آئی ایم ایف مذاکرات سے قبل حکومت کا 15 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے پر غور

  • جمعہ 12 / اگست / 2022

حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے معاہدے کے تحت آئندہ چند دنوں میں 15 ارب روپے کے نئے ٹیکسیشن اقدامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نئے اقدامات 24 اگست کو ہونے والے آئی ایم ایف بورڈ سے مذاکرات سے پہلے کیے جانے کی توقع ہے جس میں توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے حصے کے طور پر پاکستان کے لیے 1.17 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دی جائے گی۔

سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ٹیکس حکام نے آئی ایم ایف کو دکانداروں کے مقررہ ٹیکس سے 42 ارب روپے جمع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خوردہ فروشوں پر عائد ٹیکس واپس لیے جانے کے بعد اب یہ ٹیکس دوسرے ٹیکس دہندگان سے وصول کیا جائے گا تاکہ اس نقصان کو پورا کیا جاسکے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا ہے کہ تاجروں پر اب تقریباً 27 ارب روپے ٹیکس لاگو ہوگا جیسا کہ بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے۔ ٹیکس حکام ٹیکس کی شرح میں اضافے یا نقصان کو پورا کرنے کے لیے نئے ٹیکس لگانے کے لیے کئی تجاویز پیش کررہے ہیں۔

حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ عملے کی سطح کے معاہدے سے قبل کسی بھی محصول پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان گزشتہ ماہ اسٹاف کی سطح کا معاہدہ طے ہوچکا ہے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ جن شعبوں پر مزید ٹیکس عائد کیا جائے گا ان میں تمباکو اور سگریٹ شامل ہے۔ ہم نے سگریٹ پر ٹیکس کی شرح میں مزید اضافے کی تجویز پیش کی ہے، یہ ٹیکس وصول کرنے کے ممکنہ شعبوں میں سے ایک ہے۔

ایف بی آر کے ٹیکس عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ کھاد کے شعبے میں ٹیکس میں ردوبدل کی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اب تک کھاد کےشعبے میں ٹیکس کا ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا، حکومت نے بجٹ میں زرعی شعبے کو فائدہ پہنچانے کے لیے کھاد پر ٹیکس میں چھوٹ دی ہے۔