یوم اقلیت یا پاکستانی قومیت ؟

11 اگست پاکستان میں ’’یوم اقلیت‘‘ یا  متحدہ قومیت  کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ غالباً گیلانی حکومت میں اس نوع کا فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستانی اقلیتوں کیلئے بھی ایک دن ہونا چاہئے۔ سو جناح صاحب کی اقلیتوں کیلئے معروف تقریر جو انہوں نے پہلی دستور ساز اسمبلی کے اولین اجلاس میں کی تھی اس کی مناسبت سے یہ طے کیا گیا کہ آئندہ سے یہ دن پاکستان میں ’’مینارٹیز ڈے‘‘ کی حیثیت سے منایا جائے گا۔

 البتہ مینارٹیز کو اس حوالے سے کچھ تحفظات تھے۔ جن میں بنیادی بات یہ تھی کہ بجائے میجارٹی یا مینارٹی کے چکر میں ڈالنے کے ہمیں برابر کے مساوی حقوق عطا کرتے ہوئے قومی دھارے میں اس طرح شامل کیا جائے جس سے ہم دوسرے درجے کے شہری خیال کئے جانے کی بجائے متحدہ پاکستانی قومیت کا حصہ گردانے جائیں۔ ہمارا مذہب یا عقیدہ جو بھی ہے وہ ہمارا ذاتی و نجی معاملہ ہے۔ شہریت کے جو بھی حقوق و فرائض ہیں آئین پاکستان کی روشنی میں ہم بلا تمیز برابر کے پاکستانی شہری ہیں اور ہمیں یہی سمجھا جائے ۔

پہلی دستور ساز اسمبلی میں بانی پاکستان کی یادگار تاریخی تقریر بھی تو یہی تھی کہ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا عقیدے سے ہے وہ آپ کا ذاتی و نجی معاملہ ہے مملکت کے شہری کی حیثیت سے ریاست کو کسی کے عقیدے سے کو ئی سروکار نہیں ہو گا۔ آپ سب آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کیلئے یا اپنے مندروں میں جانے کیلئے یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کیلئے۔ ریاست کیلئے ہر مذہب کے لوگ برابر کے شہری ہوں گے ۔ پاکستان میں جناح صاحب کی اس نایاب تقریر پر جتنی بحثیں اور توجیہات ہو چکی ہیں وہ بے شمار ہیں۔ دانشوران قوم اس تقریر کے حوالے سے دوخانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ پون صدی گزر گئی وہ اس حوالے سے یکسو نہیں ہوسکے اور آئندہ بھی نہ ہو پائیں گے ۔

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اس تقریر کو جناح صاحب کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا یوٹرن قرار دیتے ہوئے استدلال کرتے ہیں کہ دو قومی نظریہ جس کی بنیاد پر انہوں نے اپنے ملک ہندوستان کے دو ٹکڑے کروائے تھے 7اگست کو دہلی سے پرواز کرتے ہی وہ اسے وہیں چھوڑ آئے تھے۔ یہاں کراچی آکر انہوں نے کسی عوامی یا سیاسی جلسے میں نہیں آئین ساز اسمبلی کے اولین اجلاس میں جب اپنا کلیدی صدارتی خطاب کیا تو واشگاف الفاظ میں منتخب آئین سازوں پر واضح کر دیا کہ اب یہاں کسی کا کوئی بھی مذہب یا عقیدہ ہوگا وہ اس کا ذاتی و نجی معاملہ گردانا جائے گا۔

بانی پاکستان کی حیثیت سے جب وہ اسمبلی کے فلور پر یہ اعلان کر رہے تھے کہ ’’ریاست پاکستان کو کسی بھی فرد یا شہری کے مذہب یا عقیدے سے کوئی سروکار نہیں ہو گا‘‘ تو اس سے دو ریاستی اصول واضح ہو گئے تھے۔ اول یہ کہ اب یہاں دو قومی نظریہ نہیں چلے گا بلکہ بلاتمیز عقیدہ ایک ہی پاکستانی قومیت ہو گی۔ دوسرے مذہب یا عقیدے کا کاروبار مملکت و ریاست سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔ اس کے بعد یہاں کہاں کوئی ابہام رہ جاتا ہے کہ پاکستان ایک مذہبی ریاست ہو گی یا سیکولر سٹیٹ۔ ہمارے لبرل سیکولر دانشوران تو اس تقریر کا یہی مفہوم پچھلے پچھتر سالوں سے نکالتے اور اسی پر اصرار کرتے پائے جا رہے ہیں اور وہ دکھی رہتے ہیں کہ جناح صاحب کے بعد آنے والوں نے اس واضح سنگ میل سے پوری ڈھٹائی کے ساتھ روگردانی کی۔ جبکہ ہمارے وہ دانشور و علما جو پاکستان کو ایک ’’اسلامی مملکت ‘‘ یا ’’ریاست مدینہ ‘‘ بنانے کا داعیہ رکھتے ہیں ان کا استدلال و اصرار اس پوائنٹ پر ہے کہ بانی پاکستان کی محض ایک تقریر کو سامنے رکھ کر اتنا بڑا ریاستی فیصلہ کیونکر کیا جا سکتا ہے۔ ان کی سینکڑوں دیگر تقایر کو کیسے اور کیونکر ہوا میں اڑا یا جا سکتا ہے جو انہوں نے اپنی طویل تحریک پاکستان کے دوران قریہ قریہ اور شہر بہ شہر کیں اور اس مبینہ تقریر کے بعد بھی انہوں نے مختلف مواقع پر جو کچھ کہا اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔

اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ جناح صاحب نے اپنی ان گنت تقاریر میں اسلام اور اس کے اصولوں کو ریاست کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ یہ ایک سیکولر نہیں اسلامی ریاست ہو گی۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ قرآن کو ریاست پاکستان کا دستور قرار دیا بلکہ نئی مملکت کو اسلام کی ایک ایسی تجربہ گاہ قرار دیا جس میں اسلامی تعلیمات کو بالفعل آزمایا جائے گا۔ ان دانشوران کا اصرار ہے کہ جناح صاحب میں منافقت نہیں تھی کہ عوامی جلسوں میں کچھ کہیں اور اسمبلی اجلاس میں اس کے الٹ ۔ انہی علما کے اثرورسوخ یا دباؤ پر جناح صاحب کے بعد ان کے جانشین لیاقت علی نے اسمبلی سے قرارداد مقاصد منظور کرواتے ہوئے مملکت کے آئین کی بنیاد علما کے پیش کردہ بائیس نکات پر رکھوائی جبکہ اس درویش جیسے سیکولر دانشوران آج کے دن تک یہ رونا روتے چلے آ رہے ہیں کہ ریاست پاکستان کے آئین کی بنیاد دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں بانی پاکستان کے واضح اعلان یا عہدے نامے پر استوار ہونی چاہئے۔ اب جیسا تیسا دستور بن چکا ہے کم از کم اس پر تو عمل ہونا چاہئے جبکہ قوم یا اس کے منتخب نمائندوں کو آئینی اصلاحات سے تو کسی نے نہیں روک رکھا ہے ۔

اب اس ایشو پر تو آئینی طور پر ایکا ہو چکا ہے کہ یہاں دو نہیں ایک ہی قوم بستی ہے اور وہ پاکستانی قوم ہے۔ مذہب یا عقیدہ شہریوں کا ذاتی معاملہ ہے لہٰذا دو قومی نظریہ اٹھانا، منوانا یا پڑھانا خلاف آئین قرار پاتے ہوئے تعلیمی نصاب سے بھی اس کا تدارک ہونا چاہئے۔ اور حلف ناموں سے بھی امتیازی الفاظ یا فقروں کی بو نہیں آنی چاہئے۔ بلکہ امتیازی آئینی شقوں کا بھی خاتمہ ہونا چاہئے ۔ قیام پاکستان کے وقت یہاں اقلیتی آبادی بائیس تا پچیس فیصد تک تھی جو کم ہوتے ہوئے ہمارے ’’حسن سلوک‘‘ کی برکت سے تین فیصد بھی نہیں رہی جبکہ ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان میں تب مسلم آبادی اگر ڈھائی یا تین کروڑ رہ گئی تھی تو آج چوبیس پچیس کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔

ہماری اقلیتوں کے دکھوں کی داستان بڑی المناک اور دردناک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں ایک نوع کا نمائشی سا یوم اقلیت منانے کی بجائے اپنے ان مظلوم و مجبور و محروم بھائیوں کو سینے سے لگاتے ہوئے پاکستانی ہونے کا اعتماد دیں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔