جبر و دہشت سے ایک مکالمہ؟
- تحریر افضال ریحان
- منگل 09 / اگست / 2022
دہشت گرد ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتے یہ ہمارا ماحول، سماج، نصاب اور پروپیگنڈہ ہے جو کسی بھی شخص کی ذہن سازی یا میلان کو بڑھاوا دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ہمارے ماہرین نفسیات اور داناؤں کو اس حوالے سے باقاعدہ ریسرچ کرنی چاہیے کہ کسی بھی اچھے بھلے انسان کو براہ ستہ شدت پسندی، دہشت گردی کی مسلح کارروائیوں تک لے جانے کے عوامل کیا ہیں؟ بالخصوص ہمارے مسلم سماج میں اس حوالے سے عرق ریزی کے ساتھ تحقیق کی ضرورت بوجوہ زیادہ تھی مگر فکری بانجھ پن، گھٹن، خوف اور جہالت و عقیدت کے عناصر نے ٹوہ لگانے کی اپروچ کو یہاں کفر سے بھی کچھ آگے پہنچا رکھا ہے۔ آج کوئی نامراد اگر یہ کہے کہ مذاہب عالم میں عصر حاضر کی سائنٹفک ترقی اور حریت فکر کے تناظر میں تطہیر کی ضرورت ہے تو غیروں سے پہلے اپنے ہی چڑھ دوڑیں گے کہ ہمارا دین مذہب نہیں ہے، یہ تو کامل ضابطہ حیات ہے جس کی فنڈامینٹل تعلیمات میں کسی نوع کی میم میخ یا تطہیر کی ضرورت و گنجائش قطعی نہیں ہے۔
یہ تعلیمات آسمانوں سے اتری ہیں اور تا ابد اٹل ہیں ہاں البتہ روز مرہ کے دیگر فروعی معاملات میں اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ کہ چونکہ چنانچہ اسے بھی خواہ مخواہ چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لئے کہ مجتہد کے لئے جو کڑی شرائط ہیں فی زمانہ کوئی ان پر پورا اترنے کے قابل ہی نہیں ہے اور خبردار نصوص کے حوالے سے اگر ترچھی نظر سے دیکھا بھی….. نصوص تو دور کی بات، ہمارے حضرت صاحب نے جو فتاویٰ جاری فرمائے ہیں اگر ان پر بھی تنقیدی نظر ڈالنے کی جسارت کی تو تم بلاسفیمی جیسے گھناؤنے جرم کے مرتکب قرار پا سکتے ہو۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کی عالمی جدوجہد اور جدید سو فیسٹیکیٹیڈ ہتھیاروں بالخصوص ہوشربا ڈرون ٹیکنالوجی کے باعث اسلامی دہشت گردی کا طاقتور اور خوفناک جن بڑی حد تک جکڑا جا چکا ہے اور بوتل میں بند ہونے جا رہا ہے۔ وگرنہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات ہوتی تھی تو اس کے کھرے کسی نہ کسی مسلمان کی طرف پہنچتے دکھائی دیتے تھے۔ جبکہ مومنین کی طرف سے ایک ہی آواز زور و شور سے اٹھتی تھی یہ کہ ہم نے ناک پر مکھی بیٹھنے دینی ہے نہ پاؤں پر پانی ۔
ایسی ہر واردات پر کہا جاتا ہے کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ کہ ہمارا دین اس کی اجازت نہیں دیتا، گویا مسلمان جو کرتوتیں 15 صدیوں سے اب تک کرتے چلے آ رہے ہیں وہ سب اپنے دین سے اجازت لے کر کرتے ہیں؟ یہ جو دنگا فساد، قتل و غارت گری، جھوٹ، فراڈ، ملاوٹ، بے ا یمانی اور کمینگی پوری ڈھٹائی سے روا رکھی جاتی ہے تو گویا پہلے اس کی اجازت لیتے ہیں؟ نواسہ رسول اور ان کے کنبے کو اذیتیں دے کر یہود و ہنود یا صلیبیوں نے تو نہیں مارا تھا وہ کلمہ گو تھے جن کی صفوں سے آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ حسینؓ ابن علیؓ کو جلدی مارو ہماری نماز جمعہ قضا ہو رہی ہے۔ آج کی دنیا اکثر یہ سوال اٹھاتی ہے کہ مانا آپ کے دین کا دہشت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن کیا وجہ ہے جہاں بھی دہشت کی کوئی کارروائی ہوتی ہے اس میں بالعموم کوئی نہ کوئی مسلمان ہی ملوث کیوں پایا جاتا ہے؟ یا اس کی کڑیاں آخر ان معززین و معصومین تک کیوں پہنچتی ہیں؟
اس پر پھپھے کٹنیوں کی طرح نام نہاد مظلومیت کی ایک طویل داستان شروع کر دی جاتی ہے۔ بالخصوص ہمارے ایریا میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کا رونا روتے روتے تان کشمیری مسلمانی پر توڑی جاتی ہے۔ مابعد افغانستان، عراق، شام، لبنان، لیبیا یا پھر برما و چیچنیا کے حوالے سے ٹسوے بہائے جاتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ ہر ایک خطے کے اپنے اپنے ایشوز ہیں جنہیں ان کے مخصوص پس منظر میں دیکھتے ہوئے ون بائی ون جائزہ لیتے ہیں اور دلائل کے ساتھ ایک ایک پر مباحثہ کرتے ہیں تو امریکا و مغرب پر لعن طعن کے ساتھ گفتگو کا رخ بدل دیا جاتا ہے۔ یہ کہ مغرب نے بھی تو مظلوم اقوام پر بڑے مظالم ڈھائے ہیں۔ دونوں بڑی جنگوں میں کتنے لوگ مرے تھے، ہٹلر اور مسولینی کوئی مسلمان تو نہیں تھے۔ آخر ان کے مظالم کو مسیحیت سے کیوں نہیں جوڑا جاتا؟ جب بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ تمام مظالم بائبل مقدس کے ریفرنس سے تو نہیں ڈھائے تھے۔ انہوں نے مسیحؑ کی حرمت و ناموس کے نام پر تو قتل و غارت گری نہیں کی تھی۔ اس لئے اسے مسیحیت کے ساتھ کیونکر جوڑا جا سکتا ہے؟۔ آپ لوگ تو اپنے ہر دنگے کا آغاز ہی اپنے مقدس نعرہ تکبیر سے کرتے ہیں اور اپنی اس خونریزی کا تمام تر جواز ہی اپنے مقدس حوالہ جات سے پیش کرتے ہیں تو پھر دنیا کیوں نہ اس کو آپ کے مقدس عقیدے یا مذہب کے ساتھ جوڑے گی؟ جسے آپ اسلامو فوبیا کہیں یا جو بھی مکروہ نام دیں۔ سچائی سے کیونکر اور کب تک انکار کریں گے؟ دوسروں کو کب تک بیوقوف بنائیں گے؟۔
اس کے بعد بات گھومتے گھماتے ہندوستان کی طرف آ جاتی ہے جہاں مسلمان بڑے مظلوم ہیں۔ بی جے پی کی حکومت ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مودی مظلوم انڈین مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے پہلے اس نے گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کی تھی، اب پورے بھارت میں ان کا جینا محال کر دیا ۔ جواب دیا جاتا ہے کہ اگر انڈین مسلمان اتنے مظلوم ہیں تو انڈیا پر تین حروف بھیجتے ہوئے ’انڈیا چھوڑو‘ کے نعرے پر عمل پیرا ہو جائیں اور اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان میں تشریف لے آئیں ان کی تعداد بیس کروڑ ہے یا پچیس کروڑ، پاکستانی طاقتور بھی ان کے لئے اپنے دروازے کھول دے کیونکہ پارٹیشن اور نظریہ پاکستان کا یہی بدیہی تقاضا ہے۔ جناح صاحب کا دو قومی نظریہ یہی تھا کہ ہندو اور مسلمان اکٹھے نہیں رہ سکتے یہ دونوں الگ قومیں ہیں ان کی تہذیب و تمدن، مذہبی رسومات، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا ہر چیز جداگانہ ہے اسی بنیاد پر تو ملک کا بٹوارا ہوا تھا۔ ایک ملین سے زائد انسان مرے تھے یا مار دیے گئے تھے دس ملین سے زائد انسان اپنے گھروں سے بے گھر کر دیے گئے تھے یا مہاجرت پر مجبور تھے مصور پاکستان حضرت علامہ فرما گئے ہیں:
ہے ترک وطن سنت محبوب الٰہی
دے تو بھی نبوت کی صداقت پر گواہی
مگر یہ سب کہنے کی مصنوعی باتیں ہیں مقصد دوسروں کو مطعون کرنا اور خود کو مظلوم ثابت کرنا ہے۔ اگر ان تمام تر تباہ کاریوں کا تحقیقی جائزہ لیا جائے تو پہلے قدم پر ہی یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ ساری قربانیاں پاکستان کے لئے نہیں تھیں، پاکستان کی وجہ سے تھیں، بربادی کی جڑ یا شاخسانہ آزادی کی مثبت سوچ نہیں تھی بلکہ پارٹیشن کی منفی اپروچ یا ذہنیت تھی جس کا لاوا منصوبہ بندی کے تحت پہلے سے سلگایا گیا تھا اور 16 اگست 1946 کا ڈائریکٹ ایکشن ڈے جس کی معراج تھا۔ ذرا تحقیق کرلی جائے کہ اس کی کال کس نے دی تھی؟، جلاؤ گھیراؤ کس نے شروع کروایا تھا؟ کس نے کان پور میں یہ فرمایا تھا کہ اکثریتی خطوں کی آزادی کے لئے اقلیتی خطوں کے دو کروڑ مسلمانوں کی قربانی کیلئے تیار ہوں۔ یہ جیتے جاگتے ہنستے بستے انسان، کیا چھترے بکرے تھے جن کی قربانی کیلئے تکبیر پڑھی جا رہی تھی؟۔
کیا لیگ کے اندر کوئی ایسا بھلا مانس نہیں تھا جو ہٹلر ذہنیت کے سامنے کھڑے ہوتا؟ اب دوسروں پر الزامات دھرنے کی بجائے اپنے کیے کو بھگتیں کیونکہ خود کردہ را علاج نیست۔