ایران جوہری معاہدے کی بحالی کا حتمی مسودہ تیار

  • منگل 09 / اگست / 2022

ایران اور مغربی طاقتوں نے 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایک حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے۔  مسودے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے حالیہ دور کے بعد ہؤا۔

یورپی یونین نے پیر کے روز بتایا کہ ویانا میں امریکی اور ایرانی عہدے داروں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات چار روز تک جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئے ہیں، جس کے بعد 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایک حتمی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جن معاملات پر بات چیت کی جا سکتی تھی، ان پر گفتگو ہو چکی ہےاور اب وہ حتمی مسودے میں موجود ہیں۔ تاہم ہر تکنیکی مسئلے اور ہر پیراگراف کا انحصار سیاسی فیصلے پر ہے ، جس پر متعلقہ حکومتوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بوریل کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ جوابات مثبت ہیں تو ہم اس معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل یورپی یونین کے ایک سینئر اہل کار نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ15 ماہ سے جاری بات چیت کے بعد تیار کیے جانے والے حتمی مسودے میں اب مزید کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے وہ فریقین سے چند ہفتوں کے اندر اس مسودے پر حتمی فیصلے کی توقع رکھتے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ واشنگٹن یورپی یونین کی تجاویز کی بنیاد پر 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے فوری طور پر ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔ اس معاہدے کو باضابطہ طور پر 'جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن' کہا جاتا ہے۔

امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران بار بار یہ کہتا رہا ہے کہ وہ 'جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن' کے باہمی نفاذ کی جانب واپسی کے لیے تیار ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ تہران کے اقدامات ان کے الفاظ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ وہ یورپی یونین کی تجاویز کو حتمی نہیں سمجھتے، مشاورت کے بعد یورپی یونین کو اپنے اضافی خیالات اور تحفظات سے آگاہ کریں گے۔ ایران نے امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کچھ چیزوں کو معاہدے کے دائرہ کار سے نکال دیا جائے۔