دو روز کے دوران ڈالر کی قدر میں 10روپے تک کی کمی

  • سوموار 01 / اگست / 2022

پیر کو کاروباری ہفتے کے آغاز کے ساتھ بھی انٹربینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 240 کی سطح پر آگیا۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق اس سے پہلے والے کاروباری دن 239 روپے 45 پیسے پر بند ہونے والا ڈالر آج انٹر بینک میں 50 پیسے کمی کے ساتھ 239 روپے کا ہوگیا۔ خیال رہے کہ ڈالر کی قدر میں گزشتہ 2 کاروباری دنوں میں 10 روپے تک کی کمی ہوچکی ہے جو 29 جولائی اوپن مارکیٹ میں 250 روپے کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

فاریکس ایسوسی ایشن کے چئیرمین ملک بوستان نے کہا کہ افغانستان میں ڈالر کا ریٹ زیادہ ہونے کے باعث یہاں سے ڈالرز اسمگل ہورہے تھے۔ حکومت نے سرحدوں پر سختی کردی ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی افغانستان منتقلی رک گئی ہے اور اس کے اثرات اوپن مارکیٹ پر آئے ہیں۔

ملک بوستان کے مطابق دو روز کے دوران ڈالر میں سٹہ بازی اور اسمگل کرنے والوں کو بہت دھچکا لگا ہے اور امید ہے کہ اب انٹر بینک مارکیٹ میں بھی روپیہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی وہ بلا ضرورت ڈالر نہ خریدیں ورنہ ان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

چیئرمین ایف اے پی کا کہنا گتھا کہ ان کے نزدیک اس وقت ڈالر کی حقیقی قیمت 190 سے 200 روپے تک ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ سٹہ بازوں کے خلاف کریک ڈاون ہوا تو یہ قیمت میں فرق ختم ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں خزانہ نے کہا تھا کہ 16 جولائی کے (ضمنی) انتخابات کے بعد ڈالر ہمارے قابو سے باہر ہوا اور اس کی قدر میں زیادہ اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں کرنسی مارکیٹ پر قیاس آرائی نہیں کرتا لیکن سمجھتا ہوں کہ روپے کی حقیقی قدر اس سے بہت زیادہ ہے چونکہ ڈالر میں زیادہ ادائیگیاں کرنی پڑیں، اس لیے روپے پر دباؤ بڑھا۔