وفاقی کابینہ کا پی ٹی آئی کے خلاف ڈیکلیریشن سپریم کورٹ بھیجنے کا فیصلہ
وفاقی کابینہ نے تحریک انصاف کے خلاف سپریم کورٹ میں ڈیکلیریشن بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایف آئی اے کو جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے بھی ہدایت جاری کردی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک کے مختلف علاقوں میں آنے والے سیلاب اور اس سے نقصانات پر جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈ لینے والی جماعت ثابت کیا ہے۔ پہلی بار کسی سیاسی جماعت پر غیر ملکی فنڈنگ کا الزام ثابت ہوا۔ پی ٹی آئی نے 16 اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے جبکہ عمران خان نے بیان حلفی دیا کہ ہم نے بیرونِ ملک سے کوئی فنڈ نہیں لیا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے 2002 پارٹی ایکٹ کے تحت فیصلہ جاری کیا۔ حکومت الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ایکشن لینے کی پابند ہے۔ تحریک انصاف کے خلاف ڈیکلیریشن سپریم کورٹ بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت قانون کو تین روز دیے ہیں تاکہ معاملات قانون اور آئین کے مطابق ہوں۔ اس کی منظوری کابینہ دے گی اور پھر اسے پبلک کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ایف آئی اے کو منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ہدایت جاری کردی ہیں۔ اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور ایف آئی اے کے نمائندے بھی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کریں گے۔