القاعدہ کے امیر ایمن الظواہری کی ہلاکت

بات شروع ہوئی تھی کہ کوئی بھی انسان ماں کے پیٹ سے دہشت گرد، ڈکیت یا قاتل پیدا نہیں ہوتا یہ ماحول، حالات، ابتدائی تعلیم و تربیت، ماں باپ یا مولوی صاحب کا اثرو رسوخ یا ذہن سازی کا پروپیگنڈہ ہے جو اچھے بھلے سمجھدار اور ذہین و فطین انسانوں کو بھی دہشت کی اس دلدل میں پھینک سکتے ہیں ۔

 19جون 1951کو قاہرہ میں جنم لینے و الے نامی گرامی دہشت گرد اور قاتل ایمن الظواہری کی کہانی بھی کچھ اسی نوعیت کی ہے جس کی فیملی ڈاکٹرز کی ایک معزز فیملی گردانی جاتی تھی۔ جس کے والد محترم نامور سرجن اور پروفیسر تھے جس کے دادا ربیعہ الظواہری جامعہ الازہر کے گرینڈ امام تھے، جس کے انکل عرب لیگ کے پہلے سیکرٹری جنرل منتخب کئے گئے تھے اور پھر وہ خود بھی ایک پڑھنے لکھنے والا باصلاحیت نوجوان تھا جس نے 1974میں اپنی تعلیم مکمل کرتے ہوئے آنکھوں کی سرجری میں گریجوایشن کی۔ مابعد آرمی سرجن کی حیثیت سے باوقار سروس جائن کی۔ وہ اور اس کی فیملی قاہرہ کے مضاف میں اپنا ہسپتال یا کلینک بنانے کی تیاری کر رہے تھے مگر پھر ہوا کیا ؟

مودودی صاحب کہا کرتے تھے کہ جو نوجوان میری طرف رغبت کے ساتھ لپک کر آتے ہیں درحقیقت یہ ان کی ماؤں کے دودھ کا اثر ہے جو ان کے اندر دین سے محبت کی تڑپ پیدا کر دیتا ہے۔ دررویش پیشگی معافی کے ساتھ یہاں اوائل عمری کی ہڈبیتی بیان کرنا چاہتا ہے جب دین اسلام سے اس کی رغبت و محبت تفسیر و حدیث کے مطالعہ سے آگے بڑھتی ہوئی اسے کشاں کشاں مودودیت کی طرف لے گئی۔ بلکہ اس کے حوض فکری و نظری میں ڈبو گئی۔ مولانا مودودی اور سید قطب کی شاید ہی کوئی کتاب ہو جس کی اس نے والہانہ عقیدت کے ساتھ عرق ریزی نہ کی ہو، اس کی تفصیل بڑی درد ناک ہے اگر وہ انہی لائنوں پر آگے بڑھتا رہتا تو یقیناً بن لادن یا ڈاکٹر ایمن الظواہری کے کہیں آس پاس ہی کھڑے پایا جاتا۔ لیکن بھلا ہوسٹڈی میں ورائٹی کا، انڈین موویز کا، قدیم یونانی اور جدید مغربی دانش بالخصوص رسل کے لٹریچر کا، سرسید اور ڈاکٹر طہ حسین کی ماڈریٹ روشن فکر اور معرکتہ الارا کتب و تحقیقات کا اور اپنے چند اساتذہ کا جنہوں نے اس غریب معصوم کو اس دلدل میں گرنےسے بچا لیا۔ جبکہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسے تگڑے اس میں ڈوب گئے ۔

نوجوان مصری سرجن ایمن الظواہری کے قلب و نظر میں اپنے دین و ایمان سے جو پیدائشی محبت تھی جسے ابھی ماں کے دودھ سے تعبیر کیا گیا ہے، یہ دراصل ان معصوم ماؤں کی جیسی تیسی لوریوں میں عقائد کا اثر ہے جو کانوں میں اذانوں سے لے کر بڑی اپنائیت کے ساتھ پیہم انڈیلا جاتا ہے اور بچہ ہوش سنبھالتے ہی اسے یونیورسل ٹروتھ کی حیثیت سے اختیار کرلیتا ہے اگلی لائنیں کدھر کیلئے اور کیسے نکلتی ہیں یہ الگ بحث ہے ۔ اس پس منظر میں نوجوان ایمن نے اپنے پروفیشن کے ساتھ ساتھ سید قطب کی تحریکی و انقلابی اسلامی کتب کا بھرپور مطالعہ جاری رکھا یہاں تک کہ حسن البناء کی اخوان المسلمون کو بچپن میں ہی باقاعدہ جائن کرلیا۔ اس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ محض پندرہ برس کی عمر میں گرفتار ہو کر جیل یاترا بھی کر آیا اور پھر اس نظریہ و اپروچ میں مزید آگے بڑھتا چلا گیا۔

اخوان کے زیر اثر 1973میں الجہاد الاسلامی مصری تنظیم قائم ہو چکی تھی جس کا مدعانہ صرف یہ کہ اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کرنا تھا بلکہ عظیم مصری صدر انور السادات کی حکومت کا تختہ الٹنا بھی تھا۔ ڈاکٹرظواہری کا اس تنظیم سے بھی تعلق قائم ہو چکا تھا جس کا مابعد 1993 میں احیا ہوا تو ایمن الظواہری نے اس کی قیادت سنبھالی ۔ جہاد اسلامی افغانستان میں عرب شمولیت سب پر واضح ہے نوجوان سرجن نے 1980کے اوائل میں نہ صرف یہ کہ پشاور یاترا کی بلکہ یہاں افغان مہاجرین کیلئے قائم کیمپوں میں ان کے علاج معالجے میں دلچسپی لی مگر جلد واپس لوٹ گیا۔ کیونکہ تب اس کی بنیادی دلچسپی مصری حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں بڑھ چکی تھی اور سچ تو یہ ہے کہ مصر میں سرکاری ملٹری سرجن کی حیثیت سے خالد اسلمبولی سمیت اس کے قریبی تعلقات اس پورے گروہ کےساتھ تھے جنہوں نے اکتوبر 1981میں عظیم مصری صدر انور سادات کو فوجی پریڈ کے دوران سلامی کے چبوترے پر گولیاں ماریں اور شہید کر دیا۔ اس کے بعد ایمن الظواہری اپنے ساتھیوں سمیت پکڑا گیا۔ قتل کے پورے شواہد نہ ملنے کے باوجود ناجائز اسلحہ وغیرہ کی وجہ سے 1984تک تین سال جیل میں رہا۔ رہائی کے بعد اسی سال جدہ کے راستے پشاور آگیا۔ یوں افغانستان کے اندر آمدورفت شروع ہو گئی، بن لادن کے معالج کی حیثیت سے اس کے اتنا قریب ہوا کہ اس کا ڈپٹی خیال کیا جانے لگا۔ 1988میں اس کے ساتھ مل کر القاعدہ کی بنیاد رکھی یوں یہ ایک جاں دو قالب بن گئے۔ اس طرح سوویت یونین کا انہدام ہوا تو یہود کے خلاف ان کی منافرت امریکہ دشمنی میں ڈھلتی چلی گئی ۔ تب اس نوع کے فتاویٰ جاری ہونےلگے کہ امریکہ ہی نہیں جو اس کے معاون یا اتحادی ہیں انہیں مارنا بھی جہاد ہے۔

امریکی عام شہریوں کا قتل بھی اس لئے جائز ہے کہ ان کے ٹیکسز سے امریکی حکومت چلتی ہے جو اسرائیل کی مدد کرتی ہے۔ یا عالمی کارروائیاں کرتی ہے۔ اسی سوچ کے زیر اثر سعودی عرب کے اندر موجود امریکن فورسز کو خود کش حملوں کے ذریعے ٹارگٹ کیا جانے لگا۔ الخبر سے لےکریمن کی سرحد تک سعودی کنگڈم خود کو غیر محفوظ خیال کرنے لگی۔ پاکستان کے اندر بھی مصری سفارتخانے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک موقع پر مصری صدر حسنی مبارک پر بھی جان لیوا حملہ کیاگیا۔ ایمن الظواہری اپنی جہادی سرگرمیوں میں ایک مرتبہ چیچنیا میں بھی پکڑا گیا مگر پہچانے نہ جانے پر 6ماہ بعد ہی رہا ہو کر افغانستان آگیا ۔ امریکی دباؤ پر جب القاعدہ قیادت کو ایک مرتبہ افغانستان سے نکلنا پڑا تو انہوں نے اپنا پڑاؤ سوڈان میں کر لیا۔ مصری ہمسائیگی کی وجہ سے ادھر ٹارگٹ کرنا یہاں سے آسان تھا جو الظواہری کا اصل مدعا رہا اور پھر 7اگست 1998کو تو ان لوگوں نے آخیر ہی کر دی ۔ دارالسلام تنزانیہ اور کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں موجود امریکی سفارت خانوں پر ایسے ہولناک حملے کئے جنہوں نے امریکی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اگرچہ مرنے والے سوا دو سو انسانوں میں امریکی درجن بھر ہی تھے اور زخمی ہونے والے ہزاروں میں مگر اسے نائن الیون کی اولین ریہرسل کہا جا سکتا ہے۔

 اس کے بعد ان لوگوں نے افغانستان کو اپنی جہادی سرگرمیوں کیلئے کس طرح اپنی آماجگاہ بنایا اور طالبان حکومت نے ان کو کس طرح ڈھال فراہم کئے رکھی۔ نائن الیون کا بدترین سانحہ کیسے رونما ہوا تورا بورا کے منظر نامے سے گزر کر ہم کابل کے درختوں میں گھرے ایک محفوظ تین منزلہ مکان کی بالکونی کا نظارہ کر سکتے ہیں کہ 31جولائی کے روز امریکی ڈرون میزائل بن کر کس طرح القاعدہ کے موجودہ امیر 71سالہ ایمن الظواہری کو ٹکرایا ۔

القاعدہ کے امیر مصری جہادی یا دہشت گرد ایمن الظواہری کی ہلاکت کے ساتھ ہی چند سوالات اٹھ کھڑے ہوئے تھے جو آج بھی زیر بحث ہیں۔ اول: یہ کہ یہ ڈرون یا میزائل کہاں سے فائر ہوا؟ کیا یہ پاکستانی فضائی حدود سے بھی گزرا؟ دوئم: یہ کہ 2مئی 2011 کے بعد جب بن لادن کی ایبٹ آباد پاکستان میں ہلاکت ہوئی اور جون 2011 میں ایمن الظواہری کی امارت کے لئےباقاعدہ بیعت ہوئی تب سے لے کر پورے گیارہ برسوں تک یہ اتنا بڑا نامی گرامی امریکا کو مطلوب دہشت گرد جس کے سر کی قیمت امریکیوں نے 25 ملین یعنی ڈھائی کروڑ امریکی ڈالر رکھی تھی کہاں روپوش رہا۔ جبکہ افغانستان میں دو دہائیوں تک امریکا کے اتحادی افغانوں کی حکومت بھی قائم رہی؟ سوئم: یہ کہ کیا طالبان یا ان کے کسی گروپ نے اپنے مفادات کے تحت دوحا معاہدے کے برعکس حرکات پر اسے مروانے میں امریکی سکیورٹی ایجنسیوں سے کسی نوع کا تعاون کیا؟ جیسے کہ زلمے خلیل زاد نے بھی اس حوالے سے اشارہ کیا ہے۔

چہارم: کیا آنے والے دنوں میں طالبان دوحا معاہدے کے برعکس القاعدہ یا داعش کے ساتھ دست تعاون بڑھائیں گے؟ نیز کیا پاکستان کے لئے بھی اس حوالے سے مسائل پیدا ہونے والے ہیں؟ اتنی بڑی اور کامیاب کارروائی کے فوری بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے قوم سے خطاب میں جو کچھ کہا اس کا ایک ایک لفظ اس قابل تھا جو ہمارے عوام کے بھی ذہن نشین کیا جاتا لیکن ہمارے میڈیا نے اسے اس انہماک کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ بالخصوص امریکی صدر کے یہ الفاظ جن میں دوحا معاہدے کی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی خلاف ورزی کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے:

THEY WOULD NOT ALLOW AFGHAN TERRITORY TO BE USED BY TERRORISTS TO THREATEN THE SECURITY OF OTHER COUNTRIES....

اب ’دوسرے ممالک‘ میں تو امریکی ہی نہیں ہم بھی آتے ہیں اور اگر افغان سرزمین سے کوئی بھی دہشت گرد گروہ ہمارے خطے میں اس نوع کی کوئی کارروائی کرتا ہے چاہے وہ داعش یا ٹی ٹی پی ہی کیوں نہ ہو، ہمیں اس شر سے بچانے کے لئے امریکی معاونت ملنی چاہیے۔ مگر کیا کریں ہماری ذہنیت اتنی منفی ہے کہ جونہی اشرف غنی کی امریکی اتحادی حکومت کا طالبان کے ہاتھوں خاتمہ ہوا تو ہمارے تب کے احمق وزیر اعظم نے فوری یہ بیان داغنا ضروری سمجھا کہ افغانستان میں غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئی ہیں۔ خدا کے بندو کس غلامی کی زنجیریں ٹوٹی ہیں؟ الٹا وہ دن ہے اور آج کا دن افغانستان کے آزادی پسند لبرل عوام شدت پسند طالبان کی سنگینوں اور نظریہ جبر کےنیچے دبے خوف اور دہشت کی بدترین گھٹن کا شکار ہیں۔ بھوک ننگ اور مہنگائی اس کے سوا ہے اور ہمارے لئے اوپن تھریٹ جبکہ غلامی والی حکومت نے ٹی ٹی پی کے جو ساڑھے سات سو دہشت گرد پکڑ رکھے تھے، ان آزادی والوں نے آتے ہی سب سے پہلے انہیں بلاتمیز رہائی بخشی۔

بہرحال افغان عوام بالخصوص افغان خواتین کی موجودہ بدتر کسمپرسی کی زندگی، امریکی صدر بائیڈن کے لئے بھی باعث شرم و ندامت ہونی چاہیے کہ ان کی انتظامیہ نے اپنی بیس سالہ جدوجہد پر جس شتابی کے ساتھ پانی پھیرا وہ افسوسناک ہے۔ اور امریکا سے ہمدردی کی توقع رکھنے والے افغان عوام کے دکھوں کا ادراک امریکی قیادت کو ہونا چاہیے جیسے کہ بظاہر انہوں نے کہا بھی ہے کہ ہم افغان عوام کے انسانی حقوق بالخصوص خواتین اور بچوں کے حقوق کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے۔ اس کے ساتھ امریکی ڈورن ٹیکنالوجی میں جو مزید ترقی وبہتری آئی ہے یہ خوش آئند ہے۔ یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ امریکی ڈرون جس بلڈنگ میں اپنے ٹارگٹ سے ٹکرایا ہے نہ اس عمارت کو کوئی نقصان پہنچا ہے اور نہ کسی بے گناہ کو کوئی خراش آئی ہے۔ حالانکہ اس دہشت گرد کی فیملی کے لوگ اس گھر میں موجود تھے کیونکہ ڈرون میں کسی نوع کا بارود نہیں تھا بلکہ 6عدد تیز بلیڈ استعمال ہوئے ہیں۔

پاکستان کا یہ موقف بھی درست ثابت ہوا ہے کہ ڈرون نہ تو پاکستان سے اڑا نہ ہی اس کی فضائی حدوں استعمال ہوئی کیونکہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ کرغستان سے اڑا۔ رہ گئے طالبان تو انہوں نے عہد شکنی پر بجائے شرمندگی کے جو دوحا ایگریمنٹ میں طے کردہ ذمہ داریوں میں صریحاً کوتاہی کی صورت روا رکھی گئی ہے، الٹا امریکا کو کوسا ہے کہ اس نے ان کی سرزمین پر یہ کارروائی کیوں کی ہے۔ اگر آئندہ ایسے ہوا تو وہ اس کا ردعمل دیں گے۔ طالبان جو بھی وعدے وعید کر چکے ہیں انہیں چاہیے تھا کہ وہ ان کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ملک کی بدانتظامی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی، تباہ حال معیشت اور اپنے غریب عوام کی بھوک ننگ کا سوچیں۔ ہمارے عوام کوبھی اس حقیقت کا علم ہونا چاہیے کہ اگرچہ امریکا نے القاعدہ کی کمر بڑی حد تک توڑ دی ہے اور ایمن الظواہری جیسے دہشت گرد کو کسی بڑی کارروائی کرنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا لیکن اس شخص کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابی قرار دی جائے گی۔ کیونکہ یہ شخص کسی طرح بھی اسامہ بن لادن سے کم خطرناک نہیں تھا۔ بلکہ بن لادن اگر ٹیرر کا چہرہ تھا تو الظواہری اس کا ماسٹر مائنڈ، بن لادن کے پاس پیسےاور شخصیت کا کرزمہ تھا تو ایمن الظواہری ایک ایسا توانا و مستعد آپریشنل برین تھا جو پلاننگ سٹرٹیجی اورتنظیمی صلاحیتوں سے مالا مال تھا۔ یہ وہ منصوبہ ساز تھا جو بشمول داعش، جہاد اسلامی، حماس اور طالبان وغیرہ سب کو ایک طرح سے قریب لانے اور جوڑ کر رکھنے کی مہارت و صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی بے چین روح جعلی پاسپورٹس پر پوری دنیا میں اپنے جال بچھانے کے لئے پھرتی رہتی تھی۔

پچھلے کئی برسوں میں وہ کبھی ہلمند کے پہاڑوں میں چھپ جاتا تھا تو کبھی بھیس بدل کر آبادیوں میں پہنچ جاتا تھا۔ اپنے وڈیو خطاب میں بھی اسے کمال کی مہارت تھی۔ سب سے بڑی جمہوریت کو زچ کرتے ہوئے مسکان جیسی برقع پوش کے لئے شاعری کرنا بھی نہیں بھولتا تھا۔ وہ جس طرح سب کو پیچھے چھوڑ کر بن لادن کی امارت پربیٹھا اسی طرح اپنے بعد کے لئے اپنے ایک مصری ٹیرر سیف العادل کو وہاں بٹھا کر گیا ہے۔ مصری عدالت نے 1997 سے اس کی وحشت اور انسانی تباہ کاریوں پر اسے سزائے موت سنا رکھی تھی۔ تورا بورا میں بھی یہ مرتے مرتے بچ نکلا تھا لیکن مرنے والے ہزاروں معصوموں کی آہوں نے بالآخر اس کی آہ بھی نکلوا دی ہے۔ کاش عظیم مصری صدر انور سادات کا قاتل یہ تیز ذہن سید قطب کی کتابیں پڑھ کر موت کے اندھیرے بانٹنے کی بجائے قاہرہ یونیورسٹی کی تعلیم پر اکتفا کرتا اور ایک سرجن ڈاکٹر کی حیثیت سے آنکھوں کی بصیرت و بصارت یا روشنی بانٹتا۔