تحریک انصاف کے لیڈر شہباز گل کو فوج کے خلاف بیان دینے پر گرفتار کرلیا گیا
پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر فواد چوہدری اور دیگر رہنماؤں کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اسلام آباد کے بنی گالا چوک سے اغوا کر لیا گیا ہے۔ تاہم وزارت خارجہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں فوج کے خلاف باتیں کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔
ٹوئٹر پر ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہا تھا کہ شہباز گل کو بنی گالا چوک سے بغیر لائسنس نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں سوار لوگوں نے اٹھایا۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ٹوئٹر پر واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے گرفتاری کے بجائے اغوا قرار دیا۔ سابق وزیراعظم نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ کیا ایسی شرمناک حرکتیں کسی جمہوریت میں ہو سکتی ہیں؟ کیا سیاسی کارکنوں کے ساتھ دشمن جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ یہ سب بیرونی پشت پناہی سےمسلط کی جانےوالی مجرموں کی سرکار کو ہم سے تسلیم کروانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک اور سینئر رہنما سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے بھی اس دعوے کو دہراتے ہوئے الزام لگایا کہ شہباز گل کی گاڑی کی کھڑکیوں کے شیشے توڑے گئے جب کہ ان کے اسسٹنٹ پر بھی حملہ کیا گیا۔
مراد سعید نے مزید کہا کہ کس کس کو گرفتار کریں گے؟ کتنے صحافیوں پر پابندی لگائیں گے؟ شہباز گل کی گاڑی کے شیشے بھی توڑے گئے، کل رات ایک خوفناک منصوبہ تھا لیکن عمران خان کے جاں نثاروں نے واضح پیغام دیا کہ عمران خان ریڈ لائن ہے۔
پی ٹی آئی کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر شہباز گل کے اسسٹنٹ کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پارٹی رہنما کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جس طرح سے شہباز گل کو گرفتار کیا گیا، ان کے اور ان کے اسٹاف ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا گیا وہ شرمناک ہے۔
ایک اور پوسٹ میں گرفتاری کے وقت شہباز گل کے ہمراہ موجود ان کے معاون کا کہنا تھا کہ بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں نے اسلحہ کے ساتھ شہباز گل کی گاڑی پر حملہ کیا اور تشدد کے بعد بغیر وارنٹ کے انہیں ساتھ لے گئے۔ اس دوران مجھے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ شہباز گِل کا مبینہ اغوا اور اے آر وائی کی نشریات کی بندش امریکی حکومت کی تبدیلی کی سازش اور اس کے سہولت کاروں کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔
پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان بھی واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ حکومت کس قدر خوفزدہ ہے۔ ٹوئٹر بیان میں بابر اعوان نے کہا کہ اغوا کے انداز میں شہباز گل کی گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ اِس بات کا ثبوت بھی کہ لوگوں کو ڈرانے والے خود کس قدر خوف زدہ ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے صاحبزادے سابق وفاقی وزیر مونس الہیٰ نے دعویٰ کیا کہ بنی گالا کے اطراف میں کچھ موومنٹ ہے، ہم تحفظ کے لیے پنجاب پولیس روانہ کر رہے ہیں۔
گزشتہ روز پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کو اپنے شو میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کے ترجمان شہباز گل کا تبصرہ نشر کرنے پر شو کاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا بیان مسلح افواج کی صفوں میں بغاوت کے جذبات اکسانے کے مترادف تھا۔
اے آر وائی کے ساتھ گفتگو کے دوران ڈاکٹر شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج میں ان عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں جس سے حکومت کا غصہ بڑھتا ہے۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا ‘اسٹریٹجک میڈیا سیل’ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور مسلح افواج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔
پیمرا کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اے آر وائی نیوز پر دیا گیا بیان آئین کے آرٹیکل 19 کے علاوہ پیمرا قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
اس دوران ترجمان اسلام آباد پولیس نے واضھ کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے 76 سے زیادہ اہلکار تعینات ہیں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ بنی گالہ کی طرف کسی بھی قسم کا کوئی آپریشن تاحال نہیں ہو رہا۔ عوام سے گزارش ہے کہ پراپیگنڈا اور جھوٹی خبروں پر دھیان نہ دیں۔ یہ بیان مونس الہیٰ کے علاوہ پنجابکے ایک صوبائی وزیر کے بایانات کے بعد سامنے آیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر مونس الہی کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ بنی گالا کی طرف کچھ نقل و حرکت ہو رہی ہے۔ ہم حفاظت کے لیے پنجاب پولیس بھیج رہے ہیں۔
وزارت داخلہ کے اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ شہباز گل کو اے آر وائی نیوز پر فوج کے اندر بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق جو کچھ شہباز گل نے ٹی وی پر کہا ہے اسے تحریری شکل دے کر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان پر بغاوت پر اُکسانے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہباز گل نے ’ٹی وی ٹاک شو میں ریاستی اداروں کے سربراہان کے خلاف بیانات دیے تھے۔