اے آسمان ترا اختر شمار آ گیا ہے
اختر شمار بھی اطہر ناسک کے پاس چلا گیا اور میں چشم تصور میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت اطہر ناسک کتنا خوش ہو گا اور کیسے اسے مزے مزے کی باتیں سنا رہا ہو گا ۔
گیارہ نومبر دو ہزار بارہ سے اب تک کی کہانیاں ۔ دس برس کے وچھوڑے کی داستان ۔ اور ان دونوں کے استاد بیدل حیدری بھی وہیں کہیں موجود ہوں گے ۔ مجھے یاد ہے دس برس قبل جب اطہر ناسک کا انتقال ہوا تو اختر شمار مصر میں تھے ۔ کیسے تڑپ کر رہ گئے تھے، وہ اپنے دوست کی علالت اور پھر جدائی کی خبر پر ۔ میرے لیے اطہر ناسک اور اختر شمار کو ایک دوسرے کے بغیر سوچنا ممکن ہی نہیں کہ میں نے ان کی رفاقت کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے ۔ اطہر ناسک اختر شمار کا دوست بھی تھا اور پروموٹر بھی ۔ خود پیچھے رہ کر اختر شمار کو نمایاں کرتا تھا ۔
آج جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں کچھ دیر بعد اختر شمار کو ان کے آبائی علاقے چکری سہال میں سپرد خاک کر دیا جائے گا ۔ اور کل یوم عاشو ر ان کی قل خوانی کا دن ہو گا ۔ اختر شمار سے میری پہلی ملاقات 1980 میں ہوئی جب میں سول لائنز کالج میں پڑھتا تھا ۔ شاید اطہر ناسک نے ہی اختر شمار سے میرا تعارف کرایا تھا ۔ یہ ہم سب کا لڑکپن تھا ۔ اختر شمار اس زمانے میں حسن آباد کے علاقے میں رہتے تھے ۔ وہ ایک سیلف میڈ انسان تھا ، ایک ایسا شخص جس نے مسلسل محنت کے ذریعے اپنا مقام بنایا ۔ جون 1985 میں اختر شمار کا ہائیکو مجموعہ ” روشنی کے پھول “ کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ یہ کتاب اطہر ناسک نے ہی مرتب کی تھی ۔ جو اس زمانے میں زکریا یونیورسٹی میں پڑھتا تھا ۔
یہی وہ زمانہ تھا جب میں ملتان کو خیر باد کہہ کر لاہور منتقل ہوا اور پھر کچھ عرصہ بعد اختر شمار اور اطہر ناسک بھی لاہور آ گئے ۔ اطہر ناسک تو میرے ساتھ حیدر بلڈنگ میں منتقل ہو گیا لیکن اختر شمار نے ریلوے سٹیشن کے قریب رہائش اختیار کی ۔ بعد کے تین سال اختر شمار، اطہر ناسک اور طفیل ابن گل کے ساتھ گزرے ۔ طفیل ابن گل حسن آباد میں اختر شمار کے پڑوسی تھے ۔ سب سے پہلے انہوں نے داغ مفارقت دیا ۔ اور اب اس رفاقت کی آخری کڑی بھی ٹوٹ گئی اور میں تنہا رہ گیا ۔
مجھے وہ زمانہ بھی یاد آ رہا ہے جب اختر شمار کراچی گئے تھے اور وہاں پرنم الہ ابادی کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کے حوالے سے مجھے طویل خط لکھا تھا ۔ شاید اظہر سلیم مجوکہ بھی اس زمانے میں کراچی ہوتے تھے ۔ پھر ایک بار اظہر لاہور آئے تو میرے ساتھ اختر شمار اور اطہر ناسک کو ملنے گئے۔ یہ دونوں اس زمانے میں چوبرجی کے قریب شام نگر میں رہتے ۔ پھر میں تو ملتان واپس آ گیا اور اطہر ناسک اور اختر شمار نے لاہور کو مسکن بنا لیا ۔
’بجنگ آمد‘ لاہور میں اختر شمار کی پہلی آواز تھی ۔ یہ ادبی اخبار کا پہلا اور انتہائی کامیاب تجربہ تھا ۔ اور اختر شمار نے اس کے ذریعے خود کو تسلیم بھی کرایا ۔ اختر شمار کی ابتدائی غزلوں میں سے ایک غزل کا مقطع مجھے ہمیشہ بہت پسند رہا:
اے آسمان میں ترا اختر شمار ہوں
کچھ تو مری نظر کی صداقت شمار کر
آسمان سے مخاطب ہونے والا اختر شمار آج آسمان کے سفر پر روانہ ہو گیا ۔ اس نے یقیناً وہاں پہنچ کر کہا ہو گا اے آسمان ترا اختر شمار آ گیا ہے ۔ اب آسمان ادب کا یہ روشن ستارہ ہمیں افق پر جھلملاتا نظر آئے گا اور میں کبھی اپنی نظم ستارے مل نہیں سکتے کے مصرعوں میں فلک پر رقص کرتے ان گنت روشن ستاروں کو ترتیب دوں گا تواب ان سے اختر شمار کا نام ہی بنے گا ۔
(بشکریہ: گرد وپیش ملتان)