پیمرا نے اے آر وائی کا لائسنس منسوخ کردیا
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے رات دیر گئے اے آر وائی نیوز کا آپریٹنگ لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ اس سے قبل وزارت داخلہ نے چینل کی سیکیورٹی کلیئرنس واپس لے لی تھی۔ اس طرح ٹی وی کی مستقل بندش کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔
قبل ازیں ایک نوٹیفکیشن میں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ 'ایم/ایس اے آر وائی کمیونکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ (اے آر وائی نیوز) کو جاری کیا گیا این او سی ایجنسیوں کی جانب سے منفی اطلاعات کی بنیاد پر فوری طور پر اور اگلے احکامات تک منسوخ کر دیا گیا ہے‘۔ پیمرا نے یہ فیصلہ اپنے 172ویں اجلاس کے دوران کیا جس کی صدارت دوبارہ تعینات ہونے والے چیئرمین سلیم بیگ نے کی۔
ریگولیٹری اتھارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ سلیم بیگ نے تین دیگر اراکین کی موجودگی میں اجلاس کی صدارت کی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اور سیکریٹری داخلہ سمیت چار اراکین ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔
آپریٹنگ لائسنس کی تجدید کے بارے میں تفصیلی معلومات اور پس منظر کے بعد اجلاس کے ورکنگ پیپر میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ نے دس اگست کے خط کے ذریعے ابتدائی طور پر اے آر وائی کمیونیکیشن لمیٹڈ کے سیٹلائٹ ٹی وی لائسنس کی تجدید کے لیے این او سی/ سیکیورٹی کلیئرنس دی تھی۔ تاہم وزارت نے میسرز اے آر وائی کمیونیکیشن لمیٹڈ (اے آر وائی نیوز) کے حوالے سے 11 اگست 2022 کے ایک خط کے ذریعے این او سی واپس لے لیا ہے۔
وزارت داخلہ کے اس اقدام کے پیش نظر اور اے آر وائی کمیونیکیشن لمیٹڈ کی جانب سے لائسنس کی مزید 15 سال کی مدت کے لیے تجدید کی درخواست پر عمل نہیں ہوسکے گا۔ چیئرمین پیمرا اور ڈی جی طاہر شیخ دونوں نے اجلاس کے نتائج کے حوالے سے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ تاہم ذرائع نے تصدیق کی کہ اتھارٹی نے وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجے گئے نوٹیفکیشن کی منظوری دے دی ہے اور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹر اب ملک بھر میں چینل کی نشریات کو قانونی طور پر بند کر سکتا ہے۔
تاہم کراچی سمیت کئی شہروں میں جمعہ کی شب بھی اے آر وائی کی نشریات جاری رہیں کیونکہ اتھارٹی نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔ نیوز چینل کو بند کرنے کے فیصلے کو بورڈ میں ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔
اے آر وائی انتظامیہ نے پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹ ورک کو وفاقی حکومت کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام 'نیوز چینل سے وابستہ 4ہزار سے زیادہ میڈیا کارکنوں کے معاشی قتل' کے مترادف ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کو عدالتوں میں لے جایا جائے گا کیونکہ یہ بغیر کسی نوٹس کے جاری کیا گیا۔
ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کے صدر اظہر عباس نے اسے 'ضرورت سے زیادہ اقدام' قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات کبھی کام نہیں آئے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فیصلہ فوری واپس لے۔