پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا

  • جمعرات 04 / اگست / 2022

پاکستان تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

 الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے ایک روز بعد چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا۔ پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کے توسط سے دائر کیے گئے ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ مسلسل اور دانستہ طور پر کی گئی بدانتظامی پر چیف الیکشن کمیشن کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے۔

ریفرنس میں الزام لگایا گیا ہے کہ 29 جولائی کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایک وفد نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر 4 اراکین سے ان کے دفتر میں ملاقات کی تاکہ ان پر ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ اس ملاقات کا نتیجہ تھا کہ الیکشن کمیشن نے 2 اگست کو فیصلہ سنادیا۔

ریفرنس میں استدلال کیا گیا کہ اس طرح سے چیف الیکشن کمشنر نے مبینہ طور پر اپنے عہدے کے حلف کی خلاف ورزی کی۔ ریفرنس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر قانونی، خلاف ضابطہ اور اس کے دائرہ اختیار سے ماورا ہے۔ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔

ریفرنس میں مزید استدلال کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اور وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں بخوبی سر انجام دینے میں میں ناکام رہے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے لیے طے شدہ ضابطہ اخلاق کا اطلاق چیف الیکشن کمشنر پر بھی ہوتا ہے۔

ہائی کورٹ کا جج کبھی کسی شخص یا ادارے کے ساتھ زیر التوا کیسز سے متعلق تبادلہ خیال نہیں کرتا۔ چیف الیکشن کمشنر کو انتہائی قابل احترام اور مقدس آئینی عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کی متعدد درخواستیں خارج کیں جن میں پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے فنڈنگ کیسز کی ایک ساتھ سماعت کرنے کی درخواست بھی شامل تھی۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرے اور ان کے مقدمات کو محتاط انداز میں مستقل مزاجی کے ساتھ سنے اور مناسب وقت کے اندر ان کے کیسز کا فیصلہ کرے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کے بجائے الیکشن کمیشن نے صرف پی ٹی آئی کے کیس کا فیصلہ سنایا اور دیگر جماعتوں کے مقدمات کو التوا میں رکھا جو کہ مکمل طور پر امتیازی سلوک ہے۔ یہ معمول کی بات ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلا فورمز کے ارکان سے ملاقاتیں کرتے ہیں لیکن حال ہی میں دیکھا گیا کہ پرویز الٰہی کے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف کیس میں سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔

چیف الیکشن کمشنر پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے لیکن انہوں نے نہ صرف پی ڈی ایم کے وفد سے ملاقات کی بلکہ یہ بھی مانا کہ پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فیصلے کے وقت سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔