مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کا فوجی کیمپ پر حملہ، تین اہلکار ہلاک

  • جمعرات 11 / اگست / 2022

مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں ایک فوجی کیمپ پر عسکریت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ جوابی کارروائی میں دو حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جا رہاہے۔

بھارتی فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ عسکریت پسندوں نے جمعرات کی علی الصباح ضلع راجوری کے علاقے پرگال میں فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا۔ بھارتی فوج کے ترجمان کرنل دیویندر آنند نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دو مبینہ دہشت گردوں نے رات کی تاریکی میں ضلعی صدر مقام راجوری سے 25 کلو میٹر دور پرگال کے مقام پر ایک فوجی کیمپ میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی۔ لیکن جوں ہی وہ کیمپ کے ارد گرد بچھائی گئی خار دار تار کو عبور کرنے لگے تو سیکیورٹی اہلکاروں نے اُن پر فائر کھول دیا۔

کرنل دیویندر کے بقولدو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں بھارتی فوج کے تین اہلکار ہلاک جب کہ ایک افسر سمیت پانچ زخمی ہو گئے۔ ترجمان نے بتایا کہ جوابی فائرنگ میں دونوں حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس مکیش سنگھ نے بتایا کہ فوجی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان اس وقت فائرنگ کا تبادلہ ہوا جب عسکریت پسندوں نے فوجی کیمپ پر حملے کی کوشش کی۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی کیمپ پر حملے کے پیچھے عسکریت پسند تنظیم 'لشکر طیبہ' کا ہاتھ ہے۔

راجوری میں بھارتی فوج کے کیمپ پر ایسے موقع پر حملہ ہوا ہے جب بھارت میں آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں تقریبات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ چار برس کے دوران جموں میں فوجی کیمپ پر ہونے والا یہ پہلا حملہ ہے۔ آخری مرتبہ فروری 2018 میں عسکریت پسندوں نے سنجوا کیمپ پر حملہ کیا تھا جس میں چھ فوجی ہلاک اور 14 زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل 2016 میں اوڑی سیکٹر پر ہونے والے حملے میں 18 اہلکار مارے گئے تھے۔

ضلع راجوری اور جموں ریجن کے دیگر علاقوں کو عسکریت پسندوں سے پاک قرار دیا گیا تھا تاہم گزشتہ چھ ماہ کے دوران جموں میں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ بھارتی کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندو ں کی طرف سے اگرچہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں سیکیورٹی فورسز مسلسل نشانےپر رہتی ہیں، تاہم ریاست کے نسبتاً پُرامن جموں خطے میں یہ گزشتہ چار سال کے دوراں کسی فوجی کیمپ پر کیا گیا پہلا بڑاحملہ ہے۔