سوات میں ٹی ٹی پی کے ارکان واپس آرہے ہیں

  • جمعرات 11 / اگست / 2022

سوات میں مبینہ طور ہر طالبان کی واپسی کی خبروں سے وہاں کی عوام میں ایک خوف پھیل گیا ہے جبکہ دوسری جانب سوات کے علاقے مٹہ میں اپنے آپ کو طالبان کہلوانے والے مسلح افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہمیں کہا گیا ہے کہ اب آپ اپنے  علاقوں میں جا سکتے ہیں۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل صوبائی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے، اب تک کے مذاکرات میں صرف جنگ بندی سے متعلق بات کی گئی ہے اور اس پر کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں جانب سے عملدرآمد ہو۔ یہ معلوامات نہیں ہیں کہ سوات اور دیر کے سرحدی علاقے میں مسلح افراد کون ہیں، ان کی تعداد کتنی ہے۔ کیا یہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے مسلح لوگ ہیں یا ان کے بھیس میں کوئی دیگر جرائم پیشہ لوگ یا کسی اور مسلح تنظیم کے کارندے ہیں۔

اگر یہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے افراد ہیں تو کیا انہیں اجازت دی گئی ہے اور یہ کس حیثیت میں یہاں رہیں گے، کیا یہ ہتھیار ڈال کر، عام شہریوں کی طرح پر امن رہیں گے یا یہ لوگ یہاں پھر سے منظم ہو کر پہلے کی طرح کی کارروائیاں شروع کر دیں گے۔

صورتحال جو بھی ہو علاقے میں خوف و ہراس کی فضا ہے، عام آدمی پریشان ہے۔ فوجی آپریشنز کے نتیجے میں جو امن قائم ہوا تھا اور علاقے میں سیاحت اور دیگر صنعتوں نے جو ترقی کی تھی اب ان کے مستقبل کے حوالے سے سوالات ہیں۔

لوئر دیر سے ایک مقامی تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقے میں کچھ اہم مقامات پر ان مسلح افراد کو دیکھا گیا ہے لیکن اب تک بظاہر ان کی کوئی ایسی کارروائی کی اطلاع نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ لوگ ماضی کی طرح پھر سے اپنی سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں جہاں جنگ بندی اور فاٹا انضمام پر بات چیت جاری تھی وہاں ایک موضوع ان طالبان کے اپنے علاقوں میں واپسی کا بھی تھا۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ واپسی غیر مسلح ہو گی اور ان تمام افراد کو آئین اور قانون کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کا مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات اور جنگ بندی کے بعد طالبان کا کہنا تھا کہ انہیں ہدایات ملی ہیں کہ اپنے علاقوں کو جا سکتے ہیں اور افغانستان سے اپنے ان علاقوں میں آنے کے دوران بعض مقامات پر ان کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔