صدر عارف علوی اپنے فرائض سرانجام نہیں دے سکتے تو استعفیٰ دے دیں: رضا ربانی
سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے فوجی اہلکاروں کی نماز جنازہ میں صدر مملکت کی غیر حاضری گہری تشویش کا باعث ہے۔
اگر عارف علوی سیاسی وابستگی کی وجہ سے اپنا فرض ادا نہیں کر سکتے تو مستعفی ہو جائیں۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے ہیلی کاپٹر حادثے میں فوجی جوانوں کی شہادت پر افسوسناک سوشل میڈیا مہم پر ملک کی مسلح افواج اور شہدا کے اہل خانہ کے گہرے رنج اور غصے کے اظہار کے بعد اتحادی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
شہدا کے جنازے میں صدر عارف علوی اور سربراہ پی ٹی آئی عمران خان کی عدم شرکت سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنی رہی۔ تاہم صدر عارف علوی نے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر متنازع بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کی اہے اور نفرت انگیز ٹوئٹس کرنے والوں کی مذمت کی۔
گزشتہ روز ایک بیان میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے صدر عارف علوی کے خلاف 6 نکاتی چارج شیٹ پیش کی اور نشاندہی کی کہ آئین کے آرٹیکل 243(2) کے تحت مسلح افواج کی سپریم کمانڈ صدر مملکت کے سپرد ہے۔ اگر صدر بطور سپریم کمانڈر اپنے فرائض سرانجام دینے سے قاصر ہیں تو انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔
رضا ربانی نے کہا کہ سپریم کمانڈر کا کسی مشورے یا کسی اور بنیاد پر شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنا گہری تشویش کا باعث ہے۔
علاوہ ازیں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے ٹرولز کی جانب سے فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل عمران خان کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
پیپلزپارٹی سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے بھی ہیلی کاپٹر سانحہ سے متعلق سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم کی ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہراتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔