پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہوگا: شہباز شریف کے لئے مشکل فیسلہ کرنے کا وقت آگیا

  • منگل 16 / اگست / 2022

موجودہ حکومت کے لیے سب سے مشکل فیصلہ کرنے کا وقت قریب آرہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو جلد ہی فیسلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کا اگلا آرمی چیف کس کو مقرر کرنا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما اور وفاقی کابینہ کے رکن نے پس پردہ ہونے والی گفتگو کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اگست کے آخر تک تقرری پر بات چیت شروع کرسکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ستمبر کے وسط تک کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ وہ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل حکمراں اتحاد میں شامل اپنے اتحادیوں سے مشورہ کریں گے، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ پارٹی شاید اس فیصلے کا حصہ نہیں بننا چاہے گی کیونکہ یہ فیصلہ کرنا وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔

آئین کے آرٹیکل 243 (3) کے مطابق صدر، وزیر اعظم کی سفارش پر سروسز چیفس کا تقرر کرتا ہے۔ رولز آف بزنس کا شیڈول 5 اے وزیر اعظم کو آرمی چیف کی منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے کیسز کی وضاحت کرتا ہے جس کے مطابق فوج میں لیفٹیننٹ جنرل یا دفاعی سروسز میں اس سے مساوی عہدے پر تقرر وزیر اعظم، صدر سے مشاورت کے بعد کریں گے۔

البتہ اس بات کی قانون کی کتاب میں زیادہ تفصیل سے وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ عمل کس طریقے سے کام کرتا ہے، نہ ہی کسی رینک کے افسر کی ترقی کے لیے اس مبہم شرط کے سوا کوئی خاص معیار مقرر کیا گیا ہے کہ فوج کی قیادت کے لیے منتخب جنرل ایک کور کی کمان کر چکا ہو۔

روایت یہ ہے کہ جنرل ہیڈکوارٹرز چار سے پانچ سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کی فہرست، ان کی ذاتی فائلوں کے ساتھ وزارت دفاع کو بھیجتا ہے جو انہیں وزیرِ اعظم کے پاس بھیجتی ہے تاکہ وہ جس افسر کو اس عہدے کے لیے موزوں تصور کریں اسے منتخب کریں۔ قانونی طور پر وزارت دفاع، وزیر اعظم کو نام پیش کرنے سے قبل ناموں کی جانچ کر سکتی ہے لیکن ایسا عام طور پر نہیں ہوتا اور وزارت محض ایک ڈاک خانے کے طور پر کام کرتی ہے۔

اس کے بعد جرنیلوں کی قابلیت پر وزیر اعظم کے دفتر یا کابینہ میں غور کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں وزیر اعظم سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ساتھ ’غیر رسمی مشاورت‘ کرتے ہیں۔ ان کے اپنے تاثرات بھی اہمیت رکھتے ہیں اور وہ اپنے قریبی مشیروں سے بھی اس حوالے سے بات چیت کرتے ہیں۔

معاملے پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین 'ادارہ جاتی سفارش' کا بھی ذکر کرتے ہیں جو وزیر اعظم کو کسی خاص امیدوار کے بارے میں دی جاتی ہے، تاہم کم از کم دو سابق دفاعی سیکریٹریز نے اس دعوے کو مسترد کیا۔ ان کا اصرار ہے کہ صرف سبکدوش ہونے والے آرمی چیف وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ’غیر رسمی مشاورت‘ کے دوران اپنی ذاتی رائے دیتے ہیں کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ کسے ان کے بعد ان کی جگہ یہ عہدہ سنبھالنا چاہیے۔

1972 سے اب تک ملک کے دس آرمی چیفس میں سے پانچ کا موجودہ وزیراعظم کے بڑے بھائی میاں نواز شریف نے الگ الگ دور میں بطور وزیراعظم تقرر کیا۔ نواز شریف کو بارہا ایسے افسران کے تقرر پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا جنہیں وہ ’اپنا بندہ‘ کے طور پر دیکھتے تھے۔  لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی تقرر ان کے لیے اچھا نہیں رہا۔

اس تجربے کے سبب شریف برداران یہ سمجھنے لگے ہیں کہ شاید وہ یہ سب کبھی بھی ٹھیک نہیں کر پائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنماؤں نے پس پردہ کیے گئے انٹرویوز میں کہا کہ انہوں نے کم و بیش یہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی 'مثالی' امیدوار کی تلاش کے لالچ کا شکار ہونے کے بجائے وہ صرف سینیارٹی کی بنیاد پر تقرری کریں گے۔ پارٹی کے ایک رہنما نے کہا کہ پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ معاملات کیا کروٹ لیتے ہیں، ہم کم از کم اس بات پر مطمئن ہوں گے کہ کوئی ذاتی انتخاب نہیں تھا۔

تاہم پارٹی کے اندر ایک اور گروپ کا قیاس ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف محض موجودہ سربراہ کے مشورے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر کے آخری ہفتے میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ آرمی چیف کی تقرری تین سال کے لیے ہوتی ہے لیکن جنرل باجوہ کو 2019 میں تین سال کی توسیع دے دی گئی تھی۔

61 سالہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک اور مدت کے لیے اہل ہوسکتے ہیں، اس تکنیکی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ موجودہ فوجی سربراہ مدت میں ایک اور توسیع کے خواہاں ہیں یا اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم فوجی ذرائع کے مطابق جنرل باجوہ نے اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بتایا ہے کہ وہ نومبر میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ موجودہ آرمی چیف واقعی ریٹائر ہو رہے ہیں۔

آرمی چیف ہی واحد وہ فور اسٹار عہدہ نہیں جو نومبر میں خالی ہوگا بلکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا بھی اسی وقت ریٹائر ہوجائیں گے۔ فور اسٹار دو جرنیلوں کے بیک وقت تقرر سے حکومت کو فوج کا سپہ سالار چننے کے لیے تھوڑی گنجائش میسر آئی ہے کہ وہ اعلیٰ افسران میں زیادہ پریشانی اور بے چینی پیدا کیے بغیر سپہ سالار کا انتخاب کر لے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت چھ سینئر لیفٹیننٹ جنرلز میں سے چار ایک ہی بیچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لاٹ کی سینیارٹی کا تعین تکنیکی بنیادوں پر کیا جاتا ہے یعنی پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ان کے تربیتی دنوں سے انہیں تفویض کردہ پی اے نمبر کے ذریعے اس کا تعین کیا جاتا ہے۔