ملک کا سب سے بڑا بحران ، لیڈروں کی تضاد بیانی ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 06 / اگست / 2022
خبر ہے: عمران خان قومی اسمبلی کی خالی قرار دی گئی نشستوں پر خود انتخاب لڑیں گے۔
دوسری خبر ہے: تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں پر انتخابی شیڈول اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ہی پارٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی طرف سے تحریک انصاف کے 11 ارکان کے استعفے منظور کرنے کے خلاف پٹیشن دائر کررکھی ہے۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اس کے 122 ارکان کے استعفے تو سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری پہلے ہی منظور رکرچکے ہیں۔ استعفوں کی مرحلہ وار منظوری پارٹی کے ساتھ ناانصافی ہے۔ درخواست کے مطابق عدالت میں زیر غور پٹیشن کا فیصلہ آنے سے پہلے ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کرنا ناانصافی ہے۔
ملکی سیاست میں دیکھا جانے والا یہ واحد تضاد نہیں ہے۔ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف پر الیکشن کمیشن کی فرد جرم عائد ہونے کے بعد ایک طرف یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ فنڈز 2012 میں لئے گئے تھے اور اس وقت تو غیرملکی شہریوں یا اداروں سے فنڈز لینا غیر قانونی نہیں تھا۔ عمران خان کا یہ بیان اگر درست ہے تو حیرت ہے کہ تحریک انصاف کے نمائیندے اور لائق فائق وکیل آٹھ سال کے دوران الیکشن کمیشن کو یہ سادہ سی قانونی بات نہیں سمجھا سکے جو اب ’معطل شدہ ‘ ریفرنس کے ذریعے پوری قوم اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو سمجھائی جائے گی۔ اسی بارے میں ایک خبر یہ ہے کہ ایف آئی اے نے غیر ممالک سے ممنوعہ فنڈز وصول کرنے کے معاملہ پر تحقیقات کے لئے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے اور پی ٹی آئی کے بعض سرکردہ رہنماؤں کو طلب بھی کرلیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن بھی ممنوعہ فنڈنگ وصول کرنے پر وضاحت کے لئے اس ماہ کے آخر تک پارٹی چئیرمین کو طلب کرچکا ہے۔
تاہم حکومت اور سیاسی لیڈروں کی اس سے تشفی نہیں ہوتی کہ اگر کسی سیاسی لیڈر یا پارٹی نے کوئی قانون شکنی کی ہے تو قانون خود ہی راستہ بنا لے گا اور معمول کے مطابق الزامات کی چھان بین کے بعد معاملہ ختم کرنے یا اس پر سزا دینے کا فیصلہ بھی ہوجائے گا۔ شاید اسی لئے وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب کو ایک تفصیلی پریس کانفرنس میں انتہائی بھونڈے انداز میں عمران خان کی کردار کشی کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا کرنے کے لئے ’فارن فنڈنگ‘ وصول کی تھی اور انہوں نے یہ کام کرکے دکھایا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ تحریک انصاف کو بیرون ملک پاکستانی سیلاب زدگان کی مدد اور خیرات کی مد میں عطیات دیتے تھے لیکن انہوں نے یہ دولت پارٹی ملازمین کے ذریے منگوا کر تحریک انصاف پر صرف کی۔ پاکستان میں اگر بغیر ثبوت کے الزام تراشی پر کوئی گرفت ممکن ہوتی تو مریم اورنگ زیب اپنا ایک الزام بھی ثابت نہ کرپاتیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ جھوٹے الزام لگانے کی روایت خود عمران خان نے مستحکم کی ہے اور وہ مسلسل قیاس آرائیوں اور پروپیگنڈا کی بنیاد پر سیاسی مخالفین پر الزام عائد کرکے خود اپنے لئے قبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستانی رائے عامہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ عمران خان کی حمایت کرنے والوں میں ان کے خالص فدائین کے مقابلے میں ان لوگوں کی اکثریت ہے جو نواز شریف اور آصف زرداری کو چور قرار دے کر ان کی چوری سے بچنے کے لئے عمران خان کی حمایت کرتے ہیں۔
جھوٹ کی بنیاد پر سیاست کرنے کی اس روایت کو مسترد کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ جو کام عمران خان کے لئے ممنوع قرار دیا جاتا ہے، وہی کام مسلم لیگ (ن) کو کرنے کی آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔ اگر تحریک انصاف کے لیڈر سیاسی مخالفین پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں تو ضرور ان کی گرفت ہونی چاہئے لیکن اگر عمران خان کی کردار کشی کے لئے وفاقی حکومت کی ترجمان نت نئے جھوٹ اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لیں گی تو اسے بھی درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ موجودہ حکمران عمران خان کی ناکامیوں کے علاوہ ان کے طرزسیاست کو تبدیل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اقتدار تک پہنچے ہیں۔ ان کا دعویٰ رہا ہے کہ عمران خان نے جھوٹے پروپیگنڈے اور الزمات کو سیاست میں عام کرکے ملک میں جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم وفاقی وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس میں جو افترا پردازی کی گئی ہے، اس سے بھی جمہوریت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف پر 2008 اور2013 کے درمیان جو رقوم غیر قانونی طور سے وصول کرنے کا الزام لگایا ہے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: پارٹی نے اس مدت میں تقریباً پچاس لاکھ ڈالر، سات لاکھ بانوے ہزار ا سٹرلنگ پاؤنڈ اور دو کروڑ بیس لاکھ روپے کی رقم بیرونی فنڈنگ اور ممنوعہ ذرائع سے حاصل کی ہے۔ مریم اورنگ زیب کے الزامات پر غور کیا جائے تو یہ کہانی سامنے آتی ہے: ایک دہائی پہلے اس لئے عمران خان کی پارٹی کی فنڈنگ کی گئی تھی کہ ایک دن عمران خان وزیر اعظم بنے گا اور پھر 2019 میں نریندر مودی جیسے انتہا پسند کو بھارت کا وزیر اعظم بنایا جائے گا تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں طے کردہ حیثیت کو تبدیل کردے اور پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان خاموشی سے اس بھارتی ظلم کو برداشت کرلے گا۔ برصغیر کا نقشہ تبدیل کروانے کے لئے اگر یہ سارا منصوبہ محض پچاس لاکھ ڈالر صرف کرنے سے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے پھر دونوں ملکوں کو بھاری بھر کم فوج پالنے کی کیا ضرورت ہے۔ چند لاکھ ڈالر صرف کرکے سیاسی لیڈروں کے ذریعے ضروری مقاصد حاصل کرلئے جائیں۔ حالات کی پوری تصویر دیکھنے سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ حکومتی ترجمان کے الزامات کتنے لغو اور بے بنیاد ہیں، جنہیں حقارت سے ٹھکرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ملکی سیاست دانوں اور حکومتی نمائیندوں کو اپنے بیانات کی مضحکہ خیزی، سنگینی اور قومی مزاج و مفادات کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے منہ میاں مٹھو بن کر خود ہی قومی مفادات و سلامتی کے سب سے بڑے محافظ بھی بن بیٹھتے ہیں۔
ایک طرف وفاقی حکومت کی ترجمان اس قسم کی ہرزہ سرائی میں مشغول ہے تو دوسری طرف عمران خان ایک طرف یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی پارٹی کو اس مدت میں غیر ملکی فنڈنگ ہوئی تھی لیکن یہ اس وقت غیر قانونی نہیں تھی۔ اگر ان کی یہ بات درست ہے تو الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر سیخ پا ہونے کی بجائے ، وہ مناسب عدالتی فورم پر اپنی ’بے گناہی‘ کا ثبوت فراہم کرکے گلو خلاصی کرواسکتے ہیں۔ البتہ انہیں خود بھی اندازہ ہوگا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے ۔ وہ باالواسطہ طور سے غیر ملکی فنڈنگ کا اعتراف کررہے ہیں تو آٹھ سال تک وہ کس معاملہ پر الیکشن کمیشن کے کام میں رکاوٹیں ڈالتے رہے؟ اور اب بھی وہ چیف الیکشن کمشنر سے کیوں اس قدر ناراض ہیں کہ وہ کسی بھی طرح اس کے استعفے سے کم پر راضی ہونے پر آمادہ نہیں ہیں؟ اس تصویر کا یہ پہلو بھی نہایت دلچسپ ہے کہ پارٹی کے بعض وفادار اور دانشور حامی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ عمران خان روپیہ پاکستان ہی لے کر آیا ہے ، اس میں جرم کی کیا بات ہے۔ گویا منی لانڈرنگ اور ممنوعہ ذرائع سے وسائل جمع کرنے کی ہر حرکت کو جائز کہنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیا ان دانشوروں اور پارٹی لیڈروں کو احساس ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان کے خلاف مقدمہ کیا ہے۔ اور اب ناجائز وسائل کو ناجائز طریقے سے پاکستان لانے کو درست بتا کر وہ پاکستان میں معاشی لین دین پر نگاہ رکھنے والے اداروں کو کیا تاثر دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کا دعویٰ ہے لیکن کیا اسے احساس ہے کہ اگر اس کے فکری رہنما اور ہمدرد، مالی جرائم پر معذرت خواہی کی بجائے ، انہیں قومی مفاد کا اقدام کہنے کی احمقانہ کوشش کریں گے تو عالمی اداروں میں پاکستان کے لیڈروں کے بارے میں کیا تصور مستحکم ہوگا؟ عمران خان کا کل سیاسی مقدمہ کرپشن کی بیخ کنی ہے لیکن اپنی پارٹی کی غلط کاری پر شرمندہ ہونے کی بجائے وہ اس پر دلیل دے کر خود اپنے ہی مقدمہ کو کمزور اور بے بنیاد ثابت کررہے ہیں۔
بالکل یہی طریقہ پاکستان کے قومی دفاعی معاملات کے ساتھ بھی اختیار کیا جارہا ہے۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے کے لئے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کی تردید کی گئی ہے۔ یہ خبریں بھی سامنے آچکی ہیں کہ ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے کے لئے ڈرون حملہ وسطی ایشیا کے کسی امریکی اڈے سے کیا گیا تھا ۔ اس کے باوجو تحریک انصاف کے لیڈر فواد چوہدری بال کی کھال اتارتے ہوئے یہ تاثر قوی کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاک فوج کے ترجمان ادارے کا بیان ’دروغ گوئی‘ پر مبنی ہے کیوں کہ اس حملہ میں پاکستانی سرزمین نہیں بلکہ پاکستانی فضا استعمال ہوئی تھی۔ کیا فواد چوہدری بتا سکتے ہیں کہ وہ اپنی کس ٹیکنیکل صلاحیت کی بنیاد پر یہ بے بنیاد دعویٰ کررہے ہیں۔ کیا سال بھر کے لئے سائنسی امور کا وزیر رہنے سے میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون کی نقل و حرکت کے بارے میں ایسا دقیق علم حاصل ہوجاتا ہے کہ کوئی شخص فوج کے سرکاری بیان کو چیلنج کرسکے؟
یہی افسوسناک چلن بلوچستان کے کور کمانڈر اور ان کے رفقا کی ایک ہیلی کاپٹر سانحہ میں شہادت پر اختیار کیا گیا۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے یہ عاقبت نااندیش ساتھی فوج کو ’بلیک میل‘ کرکے کسی بھی طرح عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن اپنے عمل سے تمام اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑانے کے علاوہ اپنی ہی پارٹی اور محبوب لیڈر کے راستے میں کانٹے بچھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ صدر مملکت پارٹی کیڈر کے اسی منفی طرز عمل کی وجہ سے شہدا کے جنازہ میں شرکت نہیں کرسکے حالانکہ وہ رسمی طور سے مسلح افواج کے کمانڈر انچیف ہیں۔ اعلیٰ فوجی افسروں کی نماز جنازہ میں ان کی عدم شمولیت اسکنڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم صدر مملکت خود یہ کہہ کر اس ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا چاہتے ہیں کہ ’ شہدا کے جنازے میں میری عدم شرکت کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے‘۔ حالانکہ انہیں محض مذمت اور وضاحتی ٹوئٹ جاری کرنے کی بجائے حقیقی صورت حال سے عوام کو آگاہ کرنا چاہئے تھا۔ یا اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے تھی۔ البتہ ان کی پارٹی لیڈر یہ ذمہ دارہی بھی آئی ایس پی آر پر ڈال کر قومی اداروں کے خلاف نفرت کی پرورش کررہے ہیں۔
دعوؤں اور عملی کردار کا یہ تضاد ہی اس وقت پاکستانی سیاست و ریاست کا سب سے بڑ ا بحران ہے۔ بدقسمتی سے ملک کا ہر ذمہ دار اس میں مقدور بھر حصہ ڈال رہا ہے لیکن یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ ملک کی تقدیر بدلنے کا تیر بہدف نسخہ محض اس کے پاس ہے۔