پاکستان کے ارشد ندیم نے جیولین تھرو میں طلائی تمغہ جیت لیا

  • سوموار 08 / اگست / 2022

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے ارشد ندیم نے سونے کا تمغہ جیتا ہے۔ اس طرح انہوں نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں 56 سال میں پہلی بار کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔

ارشد نے اتوار کی شام الیگزینڈر اسٹیڈیم میں جیولن تھرو کا فائنل 90.18 میٹر کی تھرو کر کے جیتا۔ اس فاصلے کو انہوں نے اپنی پانچویں تھرو میں حاصل کیا اور اس مقابلے میں سرفہرست آئے جس میں عالمی چیمپئن اینڈرسن پیٹرز، سابق اولمپک چیمپئن کیشورن والکوٹ اور کامن ویلتھ گیمز کے سابق چیمپئن جولیس یگو شامل تھے۔

یہ 1966 کے بعد کھیلوں میں پاکستان کا پہلا ایتھلیٹکس کا تمغہ اور ملک کے لیے جیولن میں پہلا طلائی تمغہ ہے۔ 1954 میں ہر چار سال بعد ہونے والے ان کھیلوں کے افتتاحی ایڈیشن میں محمد نواز نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا اور 1958 میں جلال خان نے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

کھیلوں میں تمغہ جیتنے کے لیے پاکستان کی ارشد سے بھی بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ انہوں نے اپنے پہلی تھرو میں ہی اپنے خطرناک عزائم ظاہر کر دیے تھے۔ اس شام وہ اپنی ذاتی بہترین کارکردگی میں تین بار بہتری لائے اور پہلی کوشش میں 86.61 میٹر کی تھرو کی۔

ان کی دوسری کوشش میں فاؤل سے کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ ارشد نے ٹھیک 88 میٹر کی تھرو کے ساتھ اپنی بہترین کارکردگی کو ایک بار پھر بہتر کیا۔ گزشتہ ماہ کی عالمی چیمپیئن شپ میں بھی انہوں نے اسی پوزیشن پر اختتام کیا تھا۔

ارشد کی چوتھی تھرو 85 میٹر کے نشان سے تھوڑی زیادہ تھی لیکن دو راؤنڈ اب بھی باقی تھے اور پاکستانی اسٹار کو برتری حاصل تھی۔

آخری راؤنڈ سے قبل  پیٹرز نے 88.64 کی تھرو کرکے ارشد کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کی یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ ارشد نے 90 میٹر کی تھرو کی۔ اس طرح وہ تائیوان کے چاو سون چینگ (91.36 میٹر) کے بعد یہ نشان عبور کرنے والے دوسرے ایشیائی بن گئے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے ماریئس کاربیٹ کا 88.75 میٹر کا گیمز ریکارڈ بھی توڑ دیا جو انہوں نے 1998 میں قائم تھا۔