پیٹرولیم مصنوعات کی ادائیگیوں کی وجہ سے روپے پر دباؤ آیا: وزیر خزانہ

  • اتوار 31 / جولائی / 2022

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے اور اب ہم پاکستان کو ایک اچھی معیشت دیں گے۔ اگست میں روپے پر سے دباؤ کم ہوجائے گا۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 3.8 ارب ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات خریدی تھیں جس کی ادائیگیاں جولائی میں کی گئیں۔ اس کے باعث روپے کے اوپر بہت دباؤ آیا کیونکہ ادائیگیاں زیادہ تھیں جبکہ ڈالر کی آمد کم تھی۔ رواں ماہ ہمیں 80 کروڑ ڈالر اسٹیٹ بینک کو زیادہ دینے پڑے کیونکہ درآمدات، ادائیگیاں، ترسیلات زر ملا کر ہمیں 80 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔

جولائی میں درآمدات کی رسائی کم ہونے سے ادائیگیاں بھی کم ہوں گی چنانچہ اگست سے یہ دباؤ ختم ہوجائے گا۔ 5 ارب ڈالر کی درآمد جون کے 7.7 ارب ڈالر کے مقابلے 2.7 ارب ڈالر کم ہے جس سے ہمیں فائدہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی گاڑیوں، موبائل فونز اور گھریلو برقی آلات کی درآمد سے پابندی ہٹانے کی منظوری دے چکی ہے۔ اب اسے وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ 16 جولائی کے ضمنی انتخابات کے بعد ڈالر ہمارے قابو سے باہر ہوا اور اس کی قدر میں زیادہ اضافہ ہوا۔ میں کرنسی مارکیٹ پر قیاس آرائی نہیں کرتا لیکن سمجھتا ہوں کہ روپے کی حقیقی قدر اس سے بہت زیادہ ہے چونکہ ڈالر میں زیادہ ادائیگیاں کرنی پڑیں، اس لیے روپے پر دباؤ بڑھا۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے نہ صرف معاشی طور پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ ایک اچھی معیشت دینے کا بھی سوچا ہے۔ گزشتہ سال ساڑھے 17 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جس کی وجہ سے ہم یہاں پہنچے۔ ہم نے عزم کیا ہے کہ ہم ایک آدھ سال میں اسے سرپلس میں بدلنے کی کوشش کریں گے جس کے لیے فی الفور درآمد کم کرنے کی کوشش کی۔

 ہم نے اقتدار سنبھالنے کے 3 ماہ میں ایسا کچھ نہیں کیا کہ جس سے روپے کی قدر کم ہو یا ملک دیوالیہ ہونے کی نہج پر جائے۔ جو شخص اس نہج پر لے کر آیا تھا وہ تو عمران خان اور پی ٹی آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو رواں سال سود کی مد میں 4 ہزار ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔