القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا

  • منگل 02 / اگست / 2022

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے خصوصی خطاب کے دوران اعلان کیا ہے کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو افغانستان کے اندر ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

صدر بائیڈن نے قوم کو بتایا کہ نائن الیون میں زندگی سے محروم ہونے والے معصوم امریکیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور الظواہری کی ہلاکت ثابت کرتی ہے کہ ہم اپنے عزم پر قائم ہیں اورایمن الظواہری کے ساتھ انصاف ہو گیا ہے۔

صدر نے کہا کہ الظواہری نیروبی سے لے کر افغانستان تک، امریکہ کے عوام، اس کے سفارت کاروں ، فوجیوں اور اس کے مفادات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں شامل رہے ہیں۔

صدر بائیڈن نے تصدیق کی کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے افغانستان کے اندر خصوصی ڈرون آپریشن کی منظوری دی تھی اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کسی عام شہری، بشمول الظواہری کے خاندان کے افراد کے، کسی کی زندگی کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کاونٹر ٹیررازم فورس کے اس پلان پر کافی غوروخوض کے بعد اس کی منظوری دی اور اس کے لیے گانگریس کے اراکین کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔

صدر نے کہا کہ اہداف کو نپے تلے انداز میں نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں سے ہم نے الظواہری سے قبل، گزشتہ ماہ داعش کے ایک بڑے لیڈر کو بھی انجام تک پہنچایا ہے۔ امریکہ کے صدر نے باور کرایا کہ دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ امریکہ کے لوگوں اور ا س کے مفادات کو نقصان پہنچائیں گے تو وہ کہیں بھی ہوں گے، جتنا بھی چھپ لیں، ان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ اور ان کے بقول ہم وہ سب کریں گے جس سے امریکہ کے شہری ملک کے اندر اور دنیا بھر میں محفوظ رہ سکیں۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں افغانستان کے اندر ڈرون حملے کی یہ کہہ کر مذمت کی ہے کہ وجہ کچھ بھی ہو، اس طرح کا حملہ  بین الاقوامی قوانین اور دوحہ معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔