کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیلئے ایک اور وفد کابل پہنچ گیا
بزرگ مذہبی رہنماؤں کی ٹیم کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے بعد وطن وطن واپس آگئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی قبائلی عمائدین 17 رکنی وفد ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے کابل پہنچ گیا۔
مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں علمائے کرام کا 8 رکنی وفد ٹی ٹی پی قیادت اور افغان طالبان سے ملاقاتوں کے بعد افغانستان سے واپس پہنچا تھا۔ علمائے کرام کے وفد سے وابستہ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ تقی عثمانی جن کا احترام افغان طالبان اور ٹی ٹی پی اراکین بھی کرتے ہیں، عسکریت پسند گروپ کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ انہوں نے پاکستان کے آئین پر نظرثانی کی ہے اور اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے غیر اسلامی قرار دیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مفتی تقی عثمانی نے دلیل دی کہ اگر عسکریت پسند گروپ ایک یا دو شقوں کو غیر اسلامی سمجھتا ہے، تب بھی اسے تبدیل کرنا نہ تو ان کا مینڈیٹ ہے اور نہ ہی ان کے لیے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا کوئی جواز تھا۔ ذرائع نے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ تاہم تقی عثمانی، حکومت یا ٹی ٹی پی کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسند گروپ نے ایک بار پھر سابق فاٹا کے انضمام کے معاملے پر بات کی لیکن مفتی تقی عثمانی نے ٹی ٹی پی قیادت کو بتایا کہ وہ ایک مذہبی عالم ہیں اور وہ صرف مذہبی معاملات پر بات کر سکتے ہیں۔
کالعدم ٹی ٹی پی نے دو صفحات پر مشتمل ایک بیان جاری کیا جس میں پاکستان میں اسلامی نظام کے مطالبات کا اعادہ کیا گیا۔ مفتی تقی عثمانی نے ایک ٹوئٹ میں امید ظاہر کی کہ افغان طالبان قیادت کے ساتھ ان کی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے، امن کی بحالی اور مشترکہ اہداف کے حصول میں مفید ثابت ہوئیں۔
تقی عثمانی نے ٹی ٹی پی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا لیکن کہا کہ مزید تفصیلات بعد میں شیئر کی جائیں گی۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کالعدم گروپ نے وفد کو مطالبات کا ایک چارٹر سونپا ہے۔
ہفتہ کے روز کابل پہنچنے والے وفد کی قیادت وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر محمد علی سیف کر رہے ہیں جس میں قبائلی عمائدین اور اراکین پارلیمنٹ شامل ہیں اور چار روز تک افغانستان میں قیام کریں گے۔ ٹی ٹی پی کی قیادت کے ساتھ بات چیت کے لیے گروپ کا افغان دارالحکومت کا یہ دوسرا دورہ ہوگا، اس سے قبل پہلا وفد 58 ارکان پر مشتمل تھا۔
یاد رہے کہ مئی میں پاکستان کی ایک سرکاری ٹیم نے ٹی ٹی پی کی قیادت کے ساتھ براہ راست بات چیت کی اور ٹی ٹی پی کے اہم مطالبے پر تعطل برقرار رہنے کے دوران، دونوں فریقوں نے افغان طالبان کی قیادت کی غیر معینہ مدت تک جنگ بندی اور امن مذاکرات کو جاری رکھنے کی درخواست پر اتفاق کیا۔