ٹرمپ کے گھر سے ایف بی آئی نے خفیہ دستاویزات برآمد کرلیں

  • اتوار 14 / اگست / 2022

امریکی محکمۂ انصاف نے تصدیق کی ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران ایف بی آئی نے 20 بکسوں پر مشتمل خفیہ دستاویزات کے 11 سیٹ قبضے میں لیے ہیں۔

محکمۂ انصاف کے مطابق سابق صدر سے جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی سمیت دیگر جرائم کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ وائس آف امریکہ کے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ فار سدرن ڈسٹرکٹ آف فلوریڈا نے جمعے کو ٹرمپ کے اعتراض کے باوجود سربمہر وارنٹ کھول دیا۔ وارنٹ کے مطابق سابق صدر سے جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں حائل ہونے اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت کے شبہے میں تحقیقات کی جار ہی ہیں۔

یہ چھاپہ اس تفتیشی کارروائی کا حصہ تھا جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ سابق صدر جنوری 2021 میں اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کی معلومات کے علاوہ کچھ حساس نوعیت کا ریکارڈ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

وارنٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سابق صدر کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران ایف بی آئی نے دستاویزات کے 20 سے زائد ڈبے ضبط کر لیے ہیں۔ ان میں سے کچھ ڈبوں پر 'ٹاپ سیکریٹ'، 'سیکریٹ' اور 'کانفیڈینشل' لکھا ہوا ہے۔ کچھ مواد پر 'پوٹینشل پریذیڈینشل سیکریٹ'، 'متفرق خفیہ دستاویزات،' لکھا ہوا ہے جن میں ہاتھ سے لکھے ہوئے کچھ نوٹس اور تصاویر بھی شامل ہیں۔

ٹرمپ کی رہائش گاہ پر چھاپے کے وارنٹ کی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے منظوری دی تھی, اُنہوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ محکمۂ انصاف ایسے فیصلے کو آسان نہیں سمجھتا۔ بلکہ کوشش کرتا ہے کہ بغیر کسی ناخوش گوار واقعے کے تلاش کے ایسے متبادل ذرائع استعمال کرتا ہے جس کے ذریعے صرف اُن جگہوں کی تلاشی لی جائے، جہاں سے مطلوبہ مواد ملنے کی اُمید ہو۔

ایک بیان میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ سابق صدر اوباما اپنے ساتھ 33 ملین صفحات پر مشتمل کلاسیفائیڈ دستاویزات لے گئے تھے، ان میں سے کتنی جوہری ہتھیاروں سے متعلق تھیں؟ جواب یہ ہے کہ 'بہت سی'۔ امریکی نیشنل آرکائیو نے سابق صدر ٹرمپ کے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے فوری بیان جاری کیا کہ اوباما کے آفس چھوڑتے ہی تمام حساس نوعیت کی دستاویزات قبضے میں لے لی گئی تھیں۔