روپ بدل کر 30 سال تک چھپنے والا بھارتی قاتل بالآخر پکڑا گیا
- تحریر بی بی سی اردو
- سوموار 08 / اگست / 2022
اوم پرکاش جنہیں پاشا کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے انڈیا کی شمالی ریاست ہریانہ میں پولیس کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل تھا۔
30 سال تک یہ ہمسایہ ریاست اتر پردیش میں ڈکیتی اور قتل کی ایک واردات سے تعلق کے شبے میں مطلوب تھا۔ یہاں آنے کے بعد اس نے ایک نئی زندگی اپنا لی، نئی سرکاری دستاویزات بنوا لیں اور ایک مقامی خاتون سے شادی کر لی جن سے اس کے تین بچے بھی ہیں۔ لیکن اس ہفتے کے اوائل میں خوش قسمتی بالآخر دھوکہ دے گئی اور پولیس نے 65 سال کے اس شخص کو غازی آباد کی کچی آبادی میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اوم پرکاش نے کئی روپ بدلے۔ انہوں نے ٹرک چلایا، ایک مقامی گروہ کے ساتھ قریبی دیہات میں بھجن گاتے رہے، حتیٰ کے 28 کم بجٹ والی فلموں میں کام بھی کیا۔
اوم پرکاش نے گرفتاری کے بعد خود پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی لیکن انہیں گرفتار کرنے والی ہریانہ سپیشل ٹاسک فورس کے رکن سب انسپکٹر وویک کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں (اوم پرکاش) نے 1992 میں ہونے والے قتل کے لیے اپنے ایک ساتھی کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔
اوم پرکاش کی گرفتاری کی خبریں آنے کے دو دن بعد بی بی سی نے ان کے خاندان کو تلاش کیا اور ان کی کہانی جاننا چاہی۔ بی بی سی کی رپورٹر گیتا پانڈے بتاتی ہیں: ہربن نگر کی وسیع و عریض کچی آبادی کی تنگ گلیوں میں جہاں گھروں کے نمبر بھی نہیں ہوتے، وہاں مجھے ان کا گھر تلاش کرنے میں ساڑھے تین گھنٹے لگ گئے۔ میں راج کماری سے ملی جو 25 سال سے ان کی بیوی ہیں اور اُن کے تین میں سے دو بچوں سے بھی ملی، 21 سالہ بیٹا اور 14 برس کی بیٹی سے۔
کمرے میں بستر کے نیچے سے راج کماری نے ایک ہندی اخبار نکالا اور اپنے شوہر پر لگے الزامات کی تفصیلات بتائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ اب تک صدمے میں ہیں اور انہیں ان کے ’مجرمانہ ماضی‘ کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا اور وہ اس انکشاف کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اوم پرکاش کے خاندان کے پاس ان کے لیے کوئی خوش آئند بات نہیں تھی۔
انہوں نے بھی ان پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔ راج کماری نے الزام عائد کیا کہ ’میں نے 1997 میں ان سے شادی کی لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ وہ پہلےسے شادی شدہ ہیں اور ان کا ایک خاندان ہے۔‘
سب انسپکٹر وویک کمار نے بتایا کہ ہریانہ کے پانی پت ضلع میں نارینا گاؤں میں اوم پرکاش نے انڈین آرمی میں ٹرک ڈرائیور کی حیثیت سے 12 سال کام کیا، جس کے بعد 1988 میں انہیں چار سال تک غیر حاضر رہنے کی وجہ سے برطرف کر دیا گیا۔ اوم پرکاش نے مبینہ قتل کی واردات سے پہلے کئی جرائم کیے۔ انہوں نے مبینہ طور پر 1986 میں گاڑی چرائی چار سال بعد ایک موٹر سائیکل، ایک سلائی مشین اور ایک سکوٹر چرایا۔ یہ جرائم مختلف اضلاع میں کیے گئے۔ ان میں سے کئی جرائم میں پولیس کے مطابق وہ گرفتار بھی ہوئے اور ضمانت پر رہا ہو گئے۔
وویک کمار کا کہنا ہے کہ جنوری 1992 میں اوم پرکاش اور ایک دوسرے شخص نے ایک موٹر سائیکل سوار کو لوٹنے کی کوشش کی۔ جب اس شخص نے مزاحمت کی تو انہوں نے اسے چاقو مار دیا اور جب گاؤں کے لوگوں کو اپنی جانب آتے دیکھا تو یہ سکوٹر چھوڑ کر بھاگ گئے۔
سب انسپیکٹر کمار کے مطابق دوسرا شخص گرفتار ہو گیا اور اسے آٹھ سال قید ہوئی جس کے بعد وہ ضمانت پر رہا ہو گیا۔ لیکن اوم پرکاش غائب ہو گیا اور جلد ہی یہ مقدمہ سرد پڑ گیا۔ پولیس نے انہیں ’اشتہاری مجرم‘ قرار دے دیا اور ان کی فائل پر گرد جمنے لگی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد اوم پرکاش نے بتایا کہ اس مبینہ قتل کے بعد انہوں نے پانچ سال ہمسایہ ریاستوں تامل ناٹو اور آندھرا پردیش کے مندروں میں پناہ لیتے گزارے۔ ایک سال بعد وہ شمالی انڈیا لوٹ آئے لیکن گھر جانے کے بجائے 180 کلومیٹر دور غازی آباد کے علاقے میں آباد ہو گئے۔ وہاں انہیں ٹرک چلانے کا کام مل گیا۔
راج کماری کا کہنا ہے کہ اُنہیں مقامی طور پر بجرنگ بلی یا بجرنگی کہا جاتا تھا، وہ 1990 کی دہائی میں ویڈیو کیسٹس کرائے پر دیتے اور ویڈیو فلموں کی دکان چلاتے تھے۔ وہ فوج میں اپنی ملازمت کی وجہ سے ’فوجی تاؤ‘ کے نام سے بھی پہچانے جاتے تھے۔ 2007 کے بعد سے وہ ہندی فلموں میں چھوٹے موٹے کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں جن میں وہ گاؤں کے بڑے، ولن یا پولیس اہلکار کا کردار ادا کرتے۔ ان میں سے ایک فلم ترکو کو یوٹیوب پر 76 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اوم پرکاش نے ایک بڑی غلطی کی کہ تمام دستاویزات میں ان کا اپنا اور ان کے والد کا نام اصلی تھا۔ پولیس اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ اوم پرکاش کا نیا خاندان اور ہمسائے ان کے مجرمانہ ماضی سے لاعلم تھے۔ راج کماری کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد انہیں محسوس ہوا تھا کہ اوم پرکاش ان سے کچھ چھپا رہے ہیں۔ کچھ سال کے بعد انہیں اوم پرکاش کی پہلے شادی کے بارے میں پتا چلا جب ان کی پہلی بیوی نے ان کے گھر آ کر شور شرابہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تب مجھے اور ہمسایوں کو پتا چلا کہ ان کی ایک اور زندگی بھی ہے، ایک بیوی اور ایک بیٹا ہے جسے یہ چھپاتے رہے۔ ہمیں دھوکہ دیا گیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی شادی کے بعد وہ طویل عرصے تک غائب رہے جس کی وجہ وہ ان کے دور دارز ٹرک کے سفر کو قرار دیتی رہیں لیکن اب ان کا اصرار ہے کہ وہ اپنے دوسرے خاندان سے ملنے جاتے تھے۔
ان کے تعلقات خراب ہو گئے اور ایک دو جھگڑوں کے بعد 2007 میں وہ پھر سے غائب ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اتنی تنگ آ چکی تھی کہ میں نے ان سے قطع تعلق کر لیا، میں ایک مقامی سرکاری دفتر گئی اور وہاں حلف لکھ دیا کہ میرا اس شخص کے ساتھ آئندہ کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ سات سال بعد لوٹ آئے اور اس کے بعد آتے جاتے رہتے ہیں۔‘
ان کی 14 سالہ بیٹی کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمیں برا بھلا کہتے ہیں مگر وہ جب بھی آتے ہیں تو ہم انہیں ترس کھا کر تھوڑا کھانا دے دیتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے والد اور بوڑھے شخص ہیں۔‘ راجکماری کہتی ہیں کہ اس سے پہلے ایک مرتبہ ہریانہ پولیس انھیں چوری کے شبہے میں گرفتار کرکے لے جا چکی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اُنہوں نے تب جیل میں چھ سے سات ماہ گزارے تھے مگر پھر وہ لوٹ آئے اور ہمیں بتایا کہ اُنہیں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔‘ گرفتاری کے باوجود وہ قتل کے مقدمے میں اشتہاری ہیں کیونکہ پولیس کے ریکارڈز اب بھی مکمل طور پر ڈیجیٹلائز نہیں ہوئے ہیں اور مختلف اضلاع کی پولیس کا ایک دوسرے سے بات کرنا اور معلومات کا تبادلہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
2020 میں جب ہریانہ نے منظم جرائم، منشیات، دہشتگردی اور بین الریاستی جرائم کی روک تھام کے لیے خصوصی ٹاسک فورس بنائی تو اوم پرکاش کی فائل بھی دوبارہ کھل گئی۔ فورس نے اُنہیں ’انتہائی مطلوب‘ افراد کی اپنی فہرست میں ڈال کر اُن کے بارے میں اطلاع کے لئے 25 ہزار روپے انعام کا اعلان کیا۔
اتنے طویل عرصے تک غائب رہنے والے شخص کی گرفتاری سپیشل ٹاسک فورس کے لیے ایک کامیابی سمجھی جا رہی ہے مگر امل بھٹناگر کہتے ہیں کہ پولیس کا اصل کام اب شروع ہو گا۔
’اُنہیں عدالت میں ثابت کرنا ہوگا کہ اُنہوں نے درست شخص کو پکڑا ہے اور عدالتوں کو تفصیلی جائزہ لینا ہوگا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے ہی وہ جرائم کیے ہیں جن کے ان پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘
(رپورٹ: گیتا پانڈے)