آزادیِ اظہار کو عوامی رابطہ مہم کا حصہ بناؤں گا: عمران خان

  • سوموار 15 / اگست / 2022

سابق وزیر اعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ صحافیوں نے دھمکیوں، پُرتشدد حملوں اور گرفتاریوں کا سامنا کیا ہے۔ آزاد میڈیا اور آزادیِ اظہار کے معاملے کو آئندہ ہفتے سے اپنی ملک گیر عوامی رابطہ مہم کا حصہ بناؤں گا۔

عمران خان نے ایک ٹوئٹ بیان میں کہا کہ دو صحافیوں ارشد شریف اور صابر شاکر کو اپنی جان بچانے کے لئے پاکستان چھوڑنا پڑا۔ میں اپنی قوم کو امپورٹڈ حکومت اور ریاستی مشینری کی جانب سے ان میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ایک نہایت غیر معمولی مہم کے بارے میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں جو پی ٹی آئی اور میرا بیانیہ عوام تک پہنچاتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض، سمیع ابراہیم اور ایاز امیر جیسے دیگر صحافیوں نے دھمکیوں، پُرتشدد حملوں اور گرفتاریوں کا سامنا کیا۔ میڈیا اور آزادیِ اظہار کے معاملے کو میں آئندہ ہفتے سے اپنی ملک گیر عوامی رابطہ مہم کا حصہ بناؤں گا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر اپنے خلاف یہ ہتھکنڈے کامیاب ہونے کی اجازت دی تو آمریت کے وہی تاریک دن لوٹ آئیں گے جن کے دوران آزاد میڈیا اور حُرّیتِ اظہار کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی تھی۔ آئین کی روح کے مطابق آزاد میڈیا اور اظہار کی آزادی کے بغیر تو حقیقی آزادی ممکن ہی نہیں۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز کہا تھا ہے کہ میں کسی ملک کا مخالف نہیں۔ امریکا سے دوستی چاہتا ہوں، غلامی نہیں۔ موجودہ حکومت کے خاتمے اور الیکشن تک جدوجہد جاری رکھتے ہوئے عوام میں جاؤں گا۔

ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے کہا تھا ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ میں نے عوام میں نکلنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے لوگوں کے پاس جاؤں گا اور اگلے ہفتےپنڈی جلسہ کروں گا، اس کے بعد کراچی میں جلسہ کروں گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں چاہوں کہ ملک کی فوج کمزور ہو، ملک میں مسائل ہیں اور میں کیوں چاہوں گا کہ فوج کمزور ہو۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے شہباز شریف کی جانب سے میثاق معیشت کی پیشکش پر ردعمل میں کہا کہ میثاق معیشت ایک احمقانہ خیال ہے۔ سیاسی جماعتیں سیاسی فریم ورک پر اکٹھی ہوتی ہیں، معاشی فریم ورک صرف کمیونسٹ نظام میں ایک ہوتا ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے ٹوئٹ میں مزید کہا کہ کوئی بھی ذی ہوش شخص کرائم منسٹر کی حکومت کی تباہ کن معاشی پالیسیوں کی حمایت نہیں کر سکتا۔