عدلیہ میں دھڑے بندی سے بچنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قوانین میں تبدیلیوں پر زور

  • ہفتہ 06 / اگست / 2022

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان بار کونسل کی نمائندگی کرنے والے سینئر رکن کا خیال ہے کہ اگر یہ اجلاس اچانک نہ کیا جاتا اور اس کا اختتام پر باضابطہ ووٹنگ اور حتمی فیصلہ منٹس میں ریکارڈ کیا جاتا تو یہ مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔

 جوڈیشل کمیشن کے سینئر رکن اختر حسین نے کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو 4 صفحات پر مشتمل ایک خط میں لکھا ہے کہ ہر صورت میں یہ ضروری ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں کا اختتام باضابطہ ووٹنگ کے ساتھ کیا جائے۔ کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ کمیشن کے ایک یا زیادہ ارکان اپنے ساتھیوں کی بات سن کر اپنا ارادہ بدل لیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور جسٹس سجاد علی شاہ کی جانب سے اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے متعلق ایک ہفتے میں چیف جسٹس بندیال کو لکھا گیا یہ پانچواں خط ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ میں پیدا ہونے والی شدید اور واضح تقسیم قومی مفاد میں نہیں ہے۔ اس تقسیم کا الزام کئی عوامل کو ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن اس کے حل کی سب سے پہلی اور سب سے اہم ذمہ داری پاکستان کی قانونی برادری کے سربراہ کے طور پر چیف جسٹس پر آتی ہے۔

اختر حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے بڑھتی ہوئی دھڑے بندی سے بچنے کا واحد حل جوڈیشل کمیشن کے قوانین میں ترمیم کرنا ہے۔ ججوں کی نامزدگی اور تقررکے لیے زیادہ معروضی، شفاف معیار اور طریقہ کار وضع کرنا چاہئے۔ انہوں نے سفارش کی کہ کمیشن کی قانون ساز کمیٹی کو ماضی کی طرح ایک سینئر جج کی سربراہی میں فعال کیا جائے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے جاننے کا واضح مینڈیٹ ہو اور اس کے بعد چار ہفتوں میں کمیشن کی منظوری کے لیے تعیناتیوں کے قوانین کے مسودے اور معیارات وضع کیے جائیں۔

خط میں یاد دلایا گیا کہ کمیشن کے گزشتہ اور خاص طور پر آخری اجلاس میں کمیشن کے ارکان کی اکثریت کا جوڈیشل کمیشن کے قوانین میں ترمیم پر واضح اتفاق رائے پایا گیا۔ سنیارٹی کے اصول کی پاسداری کی تائید میں واضح اکثریت تھی۔ اختر حسین نے کہا کہ جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک صرف چیف جسٹس کی بجائے کمیشن کے تمام اراکین کو تعیناتیوں کے لیے نامزد افراد کی تجویز کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

انہوں نے جسٹس سجاد علی شاہ کے مشاہدات پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی بعض بحثوں سے متعلقہ ججوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ قوانین میں نرمی کرتے ہوئے آڈیو ریکارڈنگ جاری کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے کمیشن کے تمام اراکین سے مشورہ کرنا زیادہ ضروری تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے خطوط لکھنا اور پریس ریلیز جاری کرنا اور جوڈیشل کمیشن کی آڈیو کارروائی کی ضرورت ہونی ہی نہیں چاہیے تھی۔ اگر 28 جولائی کا اجلاس اچانک ختم نہ کیا گیا ہوتا اور میٹنگ کے اختتام پر منٹس میں باقاعدہ ووٹنگ اور حتمی فیصلہ درج کر لیا جاتا تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔

اختر حسین نے کہا کہ عدلیہ، بار اور عوام کی بے چینی کے پیش نظر وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی صوابدید میں کم از کم کچھ حدود و قیود کو ضرور قبول کریں۔ انہوں نے کہا کہ 'جس دن سے میں کمیشن کا رکن بنا ہوں، اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ ہماری کارروائیاں اور فیصلے سوچے سمجھے اور اجتماعی مشق ہونے چاہئیں'۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ کو کیمپوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کمیشن کے فیصلوں کو اندرونی انتخابات کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ہم اکثریت میں ہوں تو ہمیں اپنے پسندیدہ امیدواروں کے لیے معاملات میں جلدبازی کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی اقلیت میں ہونے کی صورت میں غیر ضروری طور پر ملتوی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔