تحریک انصاف کو فوج سے لڑانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے: عمران خان

  • بدھ 10 / اگست / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج سے لڑا دیا جائے۔ ہمیں ایسا پیش کیا جائے گا کہ ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں، یہ منصوبہ بندی سے کرایا جارہا ہے۔

 میڈیا سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ بیرونی سازش کے تحت ہماری حکومت کو ہٹایا تھا۔ ان کے ساتھ جو لوگ ہیں جن کو میں میر جعفر او میر صادق کہتا ہوں۔ انہوں نے ملک کر ہماری حکومت کو گرایا، ہماری حکومت جانے سے بھارت اور اسرائیل میں خوشیاں منائی گئیں۔ اس خوفناک سازش میں منصوبہ بنا ہوا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج سے لڑا دیا جائے۔ ہمیں ایسا پیش کیا جائے گا کہ ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ یہ منصوبہ بندی سے کرایا جارہا ہے۔ ہماری حکومت جب چل رہی تھی تو سب سے پہلے بھارت سے تنقید آتی تھی کہ عمران خان کو پاکستانی فوج لے کر آئی ہے اور یہ ان کا پتلا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ مسلسل ان کو تکلیف تھی کہ حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہے۔ ہمارے جنونی نواجونوں نے یورپین یونین کی ڈس انفارمیشن لیب کو بے نقاب کیا، اس میں تقریباً 800 فیک سائٹس تھیں۔ یہ ویب سائٹس مسلسل پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی تھیں، جس میں پاکستان کے کئی صحافی بھی شامل تھے اور وہ لوگ بھی شامل تھے جو آج اب موجودہ حکومت کے ساتھ نظر آتے تھے، یہ لوگ مجھ پر اور پاکستان فوج پر اٹیک کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب ممبئی میں حملے ہوئے تھے تو آصف زرداری نے بیان دیا تھا کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو ممبئی بھیجا جائے۔ یہی آصف زرداری حسین حقانی کے ذریعے امریکیوں کو میسیج بھیجتا ہے کہ آصف زاردی کو پاکستان کی فوج سے بچائیں۔ دوسری طرف نواز شریف نے ممبئی حملوں کے بعد انٹرویو میں بتایا کہ وہ لڑکا پاکستان سے تھا جس نے حملہ کیا۔ پہلے ہی پاکستان کے خلاف بہت بڑی مہم چلی ہوئی تھی جس میں آئی ایس آئی اور پاک فوج کو ٹارگٹ کیا جارہا تھا۔

ڈان لیکس ہوئی تھی جس میں کہا گیا کہ نواز شریف اور اس حکومت کہتی ہے کہ بھارت کے خلاف جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں پاکستان کی آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج ملوث ہے۔ نریندر مودی بار بار پاکستان کے سابق سپہ سالار جنرل راحیل شریف کو دہشت گردوں کا سردار کہتے تھے۔ نواز شریف اسی نریندر مودی کو شادی پر بلارہا تھا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ آج یہ بتایا جارہا ہے کہ ہم لوگ فوج کے خلاف ہیں جبکہ یہ لوگ محب وطن پاکستانی بن گئے ہیں جو آ کر ہمیں غدار کہہ رہے ہیں۔ یہ سازش اتنی خطرناک ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اپنی فوج کے سامنے کھڑا کر دیں اور ان کے اندر اختلافات پیدا کر دیں، اس سے زیادہ ملک کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اب یہ لوگ کوشش کرر ہے ہیں کہ کسی طرح ہماری اور فوج کی لڑائی شروع ہو جائے۔ دوسری چیز ان لوگوں نے پورا پلان بنایا ہوا ہے کہ ہماری جماعت کو توڑا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیا۔ اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، یہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ جب بیرون ملک پاکستانی پیسہ بھیجتے ہیں تویہ فارن فنڈنگ ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی جماعت نے باقاعدہ فنڈ ریزنگ کی ہے، ایسی جماعتیں جن کے سربراہوں کو لوگ کرپٹ سمجھتے ہیں وہ کبھی فنڈ ریزنگ نہیں کرسکتے۔

ہماری جماعت نے 2012 میں 40 ہزار ڈونرز کے نام دیے ہوئے ہیں، ان میں سے کئی پاکستانیوں کو غیر ملکی بنا دیا۔ وہ پارٹی جس نے فنڈ ریزنگ کی اور جس کی ساری آڈٹ رپورٹس ہیں، جس کی ایک ایک چیز الیکشن کمیشن کو دی ہے اس پارٹی پر سارا نزلہ گر رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمام سیاسی جماعتوں کی فنڈ ریزنگ کا آڈٹ ایک ساتھ کریں کیونکہ مجھے پتا ہے ہم نے کیسے پیسہ جمع کیا ہے۔ ہمارے پاس ان کی کتابیں تیار ہیں جبکہ ان دو جماعتوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کے پاس کوئی آڈٹ رپورٹ بھی نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن عدالتی حکم کے باوجود تحریک انصاف کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ اس میں ایسی جھوٹی چیزیں لکھی ہیں کہ جس دن اس پر عدالت میں صحیح معنوں میں تفتیش ہوگی میں چیلنج کرتا ہوں کہ یہ ثابت ہوگا کہ ایک جماعت نے اس ملک صحیح معنوں میں پیسے اکھٹے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہماری جماعت پر پابندی لگانے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ وہی سازش کا حصہ ہے کیونکہ یہ انتخابات میں اب ہرا نہیں سکتے۔ انہوں نے عارف نقوی کا نام لے لیا، پاکستان کا رائزنگ اسٹار تھا۔ وہ تیزی سے اوپر جا رہا تھا، ہم نے کے الیکٹرک کی نجکاری نہیں کی۔ ان دونوں جماعتوں کی حکومت میں نجکاری کرکے اسے کے الیکٹرک دی گئی تھی۔ اس پر 2018 میں الزامات عائد ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک توشہ خان کا کیس ہے، جو اس ملک کے صدر اور وزیر اعظم بنے ہیں، اسی طرح آرمی چیف اور جو لوگ اس ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر رہے ہیں سب کو تحفے ملتے ہیں۔ سب کو ملنے والے تحفوں کے حوالے سے تفتیش کریں کہ کیا انہوں نے جو بھی کام کیا ہے قانون کے دائرے میں کیا ہے یا کوئی چیز غیر قانونی کی ہے۔ مجھے پتا ہے کہ میں نے اس حوالے سے تمام چیزیں قانون کے دائرے میں رہ کر کی ہیں۔ آصف زرداری نے توشہ خانہ سے تین گاڑیاں لی ہیں جو آپ نہیں لے سکتے۔ مجھے بھی ایک گاڑی ملی تھی لیکن توشہ خانہ سے گاڑی نہیں لے سکتے۔ اسی طرح نوازشریف نے توشہ خانہ سے ایک گاڑی لی ہے یہ غیر قانونی ہے۔ مجھے یہ لوگ ان دو چیزوں میں نااہل کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔