیکر کی رولنگ کا کیس آیا تھا اور سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تھا تو اس وقت سپریم کورٹ کا مطمح نظر تھا کہ الیکشن کی طرف جانا چاہیے کیونکہ یہ سیاسی سوال ہے۔ اس وقت چیف الیکشن کمشنر کا بیان آیا تھا کہ اکتوبر تک الیکشن نہیں کراسکتے اور آج یہ بحران الیکشن کمیشن کے اس بیان کی وجہ سے ہے۔ جنہوں نے اس وقت الیکشن کرانے سے انکار کیا، آئین کے تحت الیکشن کروانا ان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کرانے سے انکار کرکے الیکشن کمیشن نے موجودہ حکمران اتحاد کے ایجنڈے کو مضبوط کیا تاکہ وہ آئے اور ملک کا بیڑا غرق کردے۔