ایک دن اقوام متحدہ میں
- تحریر ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
- بدھ 10 / اگست / 2022
نیو یارک کی سیر میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کو دیکھنا بھی شامل تھا۔ اقوام متحدہ کا صدر دفتر نیو یارک میں مین ہیٹن میں واقع ہے۔ دریائے ایسٹ کے کنارے اٹھارہ ایکڑ رقبہ پر مشتمل اقوام عالم کا مرکز ایک پرشکوہ عمارت کے ساتھ دور سے ہی متوجہ کرتا ہے۔
عمارت کے اطراف د نیا کے تمام خود مختار ممالک کے پرچم بڑی شان سے لہرا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ عمارت ہمارے ہوٹل سے زیادہ دور نہ تھی اس لئے ہمارا سہ رکنی وفد پیدل ہی روانہ ہوا۔ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے سامنے مختلف ممالک کے یو این کے لئے مشن موجود ہیں تاکہ انہیں وہاں جانے میں آسانی رہے۔ اقوام متحدہ اور امریکی حکومت کے مابین ایک معاہدہ ہے جس کے تحت دنیا کے تمام ممالک کے سفارتی نمائندے امریکی سرزمین استعمال کرسکتے ہیں،چاہے ان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات یا نہ ہوں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لئے اقوام متحدہ قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی اور اس کا پہلا اجلاس امریکہ کے شہر سان فرانسکو میں ہوا۔ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے لئے مختلف شہروں کی تجاویز آئیں لیکن قرعہ نیویارک کے نام نکلا۔1951 میں اس عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی اور تب سے یہ اقوام متحدہ کا صدر دفتر ہے۔
اس دفتر کے سامنے امریکی سرزمین پر اقوام متحدہ کے استقبالیہ پر جاکر ہم نے رجسٹریشن کروائی اور ہمیں داخلہ کے پاس جاری ہوئے۔ سیکورٹی مراحل کے بعد ہم اقوام متحدہ کی سرزمین میں داخل ہوگئے۔ ایک عجیب کیفیت ہو رہی تھی کہ جہاں دنیا کے عظیم راہنما آتے ہیں ہمیں بھی اسے دیکھنے اور انہی راہ داریوں سے گزرنے کا موقع مل رہا تھا۔ صدر دفتر کی عمارت کے اندر داخلی دروازے پر جنوبی افریقہ کے قائد نیلسن منڈیلا کا قد آور مجسمہ یوں کھڑا تھا جیسے وہ آنے والوں کا استقبال کررہا ہو۔ اس مرکزی جگہ میں دنیا بھر کے انسانوں کے زیراستعمال لباسوں کی نمائش کی گئی تھی۔ مرکزی ہال میں ہمیں دوبارہ استقبالیہ پر جانا پڑا اور جانچ پڑتال کے بعد ہمیں اقوام متحدہ کے ایک سفارت کار نے خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق سینیگال کے ساتھ ہے۔ انہوں نے ہمیں اقوام متحدہ کی تاریخ اور ضروری معلومات کی تفصیل دی۔ عمارت کے مختلف حصے دکھانے کے ساتھ وہ ان کے بارے میں بتاتے رہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اس وقت908 واں اجلاس جاری تھا اور امریکی مندوب خطاب کررہی تھیں۔ سلامتی کونسل کا یہ ہال ناروے کی حکومت نے بناکر دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ناروے، ڈنمارک اور خصوصاً سویڈن کا بہت حصہ اور کردار ہے جس کا ہمارے گائیڈ بار بار ذکر کررہے تھے۔ اقوام متحدہ کے پہلے سیکرٹری جنرل کا تعلق ناروے سے تھا جبکہ دوسرے سیکرٹری جنرل داگ ہیمرشلد کا تعلق سویڈن سے تھا۔ اقوام متحدہ کی لائبریری بھی ان کے نام پر ہے اور صدر دفتر کی عمارت میں ان کے اقوال بھی لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح فلسطین اور اسرائیل کے مابین مصالحت کے لئے اقوام متحدہ کے پہلے نمائندے فولکے بینادوتے کا تعلق بھی سویڈن سے تھا اور ان کا مجسمہ بھی مرکزی راہ داری کا حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ کونسل کا ہال سویڈن نے جبکہ سوشل اینڈ اکنامک کونسل ہا ل ڈنمارک نے عطیہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے ہال کو دیکھنا بہت اچھا لگا۔ یہ وہی تاریخی ہال ہے جس میں د نیا کے تمام عظیم راہنماؤں اور ممالک کے سربراہوں نے خطابات کئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ٹرسٹی کونسل کی تفصیل بتاتے ہوئے اقوام متحدہ کے سفارت کار نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے چھ بڑے اداروں میں سے ایک ہے جس کا مقصد نو آبادیوں اور محکوم ممالک کو آزادی دلانا ہے۔ یہ کونسل اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل75 اور76 کے تحت قائم ہوئی۔ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد گیارہ ممالک اس تولیت میں رہے اور پھر انہوں نے تاج آزادی پہنا۔ ان میں ناؤرو‘ گھانا‘ ٹوگولینڈ‘ مغربی سامووا‘ ٹینکا نیکا‘ راوانڈا‘ ارونڈی‘ برطانوی کیمرون‘ نیو گنی‘ فرانسیسی کیمرون‘ اطالوی صومال لینڈ اور بحرالکاہل کے کچھ جزائر شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے سفارت کار نے جب یہ تفصیلات بتائیں تو راقم نے سوال کیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر1948 سے حل طلب اور اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے تو کیا اس مسئلہ کو ٹرسٹی شپ کونسل کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر انہوں نے جواب میں کہا جب تک بھارت اور پاکستان دونوں متفق نہ ہوں تب تک ایسا نہیں ہوسکتا۔ راقم کے مزید سوالات کے جواب میں اقوام متحدہ کے سفارت کار نے کہا حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملک جموں کشمیر کی آزادی نہیں چاہتے۔ دونوں کو جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت اور آزادی کی بجائے اس میں دلچسپی ہے کہ یہ خطہ انہیں ملے۔ اقوام متحدہ کے سفارت کار نے بتایا کہ گزشتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے وہ عینی شاہد ہیں۔ یہ اجلاس کئی دن جاری رہا اور اس میں بھارت اور پاکستان دونوں کے نمائندے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں مصروف رہے اور ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیتے رہے۔ لیکن کسی نے بھی کشمیری عوام کے حق خودارادی کی بات نہ کی۔
مسئلہ کشمیر اب تک کیوں حل نہیں ہوسکا؟ اس کا جواب اقوام متحدہ کے سفارت کار نے دے دیا۔خیالات کے تلاطم کے ساتھ ہم اقوام متحدہ کے مرکزی دروازے کی جانب آئے تو دیوار پر سورہ حجرات کی13 ویں آیت بڑے بورڈ کی صورت آویزاں تھی جس میں عالمگیر انسانی وحدت کا پیغام ہے۔ یہ خطاطی پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ یوسف سدید مرحوم کی ہے۔ اقوام متحدہ میں اس کا اپنا ڈاکخانہ بھی ہے جہاں سے ہم نے اپنے نواسے کے لئے کارڈ پوسٹ کیا۔ اقوام متحدہ کی لائبریری کے باہر پاکستان کی امن کا نوبل انعام پانے والی ملالہ یوسف زئی کا قول:
One child, one teacher, one pen and book can change the world
دعوت فکر دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا ہمارا دورہ مکمل ہوا اور امریکہ کی سیر کی مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں قارئین پڑھ سکیں گے۔