ایران کا جوہری پروگرام بہت آگے جا چکا ہے: عالمی ادارہ

  • جمعرات 04 / اگست / 2022

اقوام متحدہ کے ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پورےعزائم اور صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

ایجنسی کو ایران کے ایٹمی پروگراموں کے تمام پہلوؤں کی تصدیق کے لیے مکمل رسائی کی ضرورت ہے۔ ادھرایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار علی باقری کنی 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے بات چیت کے لیے بدھ کو ویانا روانہ ہو رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ تہران ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے جو اس کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

ایرانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ ویانا میں ہونے والی بات چیت دوحہ میٹنگ کی طرح ہو گی، جہاں یورپی یونین کے ایلچی اینریک مورا ایران کے باقری کنی اور واشنگٹن کے مالے کے درمیان ایک دوسرے کی بات پہنچاتے رہے ہیں کیونکہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

بہرحال انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تسلیم کیا کہ تہران کا موجودہ جوہری پروگرام اس کے 2015 کے پروگرام سے بہت مختلف ہے، جب بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ طے پایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران سمیت ہرکوئی اسے تسلیم کرتا ہے۔

گروسی نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے موقع پرنامہ نگاروں کو بتایا کہ  ایرانیوں کا خود کہنا ہے کہ وہ آگے بڑھ رہے ہیں اور حیرت انگیز پیش رفت کر رہے۔ ان کا پروگرام بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ گروسی نے ایرانی جوہری پروگرام کے بار ےمیں کہا کہ وہ مقٓاصد اور صلاحیت کے اعتبار سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔  واضح طور پر، ہمیں اس پروگرام کی خصوصیات کے مطابق رسائی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانیوں کے پاس اب مزید سہولیات اور نئی ٹیکنالوجیز موجود ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نئے سینٹری فیوج کیسکیڈز تیار کر رہا ہے، جو یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہوتے ہیں۔