سلمان رشدی قاتلانہ حملہ میں شدید زخمی، حالت نازک

  • ہفتہ 13 / اگست / 2022

مصنف سلمان رشدی کو جمعے کے روز نیویارک میں حملے کے بعد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا آپریشن ہؤا ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔

پولیس کے مطابق حملہ آور نے سلمان رشدی کی گردن پر وار کیے ہیں۔ اس وقت وہ ایک مقامی انسٹی ٹیوٹ میں لیکچر دینے والے تھے۔

اسی کی دپہائی میں ’شیطانی آیات‘ نام کا ناول لکھنے پر ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے قتل کرنے کا فتوی جاری کیا تھا۔ 1989 میں اس فتوی کے بعد سے رشدی شدید حفاظتی حصار میں زندگی گرار رہا تھا۔

سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائل نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بذریعہ ای میل مطلع کیا ہے کہ ان کے بارے میں اچھی خبر نہیں ہے۔ سلمان رشدی کی ایک آنکھ ضائع ہو سکتی ہے اور اس حملے میں ان کے بازو کی اعصابی نسیں کٹ گئی ہیں اور چاقو کے وار سے جگر کو نقصان پہنچا ہے۔

اس سے قبل انہوں نے برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا تھا کہ ’ رشدی سرجری کے عمل سے گزر رہے ہیں‘۔ ریاست نیویارک کی پولیس کے ایک ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ پچھتر سالہ سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے کے شبہ میں ایک  24 سالہ ہادی ماتر کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مشتبہ شخص کا تعلق ریاست نیوجرسی کے علاقے فئیر ویو سے ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ایک شخص سلمان رشدی کی تقریر کے وقت دوڑ کر سٹیج پر چڑھا اور سلمان رشدی پر حملہ کر دیا۔ اس نے چاقو سے اس کی گردن اور جسم کے دیگر حصوں پر وار کئے۔  عینی شاہد کے مطابق حملہ آور نے 10 سے 15 مرتبہ وار کیا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ سلمان رشدی کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کچھ واضح نہیں تھا۔ سٹیج پر تقریب کے میزبان یا ماڈریٹر پر بھی حملہ کیا گیا اور ان کو  پولیس کے مطابق سر پر معمولی چوٹ آئی ہے۔

اخبار گارڈین نے بھی پولیس ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ سلمان رشدی کی گردن میں چھرے سے وار کیا گیا ہے۔ ایک عینی شاہد ربی چارلس سیونر نےایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حملہ آور سٹیج کی طرف بھاگا اور اس نے مسٹر رشدی پر ہلہ بول دیا۔ پہلی نظر میں تو آپ کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن کچھ سیکنڈ کے بعد واضح ہو گیا کہ ان کو مارا جا رہا ہے

ایک اور عینی شاہد کیتھلین جونز نے کہا ہے کہ حملہ آور نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور چہرے پر سیاہ ماسک چڑھایا ہوا تھا۔ ہمھیں لگا کہ جیسے یہ کوئی ڈرامہ کیا جا رہا ہے یہ بتانے کے لیے کہ مصنف اب بھی تنازعات کی زد میں ہیں۔ لیکن چند سیکنڈ میں واضح ہو گیا کہ یہ ڈرامہ نہیں تھا۔

سلمان رشدی کو اس موقع پر کچھ لوگوں نے اپنے حصار میں لے لیا اور بظاہر ان کے سینے کی طرف خون کی سپلائی کے لیے ان کی ٹانگوں کو اوپر اٹھایا۔ حملے کے جگہ پر موجود لوگوں کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

سلمان رشدی کی کتاب ’ سیٹینک ورسز‘ 1988 میں شائع ہوئی تھی۔ مسلمان اس کتاب کو اہانت آمیز سمجھتے ہیں۔ ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے رشدی کے قتل کا ایک فتوی جاری کیا تھا۔

سلمان رشدی کو قتل کرنے والے کے لیے تیس لاکھ ڈالر بطور انعام دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔