کیا سابق کھلاڑی کا بیانیہ ڈوب گیا؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 03 / اگست / 2022
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی قیادت کے اوپر لگائے گئے الزامات درست ثابت ہو گئے ہیں۔ 34 غیر ملکی شہریوں 351 کاروباری اداروں اور غیر ملکی کمپنیوں سے ممنوعہ فنڈز لئے گئے۔
عمران نے جھوٹا بیان حلفی دیا، 8 اکاﺅنٹس ظاہر کیے گئے اور 13 چھپائے گئے۔ کمیشن میں جمع کروائی گئی سٹیٹسمنٹس، سٹیٹ بینک ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ بنک اکاﺅنٹس چھپانا آئین کے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی عارف نقوی اور ابراج کے حوالے سے رپورٹس شائع ہو چکی ہیں کہ کس طرح صدقات و خیرات کی رقوم اپنے مذموم مقاصد میں اڑائی گئیں۔ اٹھتے بیٹھتے اپنے سیاسی مخالفین پر چور چور کے الزامات عائد کرنے والے کی اپنی پارسائی و منی لانڈرنگ کی قلعی یوں ثبوتوں کے ساتھ کھل گئی۔
یہ نومبر 2014 کی بات ہے جب کوئی غیر نہیں اس کی اپنی پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر ثبوتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن گئے۔ انہیں مختلف حربوں سے ڈرایا دھمکایا جاتا رہا ، طرح طرح کے الزامات عائد کئے جاتے رہے۔ اس کیس کو یوں آٹھ سالوں تک لٹکائے رکھنے کیلئے کون سی ہٹ دھرمی و چالاکی ہے جو روا نہیں رکھی گئی۔ پچانوے پیشیاں ہوئیں اس دوران 30مرتبہ التوا مانگا گیا۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے الیکشن کمیشن کے کم از کم بیس آرڈرز نظر انداز کئے، 6مرتبہ کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا گیا، 9 مرتبہ وکیل بدلے گئے، 4 مرتبہ درخواست گزار پر اعتراضات کئے گئے۔ حنیف عباسی صاحب اس حوالے سے سپریم جوڈیشری میں گئے تو کہا گیا کہ جب تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ نہیں آتا، ہم حکم جاری نہیں کر سکتے۔
چور کی داڑھی میں تنکا کے مصداق پی ٹی آئی کے چیئرمین کو اپنی منی لانڈرنگ اور قانون شکنی کا پورا ادراک تھا جس کے خوف سے وہ ان دنوں چیف الیکشن کمیشن کا استعفیٰ مانگ رہے تھے۔ جوں جوں فیصلے کی تاریخ قریب آتی محسوس ہو رہی تھی، سکندر سلطان راجہ کے خلاف ان کے منافرت بھرے پروپیگنڈے کی مہم تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔ حالانکہ ماقبل وہ ان کی شانیں بیان کرتے نہیں تھکتے تھے اور یہ بھی واضح رہے کہ ان کی اس عہدے پر تعیناتی کسی اور نے نہیں خود پارسا سرکار نے کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اب وہ اسے طاقتوروں کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں جن سے ڈکٹیشن نہ لینے کے وہ جعلی دعوے کیا کرتے تھے۔ آج حال یہ ہے کہ وہی چیف الیکشن کمشنر ان لوگوں کی دھمکیوں کے باعث سکیورٹی مانگتے ہوئے اپنا یہ بیان ریکارڈ کروانے پر مجبور ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی ہو گی۔ میرا جرم صرف یہ ہے کہ میں نے پیش کردہ حقائق اور میرٹ پر فیصلہ سنایا ہے۔ اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نوع کا چلن کسی سیاسی گروہ یا اس کی کسی قیادت کا ہوتا ہے یا کسی مافیا اور اس کے دادا کا۔
اس جرات مندانہ فیصلے کے بعد اگلی ذمہ داری اس جوڈیشری پر عائد ہوتی ہے کہ جس نے ماقبل یہ کہا تھا کہ پہلے الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئے تو پھر ہی کرپٹ مافیا کے خلاف کارروائی ہو سکے گی جسے کبھی صادق و امین کی جعلی ڈگریاں خلعت شاہانہ کی طرح عنایت فرمائی جا رہی تھیں۔ اب وقت نے انہی لوگوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی ہے کہ وہ اپنی کرسی عدل کا کچھ بھرم اور وقار قوم کے سامنے رکھتے ہوئے اس کھلی ڈھٹائی، قانون شکنی، منی لانڈرنگ ، جھوٹ اور فراڈ کے خلاف کماحقہ کارروائی کرتے ہوئے اسے کیفر کردار تک پہنچائیں۔ درحقیقت اب یہ ہمارے نظام عدل کی ساکھ کا امتحان ہے۔
کیا یہ وہی جوڈیشری نہیں ہے جس نے تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو اپنے بیٹے سے معمولی تنخواہ نہ لینے کے مبینہ جرم میں نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا تھا بلکہ اسے تاحیات نااہلی کی ظالمانہ و ناروا سزا سنا ڈالی تھی۔ نواز شریف کو بھرپور پاپولیٹریٹی کے باوجود پارٹی صدارت تک سے ہٹا دیا گیا۔ سینیٹ کے جن امیدواران کے کاغذات پر پارٹی صدر نے دستخط کئے تھے انہیں پارٹی نشان دینے سے روک دیا گیا۔ اقامہ سے پہلے پانامہ کی کارروائی ہماری تاریخ کا بدنما حصہ ہے، جب چار سو ملزمان میں سے صرف ایک شخصیت کو جبری انصاف کے لئے چنا گیا۔ تین سو ننانوے کو عزیزان جانتے ہوئے چھوڑ دیا گیا اور پھر جو جو درد ناک حربے آزمائے گئے آنے والی نسلیں پڑھیں گی تو تا ابد سلام بھیجتی رہیں گی کہ انصاف کا ایسا بھی ایک چہرہ تھا ۔ یوسف رضا گیلانی بھی ایک منتخب وزیراعظم تھا جسے محض اس الزام پر گھر بھیج دیا گیا کہ آپ نے اپنے پارٹی قائد کے خلاف ہماری شاہی ہدایات کی مطابقت میں خط کیوں نہیں لکھا۔ اس ملک میں یہ ہے عوام اور ان کے منتخب اداروں کی توقیر؟ یہاں معمولی بے ضابطگی پر ایک توانا جمہوری سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی اور بشمول خان عبدالوالی خان اس کی قیادت کے ساتھ کیسا ظالمانہ سلوک روا نہیں رکھا گیا؟ کیا یہ ہماری تاریخ کا حصہ نہیں ہے؟
درویش عرض گزار ہے کہ معروف و مقبول سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قرار دینا یا ان کی قیادتوں کو تاحیات نااہلیت کے گڑھے میں پھینکنا ملک و قوم کے لئے کسی طرح بھی خوش آئند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ حق عوام کا ہونا چاہیے۔ اس حقیقت کی معنونیت کو سمجھا جائے کہ قانون ضرور اندھا ہوتا ہے مگر قاضی کو ہرگز اندھا نہیں ہونا چاہیے۔ جو من پسند افراد کو تو شیرینیاں یا صادق و امین کی شانیں بانٹے اور جن سے بیر رکھتا ہو ان کے لئے ناکردہ گناہ پر بھی خوفناک سزائیں لاگو کرنا شروع کر دے۔ آج ہمارے قانون نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے اندھی محبت یا نفرت سے بالا ہو کر سب کو ایک آنکھ سے دیکھنا ہے۔ تاحیات نااہلی یا پارٹی قیادت سے ہٹائے جانے کی سزا اگر ہو گی تو جرم کی مطابقت میں، یہ نہیں کہ ہاتھی کو تو نگل جاﺅ اور جگنو کو پکڑ لو۔
آج جعلی پارسائی کا بھانڈا یوں سر بازار پھوٹا ہے۔ یہ خوش کن ہے ہمارے سادہ لوح عوام بالعموم چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اکثر رہزنوں کو رہبر خیال کر بیٹھتے ہیں اور پھر دھوکہ کھاتے پائے جاتے ہیں۔ بہت پہلے کی بات ہے جب ایک سابق کھلاڑی نے شوکت خانم کے لئے دی جانے والی صدقات و خیرات کی رقوم انگلستان کے جوئے خانے میں اپنے ساتھیوں کے ذریعے ہروا دی تھیں۔ اس کی تمام تر تفاصیل میڈیا کی زینت بن چکی ہے ناچیز کے استاد وکیل نے یہ ایشو قوم کے سامنے پوری تفصیل کے ساتھ رکھا تھا مگر جب لوگ کسی کے عشق میں دیوانے ہوئے ہوتے ہیں تو انہیں اپنے محبوب کی خامیاں بھی خوبیاں لگتی ہیں اور یہی کرکٹر صاحب تب میڈیا کے سامنے جوئے کی تعریفیں کرتے پائے گئے تھے ۔
ایک شخص کی بددیانتی، جھوٹ، فریب اور ہلکے پن کی پوری زندگی پر محیط مثالیں اس وقت ذہن میں گونج رہی ہیں۔ جی چاہتا ہے اصلیت واضح کرنے کیلئے وہ سب کچھ تحریر کیا جائے اگرچہ قدرت کی رسی بڑی دراز ہے مگر دعا ہے کہ جو لوگ اپنی پارسائی کی جعلی دھاک بٹھانے کے لئے تسبیح پکڑے دوسروں پر چور ڈاکو کے گھناﺅنے الزامات عائد کرتے پائے جاتے ہیں ان کی اپنی اصلیت بالآخر عوام کے سامنے آنی چاہیے۔ ایسے لوگ مغرب کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے جسے وہ اپنے تئیں سب سے زیادہ جانتے ہیں لیکن اگر انہیں مغربی تہذیبی اقدار کا کچھ بھی ادراک ہو یا اپنی عزت نفس یا ساکھ کا کچھ پاس و لحاظ ہو تو اپنے اتنے سارے جھوٹ سامنے آنے پر اکبر ایس بابر کے الفاظ میں از خود ہی پارٹی قیادت یا سیاست کو خیر باد کہتے ہوئے گھر کی راہ لیں ورنہ لوگ کہیں گے :
اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ، ذرا بند بنا دیکھ