موسم رنگا رنگی اور برطانیہ میں گرمی کی شدت

موسم اور ان کی تبدیلی قدرت کا ایسا کرشمہ ہے جس پر غور کرنے سے نہ صرف انسان پرخالق کائنات کی مصلحتوں کا بھید کھلتا ہے بلکہ انسان سجدہ شکر ادا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

انہی موسمی تغیرات کی وجہ سے نہ صرف ہمیں رس بھرے خوش ذائقہ پھل اور میوے میسر آتے ہیں بلکہ رنگ برنگے پھولوں کی رعنائیاں اس کرۂ ارض کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ موسموں کے بدلنے سے برف گرتی اور پھر پگھلتی ہے جس کے نتیجے میں آبشاریں، جھیلیں اور دریا جنم لیتے ہیں۔ دریاؤں کی روانی ہمارے کھیتوں کو سیراب کرتی ہے جس سے انسانوں کو غذا اور اجناس مہیا ہوتی ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں کو خدائے بزرگ و برتر نے الگ الگ موسموں سے نوازا ہے۔

کسی ملک اور خطے میں سرد موسم کا دورانیہ زیادہ طویل ہوتا ہے تو کہیں جھلسا دینے والے گرم موسم کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے۔ جو پھل پھول اور سبزیاں گرم ملکوں میں اُگتی ہیں سرد ممالک کے لوگ ان کے ذائقوں سے ناآشنا ہیں۔ اسی طرح ٹھنڈے ملکوں کی قدرتی نعمتوں سے گرم ملکوں کے لوگ واقف نہیں ہیں۔ موسم اللہ کی نعمت ہیں۔ ہر خطے کے لوگ اپنے مقامی موسم کے عادی ہو جاتے ہیں۔ دنیا کے جن حصوں میں ہر وقت برف جمی رہتی ہے وہاں بھی لوگ اپنے معمولات زندگی جاری رکھتے ہیں اور جہاں سال کے آٹھ مہینے بلا کی گرمی پڑتی ہے وہاں بھی زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ ویسے تو انسانوں کی اکثریت کسی حال میں خوش نہیں رہتی۔ سردی سے اکتائے ہوئے انسان گرم ملکوں کو حسرت سے دیکھتے ہیں اور گرمی کے مارے ہوئے لوگ ٹھنڈے ملکوں میں زندگی بسر کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ انسان کے اپنے اندر بھی ایک موسم ہوتا ہے اور اگر اندر کا یہ موسم ٹھیک ہو تو وہ اس بات سے بے نیاز ہو جاتا ہے کہ اس کے اردگرد ماحول کا موسم کیسا ہے۔ یہ سب انسان کی اپنی اندر کی کیفیت پر منحصر ہے۔ رسا چغتائی نے کہا تھا:

تیرے آنے کا انتظار رہا

عمر بھر موسم بہار رہا

برطانیہ سمیت یورپ کے بہت سے ٹھنڈے ملکوں کے لوگ چھٹیاں گزارنے کے لئے گرم ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔ اسی لئے دبئی، ترکی، مراکو اور سپین کے کنیری آئی لینڈز یورپی سیاحوں کے لئے بڑی کشش رکھتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور دیگر کئی یورپی ملکوں میں موسم گرما کے دورانیے اور درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 19جولائی کو برطانیہ اور خاص طور پر لندن میں اتنی شدید گرمی پڑی کہ ہم تارکین وطن کو پاکستان یاد آ گیا۔ برطانوی دارالحکومت میں درجہ حرارت 40 ڈگری سنٹی گریڈ تک جا پہنچا جو کہ اب تک پڑنے والی سب سے زیادہ گرمی کا ایک ریکارڈ ہے۔ لندن میں گھر اس طرح کے بنائے گئے ہیں کہ جو اپنے مکینوں کو صرف سردی کی شدت سے بچا سکیں۔ گرمی سے بچاؤ کے لئے اب گھروں میں پنکھے لگائے جانے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ بسوں اور ٹرینوں کو ایئر کنڈیشنڈ کیا جانے لگا ہے۔ شاپنگ سنٹرز میں بھی ایئرکنڈیشنرز ناگزیر ہو گئے ہیں۔

لندن چونکہ پارکوں، جھیلوں اور درختوں کے ذخیروں کا شہر ہے اس لئے 21جولائی کی ریکارڈ گرمی کے سبب پارکوں میں لوگوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ مرد اور عورتیں برائے نام لباس میں گرم موسم کی شدت کو کم کرنے کے لئے آئس کریم اور ٹھنڈے مشروبات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دکھائی دیے۔ سکولوں اور دفتروں میں حاضری کم رہی۔ حکومت کی طرف سے گرمی سے بچاؤ کے لئے خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔ دو دن کے لئے ملک بھر میں ڈاک کی ترسیل اور تقسیم معطل رہی۔ بزرگوں اور بچوں کو گرمی سے بچنے کے لئے خاص طور پر متنبہ کیا گیا۔

جب بھی موسم گرما آتا ہے تو برطانیہ اور یورپ میں آباد ہم تارکین وطن کو موسمی پھلوں خاص طور پر آم، جامن، شہتوت اور فالسے کے ذائقے یاد آنے لگتے ہیں۔ آم تو خیر اب لندن میں بھی دستیاب ہے لیکن دیگر مذکورہ بالا پھل کھائے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ حالانکہ برطانیہ میں سیب، بگو گوشے، آلوبخارے، چیری، خوبانی، سٹرابیری اور دیگر کئی پھلوں کی بہترین اقسام پیدا ہوتی ہیں اور دنیا بھر سے اور بہت سے پھل بھی امپورٹ کئے جاتے ہیں۔ انسان ہو یا پھلدار درخت یا پودے جب انہیں کسی ایک ایسی جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے جہاں کا موسم اور ماحول ان کے لئے سازگار نہ ہو تو وہاں ان کی نشونما رک جاتی ہے اور وہ پھل دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ رفتہ رفتہ نئے موسم کے عادی توضرور ہو جاتے ہیں لیکن ان کے اندر کا موسم یکسر بدل جاتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ 1993 میں لندن آنے سے پہلے جب میں بہاول پور میں جون جولائی کی گرمی سے بیزار ہوتا تھا تو اکثر یہ سوچتا تھا کہ دنیا کے ایسے خطے میں جا کر رہنا چاہئے جہاں ہر وقت موسم بہار ہو۔ چند سال پہلے مجھے سپین کے کنیر ی آئی لینڈز میں ٹینی ریف جانے کا موقع ملا۔ واقعی یہ جزیرہ خوابوں کی دنیا ہے جہاں ہر وقت موسم بہار ہوتا ہے۔ سارا سال درجہ حرارت 15سے 28ڈگری سنٹی گریڈ رہتا ہے۔ ایٹلانٹک اوشن کے شفاف نیلے پانیوں کے درمیان یہ شاندار جزیرہ دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جو ایک بار اس جزیرے کی ساحلی ہواؤں کی گنگناہٹ اور موسم بہار کا اسیر ہو جاتا ہے وہ بار بار اس جگہ آنے کا خواہشمند رہتا ہے۔ مجھے بھی تین بار اس جزیرے پر چھٹیاں گزارنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اس پرکشش جزیرے کا آتش فشانی پہاڑی سلسلہ، گھنے جنگلات اور تیز رفتار واٹر بوٹ پر دور تک نیلے سمندر میں گھومنا زندگی بھر کے لئے ناقابل فراموش ہو جاتا ہے۔

آپ سال کے کسی بھی مہینے میں اس جزیرے پر اتریں تو موسم بہار آپ کا منتظر ہوگا۔ اسی لئے ٹینی ریف یعنی کنیری آئی لینڈز کے موسم کو دنیا میں سب سے بہترین موسم قرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 30لاکھ سیاح اس جزیرے پر چھٹیاں گزارنے کے لئے آئے۔ برطانیہ کی سردی سے اکتائے ہوئے انگریزوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے کنیری آئی لینڈز کو اپنی مستقل رہائش گاہ بنا رکھا ہے اور وہ کبھی کبھار اچھے موسم میں گھومنے پھرنے کے لئے برطانیہ آتے ہیں۔ ظاہر ہے جو لوگ سال کے بارہ مہینے بہار کے موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوں انہیں جولائی میں لندن آ کر 40ڈگری سنٹی گریڈ میں جھلسنے کی کیا ضرورت ہے۔