اے آر وائی نیوز پر پابندی کیا آزادی رائے ہر حملہ ہے؟

  • بدھ 10 / اگست / 2022

اے آر وائی نیوز کی انتظامیہ نے اپنے چینل پر تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ادارہ 'فوج کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں۔'

گزشتہ روز چینل کی نشریات کے دوران متنازع گفتگو پر شہباز گل کو آج اسلام آباد میں گرفتار کیا گیا اور ان پر فوج کے ادارے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پاکستان میں میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے اس گفتگو کے بعد اے آر وائے کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے چینل کی نشریات بند کر دی تھیں۔

اے آر وائی کے اینکر کاشف عباسی نے اپنے شو کے آغاز میں چینل کی انتظامیہ اور سی ای او سلمان اقبال کا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 'اے آر وائے شہباز گل کے بیان کی مذمت کرتا ہے۔ اے آر وائے ادارے کے طور پر کبھی بھی عدلیہ یا فوج کسی ادارے کے خلاف مہم کا حصہ نہ بنا ہے اور نہ آئندہ بنے گا۔' انہوں نے بتایا کہ چینل پر ماضی میں یہ بھی الزام لگتا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ان کا کوئی گٹھ جوڑ ہے۔ 'اے آر وائی ہمیشہ سے فوج کی عزت کرتا ہے، پاکستان کے لیے ایک مضبوط فوج کا حامی ہے۔'

'ہم ایک پلیٹ فارم ہیں۔ ہم جب کسی کو لائن پر لیتے ہیں تو ہم کسی کا دماغ نہیں پڑھ سکتے کہ وہ ٹی وی پروگرام پر آ کر کیا کہے گا۔ شہباز گل نے (ٹرانسمیشن میں) آ کر اپنی رائے دی۔ ادارے کو یہ پتا نہیں تھا کہ وہ اس طرح کی گفتگو کریں گے کہ لوگ حکم نہ مانیں۔ یہ ہمارے لیے بھی سرپرائز تھا۔' اے آر وائی کی انتظامیہ نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وفاقی حکومت انہیں انتقام کا نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ 'پلیٹ فارم کے طور پر ہمارا اس سازش سے کوئی تعلق نہیں۔'

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھاری (پیمرا) نے سوموار کی شب مبینہ طور پر نفرت آمیز اور پاکستانی فوج کے اندر بغاوت کو اکسانے والے مواد کو نشر کرنے پر شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے مقامی چینل اے آر وائی نیوز کی نشریات معطل کر دی ہیں۔ پیمرا نے اے آر وائی چینل کو چھ صفحات پر مشتمل ایک طویل شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، جس میں تفصیلی طور پر نشریات کو معطل کیے جانے کی وجوہات لکھی گئی ہیں۔

پیمرا نے اے آر وائی نیوز کو تین دن میں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ چینل یہ بتائے کہ اس نفرت انگیز مواد پر کیوں نہ اس کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ سوموار کی شام جاری ہونے والے اس شوکاز کے مطابق اس قانونی کارروائی کے نتیجے میں اے آر وائی کو پیمرا قانون کی دفعہ 29، 30 کے تحت جرمانہ، معطلی اور لائسنس کی منسوخی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ترجمان پیمرا محمد طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اے آر وائی کی نشریات بغیر کسی دباؤ کے معطل کی گئی ہیں اور اس کی وجوہات شوکاز نوٹس میں درج ہیں۔ پیمرا ترجمان کے مطابق پیمرا نے قانونی طریقے سے اپنی ذمہ داری پوری کی اور جب ایک ایسا بیان نشر ہوا تو پھر اس پر کارروائی عمل میں لائی گئی اور شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔

پیمرا نے اپنے شوکاز نوٹس میں کہا ہے کہ ’اے آر وائی کی اینکر صدف عبدالجبار نے 27 جون کو نشر ہونے والی ایک خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا کہ حکومت کا ایک سٹریٹجک میڈیا سیل ہے کہ جس کا مقصد فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا کر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بدنام کرنا ہے۔‘ شوکاز نوٹس کے مطابق ’اس کے بعد پروگرام میں شہباز گل کو فون پر شامل کیا گیا، جنہوں نے نفرت انگیزی اور فتنہ انگیزی پر مبنی تبصرے کیے جو فوج کے اندر بغاوت پر اکسانے کے مترادف تھے۔‘

پیمرا کے شوکاز نوٹس کے مطابق شہباز گل نے نہ صرف وفاقی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ حکومتی اہلکاروں پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ فوج کے بیانیے کی ترویج کے ذریعے عمران خان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں۔‘ پیمرا کے مطابق شہباز گل کے اے آر وائی پر نشر ہونے والے بیان میں ملکی آئین کے آرٹیکل 19 اور پیمرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس شوکاز نوٹس کے ساتھ شہباز گل کے بیان کا متن بھی شیئر کیا گیا ہے۔

پیمرا نے اپنے شوکاز میں شہباز گل کے بیان کو انتہائی قابل اعتراض، نفرت انگیز، فتنہ انگیز، مکمل غلط معلومات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان واضح طور پر مسلح افواج کے اندر بغاوت کو ہوا دے کر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق کرنے کے مترادف ہے۔ پیمرا نے شہباز گل کے نشر ہونے والے اس بیان پر اپنے شوکاز نوٹس میں اے آر وائی کی انتظامیہ سے کہا کہ اس بیان کو نشر کرنے میں آپ کا مذموم ارادہ بھی شامل تھا، مذکورہ بالا نفرت انگیز، فتنہ انگیز اور بدنیتی پر مبنی مواد نشر کرنا آپ کے چینل کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے جو انتہائی تشویش کا باعث ہے۔

شوکاز نوٹس میں پیمرا نے اے آر وائی کے سی ای او کو خود یا اپنے کسی نمائندہ کو دس اگست دن دو بجے اسلام آباد میں واقع پیمرا کے دفتر آ کر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ پیمرا نے عدم پیشی کی صورت میں چینل کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھانے کا بھی کہا ہے۔

اسلام آباد میں اے آر وائی کے بیورو چیف خاور گھمن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پیمرا کے اس غیر قانونی اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ ان کے مطابق اے آر وائی نے اپنی پروفیشنل ذمہ داری پوری کی ہے اور حقائق پر مبنی یہ خبر بریک کی۔ ان کے خیال میں شہباز گل نے اپنے بیان میں کوئی ایسی بات نہیں کی جو فوج مخالف ہو۔ واضح رہے کہ خاور گھمن اس پروگرام میں بطور تجزیہ کار بھی موجود تھے، جس میں شہباز گل نے یہ بیان دیا تھا۔

خاور گھمن کے مطابق وہ یہ سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا چینل ہی اس وقت ایسا میڈیا ہاؤس ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کو بھرپور جگہ دیتا ہے تو انہیں اس کوریج کی سزا دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی ایک شخص نے کوئی متنازع بیان دیا بھی ہے تو پھر آپ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کر سکتے ہیں جیسے سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقاریر کے معاملے پر کیا گیا تھا اور پھر میڈیا پر یہ پابندی عائد کر دی گئی تھی ان کی تقاریر نشر نہیں کرنی۔

اس وقت سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ کیا پیمرا اے آر وائی کے خلاف اپنے مقدمے کا دفاع کر سکے گا؟

پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ پیمرا کے اکثر احکامات کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناعی یعنی سٹے آرڈر مل جاتا ہے۔ ان کے مطابق صرف ان مقدمات میں سٹے آرڈر کے کم امکانات ہوتے ہیں جہاں پیمرا نے خوب حقائق کی جانچ پڑتل کے بعد کارروائی عمل میں لائی ہو یا پھر کوئی مضبوط ادارہ پیمرا کے ساتھ کھڑا ہو۔

ابصار عالم کے مطابق بعض دفعہ پیمرا سے کہا جاتا ہے کہ یہ کارروائی عمل میں لائیں تو ایسے میں پیمرا پر انحصار ہوتا ہے کہ وہ پہلے خوب چھان بین کرے یا پھر فوری کسی کی خواہش پر کارروائی عمل میں لائے گا۔

ان کے تجربے کے مطابق پیمرا کے حقائق پر مبنی احکامات کے خلاف بھی عدالتوں سے سٹے ملے ہیں۔

ابصار عالم کے مطابق بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ پیمرا نے آزادانہ کوئی کارروائی عمل میں لائی ہو اور پھر عدالتوں سے ایسی کارروائی پر سٹے نہ ملے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے بتایا کہ چینل کسی بھی قابل اعتراض یا نفرت انگیزی پر مبنی بیان کو روکنے کے لیے اپنی لائیو ٹرانسمیشن کو بھی قدرے تاخیر سے چلاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس عرصے میں چینل انتظامیہ کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات کو روک سکیں۔ اس وجہ سے پیمرا بعض دفعہ کسی ایک مہمان کے تبصرے پر بھی چینل کے خلاف کارروائی عمل میں لاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر سب سے پہلے تو خود شہباز گل نے ہی اپنے بیان پر ردعمل دیا ہے اور اپنی کہی ہوئی بات کی تشریح پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیان یہ تھا کہ بیوروکریسی غیرقانونی احکامات نہ مانیں وہ قانون پر چلیں۔

اس بارے میں مزید بات کرنے کے لیے بی بی سی نے شہباز گل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے پیمرا کی طرف سے اپنے ہی قواعد اور ضابطے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اے آر وائی کی نشریات معطل کرنے کی مذمت کی ہے۔ صحافی مطیع اللہ جان نے لکھا کہ شہباز گل کے الفاظ کا تسلسل اور بیان کا بہاؤ اور پھر فون پر یہ سب کہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ گل صاحب کچھ اور لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر تحریر شدہ نکات پڑھ رہے تھے۔ صحافی حبیب اکرم نے لکھا کہ ٹی وی چینل بند کرنے سے آواز بند نہیں ہوتی۔

(رپورٹ: اعظم خان ۔ ببی سی اردو اسلام آباد)